نوجوانوں کا عالمی دن

نوجوانوں کا عالمی دن

12اگست کو دنیا بھر میں نوجوانوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے ۔جس کا مقصد عالمی سطح پر نوجوانوں کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے ساتھ ان کو غربت اور بے روزگاری کی دلدل میں گرنے سے بچانا ہے ۔اس دن کو منانے کا مقصد نوجوانوں کے مسائل جاننا اور ان کے حل پر بحث کرنا وغیرہ ہے ۔اقوام متحدہ نے 1998ئمیں پہلی بار عالمی یوم نوجوانان منانے کی منظوری دی تھی ۔جس کے بعد اسے دنیا بھر میںمنایا جاتا ہے ۔جی ہاں صرف منایا ہی جاتا ہے اور پاکستان میں بھی اس دن کو بڑے اہتمام سے منایا جاتا ہے ۔ اس دن کو منانے سے نہ ہی دنیا بھر کے نوجوانوں کے مسائل حل ہوئے اور پاکستان میں تو نوجوانوں کے مسائل میں اضافہ ہی ہوا ہے ۔آج بھی نوجوانوں کی وہی حالت ہے جو 1998ء میں تھی ۔ہمارے ملک میں نصف آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔نوجوان ہی کسی ملک و قوم کا اصل سرمایہ اور روشن مستقبل کی امید ہوتے ہیں۔پاکستان وہ ملک ہے جس کو قدرت نے بے شمار وسائل کے ساتھ ساتھ بھرپور افرادی قوت کی دولت سے بھی نوازا ۔ اکثر نوجوان کہتے ہیں کہ پاکستان میں کیا ہے ؟ ان کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ کسی بھی حکومت کو مثالی حکمران نہیں بناتے بلکہ عام شہری بناتے ہیں ۔ہم اکثر مغرب کو سامنے رکھ کر اپنا موازنہ کر کے خود بھی پریشانی میں مبتلا ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی مایوس کرتے ہیں ۔موجودہ پاکستان ہماری وجہ سے ہے جسے ہم ہی تبدیل کر سکتے ہیں ۔ہم نوجوان ہیں ،بازو میں دم ہے اور ہمیں ہی آگے چل کر ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے ۔ہمیں ایک نظر اپنے طور طریقوں پر بھی ڈالنی چاہئے ۔ فلاں ملک میں یہ قانون ہے یا وہ قانون ہے کہنے کے لئے بے حد وقت ہے ہمارے پاس پر اپنا قانون پڑھنے اور سمجھنے کے لئے چند سیکنڈ کا وقت نہیں ،جس میں زخم سے لے کر ہوائی سفر تک کے قوانین موجود ہیں ۔ہم اپنی طرف سے کچھ نہیں کرتے ہر کام کے لیے حکومت کہ مورود الزام ٹھہراتے ہیں ۔خود کو تبدیل کریں ،ٹی وی ،فیس بک یا ٹویٹر سے کوئی تبدیلی نہیں آتی ۔پروفائل پک ، گروپ چیٹ ، اسٹیٹس اپڈیٹ کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ۔چھوٹے چھوٹے کاموں سے ابتداء کر کے ہی ایک عظیم با عزت قوم بنتے ہیں ۔ ہمارا یہ قیمتی اثاثہ ناکامی کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے ۔ وجہ کچھ بھی ،سبب کوئی بھی ہو لیکن اس ناکامی کے دو بڑے اسباب ضرور ہیں ۔ایک یہ کہ ملک میں بہتر تعلیمی سہولتوں کا فقدان ہے اور دوسری وجہ ہنر کا نہ ہونا ہے ۔ اگر ہمارے ہاں تعلیم عام ہوجائے اور طلبہ دوران تعلیم کوئی ہنر بھی سیکھ لیں تو اس ناکامی کو کامیابی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ پرانی نسل کو موجودہ نسل سے بہت سی شکایتیں ہیں ،جن میں سے اکثر بالکل درست ہیں ۔ لیکن یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ اس نئی نسل کی تربیت اور اقدارو روایات کی موثر منتقلی بھی تو پرانی نسل کی ہی ذمہ داری تھی ۔اس لئے کھلے دل سے اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کہیں اس ذمہ داری کی ادائیگی میں واقعی کوتاہی ہوئی یا نئی نسل ہے ہی اتنی ناخلف کہ اس نے خود اپنے بڑوں کی تربیت سے منہ موڑا؟ یہ ایک الگ بحث ہے ۔۔ ۔ فی الحال ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین، اساتذہ اور ساتھ ساتھ حکومت بھی ملک کے اس سب سے قیمتی اور بیش قیمت اثاثے کو ضائع ہونے سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں ۔ والدین اولاد کو زندگی کی تمام ضروریات ضرور فراہم کریں لیکن ان کی فراہمی میں اتنے مگن نہ ہوجائیں کہ آپ کے اور ان کے درمیان کمیونیکیشن گیپ اس قدر ہوجائے کہ نہ وہ آپ کی بات سمجھ سکیں اور نہ آپ ان کی سوچ پڑھ سکیں ۔ان کو اچھا انسان بنانا اور اپنے دین ،تہذیب ،اقدار کا فخریہ پابند بنانا بھی آپ ہی کی ذمہ داری ہے ۔اسی طرح اساتذہ کو بھی اپنی اصل ذمہ داری کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے ،آپ کے ہاتھ میں تازہ پرعزم اور سلیٹ کی طرح سادہ دماغ ہیں۔ آپ چاہیں تو ان کو بہترین شعوردے کر دنیا میں سینکڑوں اچھے ،ایماندار، انسانیت سے درد رکھنے والے افراد پیدا کر سکتے ہیں اور چاہیں توا ن کو بے روح ، خود غرض ڈاکٹر ،انجینئر، بے ضمیر وکیل ،صحا فی بنا سکتے ہیں ۔سب سے بڑھ کراگر والدین اور اساتذہ کو واقعی نئی نسل کی اصلاح مقصود ہے تو اس کے لئے سب سے پہلے آپ کوخود رول ماڈل بننا ہو گا ، اوصاف عالیہ کا عملی نمونہ بن کر ہی ہم اس قابل ہوتے ہیں کہ کسی کی شخصیت میں ان اوصاف کو منتقل کر سکیں ۔ ساتھ ہی حکومت کو بھی نوجوانوں کی تعمیر و ترقی اور تعلیم کے لئے سنجیدہ اقدامات پر زور دینے کی ضرورت ہے نوجوان بھی بااخلاق بن کر ، تمام تر قوانین کا علم رکھ کر، استاد کا ادب و احترام کر کے ،خودی کو پہچان کر ، یہ تمام چھوٹے چھوٹے کام کر کے ہی ایک با اخلاق ،تعلیم یافتہ اور تہذیب پرور نوجوانوں کا پاکستان عطا کریں گے ۔بس پہلا قدم اٹھانے کی ضرورت ہے جو معاشرے میں مثبت تبدیلی اور تعمیر و ترقی لا سکے گا ۔ نوجوان اگر درست سمت پر لگ جائیں تو یقین کریں یہ ملک کے لئے ایٹم بم سے بھی زیادہ موثر ہتھیار ثابت ہوں گے ۔

متعلقہ خبریں