''سرکاری املاک''

''سرکاری املاک''

13مئی1940 کو برطانیہ کی پارلیمنٹ کے سامنے اس وقت کے وزیر اعظم سر ونسٹن چرچل نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اپنے ملک کو پیش کرنے کے لیے میرے پاس سوائے لہو،جدوجہد، آنسو اور پسینے کے اور کچھ نہیں ہے یعنی میں اپنے پیارے وطن کو اس کے سوا اورکیا دے سکتا ہوں؟اگر غور کیجیے تو کہنے کو تویہ ایک چھوٹا سا جملہ ہے لیکن اپنے اندر کتنی گہری معنویت لیے ہوئے ہے اگر وطن کا کوئی بیٹا اپنے پیارے وطن کے لیے اپنا لہو بہا سکتا ہے اپنی زندگی وطن کی تعمیر و ترقی کے لیے وقف کرسکتا ہے اسے اپنے آنسو اور پسینہ دے سکتا ہے تو پھر اور کیا چاہیے ؟ایک بہت پرانی تقریر کا تاریخی جملہ ذہن میں اس لیے بار بار آرہا ہے کہ ہم بھی ایک عدد وطن عزیز کے مالک ہیں ہم بھی اپنے وطن کے بیٹے ہیںکیا اس طرح کی سوچ ہم بھی اپنے پیارے وطن کے لیے رکھتے ہیں؟14اگست کی آمد آمد ہے وطن عزیز میں ہر سال جشن آزادی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے آزادی ایک ایسی نعمت خداداد ہے جس کا جتنا بھی شکرادا کیا جائے کم ہے خوشی منانے کے اپنے اپنے انداز ہوتے ہیں۔گاڑیوں اور موٹرسا ئیکلوں، کو پاکستان کے جھنڈوں سے سجایا جاتا ہے آزادی کی مبارکبادیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا خوشگوار سلسلہ چلتا رہتا ہے لیکن کتنا اچھا ہو اگر ہم آزادی کی خوشیاں مناتے ہوئے اپنے ساتھ ایک عہد بھی کرلیں کہ آج کے بعد ہم نے اپنے وطن کو اور اس کی ہر چیز کو اپنا سمجھنا ہے۔ جس طرح ہم اپنی ذاتی چیزوں کی حفاظت کرتے ہیں ان سے محبت کرتے ہیں انہیں اپنا سمجھتے ہیں اسی طرح وطن عزیز کی ہر چیز کو اپنا سمجھیں گے۔ اس کی ہر چیز کی حفاظت اپنی جان سے بڑھ کر کریں گے ۔ ہمارے یہاں وطن کی ہر چیز کے لیے ''سرکاری'' اصطلاح استعمال ہوتی ہے جیسے سرکاری عمارت، سرکاری ہسپتال، سرکاری سکول ، سرکاری کالج اورسرکاری نلکاوغیرہ !ہم اپنی سوچ کب بدلیں گے کب اپنے وطن کو اپنا گھر سمجھیں گے ؟آپ نے ایسی بہت سی سرکاری عمارتیں دیکھی ہوں گی جن کی دیواروں کے پلستر اکھڑ چکے ہوتے ہیں وہاں پانی کے نلکے بہتے رہتے ہیں انہیں کوئی بند کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا اگر پنکھا چل رہا ہے تو چلتا رہے ٹیوب لائٹ آن ہے تو آن رہے پائپ ٹوٹے ہوئے ہیں پانی بہہ رہا ہے مگرعمارت کا مکین یہ سوچتا ہے کہ میں اس کی مرمت کیوں کروں یہ تو سرکاری عمارت ہے بہت سے سرکاری دفاتر میں بجلی کے ہیٹر چائے پکانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، دن کی روشنی میں ٹیوب لائٹس جل رہی ہوتی ہیں ،بہت سے سرکاری دفاتر سرکاری سکولوں اور کالجوں میں آپ ایسا فرنیچر دیکھ سکتے ہیں جو تھوڑی سی مرمت کے بعد استعمال میں لایا جاسکتا ہے لیکن کوئی توجہ نہیں دیتا، ٹوٹے پھوٹے فرنیچر کے ڈھیر لگے ہوئے ہیںٹوٹی ہوئی کرسیاں اور میزیں زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ ہمارا کوئی پرسان حال نہیں ہے سرکار کی ہر چیز مظلوم ہے ! آئیے ایک نظر سرکاری فون پر بھی ڈال لیتے ہیں یہ وہ نعمت غیر مترقبہ ہے جسے دیکھتے ہی سب کے ہاتھوں میں کھجلی ہونے لگتی ہے انگلیاں بے تابی سے نمبر ڈائل کرنے لگتی ہیں۔ سب ضروری باتیں اور پیغامات سرکاری فون کو دیکھ کر یاد آجاتے ہیں۔ سرکاری اشیاء میں سب سے زیادہ مظلوم چیز سرکاری گاڑی ہے ڈرائیور سبزی گوشت کے لیے بھگا رہا ہے بیگم صاحبہ نے رشتہ داروں کے ہاں جانا ہے ہمارے خوبصورت مال روڈ پر جو بچے گاڑیوں کو دو پہیوں پر بھگاتے دیکھے جاتے ہیں ۔ان کے پاس ابا جان کی سرکاری گاڑی ہی ہوتی ہے اب ذرا یہ منظر بھی ملاحظہ کیجیے یہ ہم پہلے بھی کسی کالم میں لکھ چکے ہیں !جرمنی کی ایک کشادہ سڑک پر ایک شاندار گاڑی ایک سو بیس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بھاگ رہی ہے ڈرائیور اچانک گاڑی کی رفتار کم کرتا ہے گاڑی فٹ پاتھ کے ساتھ کھڑی کرکے نیچے اترتا ہے پھر فٹ پاتھ پر پڑے ہوئے ایک چھوٹے سے گتے کے ڈبے کو اٹھا کر ساتھ لگے ہوئے ڈسٹ بن میں ڈال دیتا ہے ساتھ بیٹھا ہوا پاکستانی متعجب ہو کر پوچھتا ہے آپ نے اس چھوٹے سے ڈبے کے لیے اتنی زحمت کی ٹریفک بہت زیادہ ہے کوئی حادثہ بھی پیش آسکتا تھا۔ اسے جو جواب سننے کو ملتا ہے وہ بھی پڑھ لیجیے۔ جرمنی میرا ملک ہے اگر میں اس کا خیال نہیں رکھوں گا تو کون خیال رکھے گا ۔ دوسرا منظر بھی ملاحظہ کیجیے۔ یہ امریکہ ہے ایک جدید ماڈل کی نئی نویلی کار بھاگی چلی جارہی ہے اچانک ڈرائیور ایک اجنبی سڑک پر گاڑی ڈال دیتا ہے ساتھ بیٹھا ہمارا ہم وطن اس امریکی سے پوچھتا ہے آپ نے راستہ کیوں بدل لیا اس طرح تو راستہ بہت لمبا ہوجائے گا ہمیں بہت دیر ہو جائے گی ۔ امریکی جواب دیتا ہے تھوڑی دیر اگر دیر سے پہنچیں تو کیا فرق پڑتا ہے دراصل میں نے انکم ٹیکس جمع کروانا ہے جو بہت ضروری ہے۔ یہ انکم ٹیکس تو بعد میں بھی جمع کروایا جاسکتا تھا؟ایسا نہیں ہے اگر اس طرح ہر امریکی سوچنا شروع کردے اور انکم ٹیکس یا دوسرے ٹیکسز جمع کروانے میں کوتاہی کرے تو ہمارا پیار ا ملک کیسے چلے گا ؟ ان دونوں واقعات میں جو بات سب سے اہم اور بنیادی ہے وہ یہ ہے کہ کسی نے بھی سرکاری کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ جرمن اور امریکن دونوں نے یہی کہا کہ یہ ملک ہمارا ہے ہم نے اس کے نظام کو کامیاب بنانا ہے یہ ایک سوچ ہے ایک فکر ہے جو ہم نے اپنانی ہے سب سے پہلے ہم نے اپنے وطن کو اپنا گھر سمجھنا ہے یہ جاننا ہم سب کے لیے بہت ضروری ہے کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں یہ آزادی جیسی نعمت جو ہمیں اللہ پاک نے عطا کی ہے آج اگر ہم اسے اپنا نہیں سمجھیں گے تو اس سے بڑی بے قدری کیا ہوگی ؟۔

متعلقہ خبریں