70برس پرانا پاکستان

70برس پرانا پاکستان

کابینہ کا اجلاس تھا، اے ٹی سی نے قائد اعظم سے پوچھا: سر! اجلاس میں چائے دی جائے یا کافی ؟قائداعظم نے چونک کر سر اُٹھایا اور سخت لہجے میں فرمایا: یہ لوگ گھروں سے چائے' کافی پی کر نہیں آئے؟ اے ٹی سی گھبرا گیا۔ آپ نے بات جاری رکھی' جس وزیر نے چائے ' کافی پینی ہو وہ گھر سے پی کر آئے یا پھر واپس گھر جا کر پیئے' قوم کا پیسہ قوم کے وزیروں کے لیے نہیں۔ اس حکم کے بعد جب تک وہ برسراقدار رہے کابینہ کے اجلاسوں میں سادہ پانی کے سوا کچھ نہ پیش کیا گیا۔ گورنر جنرل ہاؤس کے لیے ساڑھے اڑتیس روپے کا سامان خریدا گیا ' آپ نے حساب منگوا لیا۔ کچھ چیزیں فاطمہ جناح نے منگوائی تھیں' حکم دیا کہ یہ پیسے ان کے اکاؤنٹ سے کاٹے جائیں۔ دو تین چیزیں ان کے ذاتی استعمال کی تھیں' فرمایا: یہ پیسے میرے اکاؤنٹ سے لے لیے جائیں۔ باقی چیزیں گورنر جنرل ہاؤس کے لیے تھیں کہا ٹھیک ہے یہ رقم سرکاری خزانے سے ادا کر دی جائے' لیکن آئندہ احتیاط کی جائے۔ برطانوی بادشاہ کا بھائی ڈیوک آف السسٹر پاکستان کے دورے پر آ رہا تھا، برطانوی سفیر نے سفارش کی آپ خوش آمدید کہنے ایئرپورٹ پر چلے جائیں' ہنس کر کہا میں تیارہوں لیکن جب میرا بھائی لندن جائے گا تو پھر برٹش کنگ کو بھی اس کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ آنا پڑے گا۔ ایک روز اے ٹی سی نے ایک وزیٹنگ کارڈ سامنے رکھا' آپ نے کارڈپھاڑ کر پھینک دیا اور فرمایا کہ اسے کہو آئندہ مجھے شکل نہ دکھائے۔ یہ شخص آپ کا بھائی تھا، اس کا قصور صرف یہ تھا کہ اس نے اپنے نام کے نیچے برادر آف قائد اعظم محمد علی جناح' گورنر جنرل پاکستان لکھوا دیا تھا۔زیارت میں سردی پڑ رہی تھی ' کرنل الٰہی بخش نے نئے موزے پیش کر دیے۔ دیکھے تو بہت پسند فرمائے، ریٹ پوچھا، کرنل نے بتایا کہ 2روپے۔ گھبرا کر بولے: کرنل یہ تو بہت مہنگے ہیں' اس نے ہنس کر بتایا کہ سر یہ تو آپ کے اکاؤنٹ سے خریدے گئے ہیں، فرمایا: میرا اکاؤنٹ بھی تو قوم کی امانت ہے' ایک غریب ملک کے سربراہ کو اتنا عیاش نہیں ہونا چاہیے۔ موزے لپیٹے اور کرنل الٰہی بخش کو واپس کرنے کا حکم دے دیا۔ زیارت میں ہی ایک نرس کی خدمت سے متاثرہوئے اور اس سے پوچھا: بیٹی میں تمہاری کیا خدمت کر سکتا ہوں؟ نرس نے عرض کی سر میں پنجاب سے ہوں' میرا سارا خاندان پنجاب میں ہے' میں اکیلی کوئٹہ میں نوکری کر رہی ہوں' آپ میری ٹرانسفر پنجاب کروا دیں' اداس لہجے میں جواب دیا: سوری بیٹی! یہ کام محکمہ صحت کا ہے گورنر جنرل کا نہیں۔ اپنے طیارے میں رائٹنگ ٹیبل لگوانے کا آرڈر دے دیا، فائل وزارت خزانہ پہنچی تو وزیر خزانہ نے اجازت تو دے دی لیکن یہ نوٹ لکھ دیا کہ گورنر جنرل اس قسم کے احکامات سے پہلے وزارت خزانہ سے اجازت کے پابند ہیں۔ آپ کومعلوم ہوا تو وزارت خزانہ سے تحریری معذرت کی اور اپنا حکم منسوخ کردیا۔رہاپھاٹک والا قصہ تو کون نہیں جانتا کہ گل خان نے آپ کی گاڑی گزارنے کے لیے ریلوے کا پھاٹک کھلوا دیا۔ آپ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا ' پھاٹک بند کروانے کا حکم دیا اور فرمایا اگر میں ہی قانون کی پابندی نہیں کروں گا تو پھر کون کرے گا؟ یہ آج سے 70برس پہلے کا پاکستان تھا، وہ پاکستان جس کے سربراہ قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔ لیکن پھر ہم ترقی کرتے کرتے اس پاکستان میں آگئے جس میں پھاٹک تو ایک طرف رہے ، سربراہ مملکت کے آنے سے ایک گھنٹہ پہلے سڑکوں کے تمام سگنل بند کر دیے جاتے ہیں ' دونوں اطراف ٹریفک روک دی جاتی ہے اور جب تک شاہی سواری نہیں گزرتی ٹریفک نہیں کھلتا' جس میں سربراہ مملکت وزارت خزانہ کی اجازت کے بغیر جلسوں میں کروڑوں روپے کا اعلان کر دیتے ہیں ۔ وزارت خزانہ کے انکار کے باوجود پورے پورے جہاز خرید لیے جاتے ہیں، جس میں صدر اور وزیر اعظم کے احکامات پر سینکڑوں لوگ بھرتی کیے گئے' اتنے ہی لوگوں کے تبادلے ہوئے' اتنے ہی لوگ نوکریوں سے نکالے گئے اور اتنے ہی لوگوں کو ضابطے اور قانون توڑ کر ترقی دی گئی' جس میں موزے تو رہے ایک طرف بچوں کے مہنگے کپڑوں تک سرکاری خزانے سے خریدے گئے' جس میں آج ایوان صدر اور وزیر اعظم کا بجٹ کروڑوں اور اربوں روپے ہے جس میں ایوان اقتدار میں عملاً بھائیوں' بھتیجوں ' بھانجوں ' بہنوں ' بہنوئیوں اور خاوند کا راج رہا ، جس میں وزیر اعظم ہاؤس سے سیکرٹریوں کوفون کیا جاتاہے اور کہا جاتا ہے کہ میں صاحب کا بہنوئی بول رہا ہوں۔ جس میں امریکہ کے نائب صدر کے استقبال کے لیے پوری پوری حکومت ایئرپورٹ پرکھڑی دکھائی دیتی ہے اور جس میںچائے اور کافی تو رہی دور کابینہ کے اجلاس میں پورا لنچ اور ڈنر پیش کیا جاتا ہے اور جس میں ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس کے کچن ہر سال کروڑوں روپے دھواں بنا دیتے ہیں۔ یہ پاکستان کی وہ ترقی یافتہ شکل ہے جس میں اس وقت کروڑوں غریب لوگ رہ رہے ہیں۔ جب قائد اعظم گورنر ہاؤس سے نکلتے تھے تو ان کے ساتھ پولیس کی صرف ایک گاڑی ہوتی تھی ۔ اس گاڑی میں صرف ایک انسپکٹر ہوتا تھا اور وہ بھی غیر مسلم تھا اور یہ وہ وقت تھا جب گاندھی قتل ہو چکے تھے اور قائد اعظم کی جان کو سخت خطرہ تھا۔ قائد اعظم اس خطرے کے باوجود سیکورٹی کے بغیر روز کھلی ہوا میں سیر کرتے تھے ، لیکن آج کے پاکستان میں سربراہ مملکت ماڈرن بلٹ پروف گاڑیوں ' ماہر سیکورٹی گارڈز اور انتہائی تربیت یافتہ کمانڈوز کے بغیر دس کلومیٹر کا فاصلہ طے نہیں کر سکتے۔ ہم اس ملک میں مساوات رائج نہیں کر سکے' ہم اسے خوددار ' باوقار اور ایماندار قیادت نہیں دے سکے' ہم اسے جدید ترقی یافتہ اورپرامن ملک نہیں بنا سکے۔ لیکن ہم اسے واپس 1948ء تک تو لے جا سکتے ہیں ، کوئی ہے جو ہم سے یہ ترقی ' یہ خوشحالی اور یہ عروج لے لے اور ہمیں ہمارا پسماندہ ' غریب اور غیر ترقی یافتہ قائد کاپاکستان واپس لوٹا دے۔

متعلقہ خبریں