خدما ت کا اعتراف اور بلدیاتی ادارے

خدما ت کا اعتراف اور بلدیاتی ادارے

من حیث القوم ہم مردہ پرست ہیں ، یعنی ہم کسی نابغہ شخصیت کی زندگی میں اسے وہ اہمیت دینے کو تیار نہیں ہوتے جس کا اگر چہ وہ حقدار تو ہوتا ہے مگر یہ مقام و مرتبہ ہم اس کے جدا ہونے اور دنیا سے چلے جانے کے بعد ہی اسے تفویض کر دیتے ہیں اور اپنے تئیں سوچتے ہیں کہ ہم نے بڑا کمال کر دیا ہے ۔ اس حوالے سے اردو اور پشتو کی شاعری میں کئی ایک ضرب المثل قسم کے اشعار موجود ہیں ، پشتو کے ایک شاعر نے ایسی ہی صورتحال کو الفاظ کا جامہ پہنا تے ہوئے جو بات کی ہے اس کا ترجمہ کچھ یوں بنتا ہے کہ جب میں زندہ تھا تو تم پتھروں سے مار ا کرتے تھے ۔ اب جو میں دنیا چھوڑ کر چلا گیا ہو ں تو تم میری قبر پر یادوں کے چراغ روشن مت کرو ۔ 

زہ چہ جوندے ووم تاپہ کانٹرو ویشتم
اوس م پہ قبر د یادونو ڈیوے مہ بلوہ
یہ بات اس لئے یاد آئی کہ گزشتہ روز اباسین آرٹس کونسل پشاور کے زیر اہتمام ممتاز صحافی ، دانشور اور قائد اعظم کے سوانح نگار ، جناب شریف فاروق کی یاد میں ایک تقریب کا ڈول ڈالا گیا تھا جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی کے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی تھی ، یہ تقریب خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران کے امام خمینی ہال میں منعقد کی گئی ۔ اس موقع پر ایک قرار داد کے ذریعے صوبائی وزیر بلدیات اور ضلعی و ٹائون انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ گل بہار کالونی میں جس سڑک پر جناب شریف فاروق کی رہائش گاہ واقع ہے اس سڑک کو شریف فاروق کے نام سے منسوب کرتے ہوئے شریف فاروق روڈ قرار دیا جائے اور جہاں سڑک کے ابتدائی حصے پر روزنامہ جہاد کا بورڈ نصب ہے ، وہیں شریف فاروق روڈ کی تختی نصب کی جائے۔ اس قرار داد کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا ۔ جناب شریف فاروق کی صحافتی خدمات کی ایک دنیا معترف ہے ، اور اصولی طور پر تو جس سڑک کو ان کے نام سے منسوب کرنے کی قرار داد محولہ تقریب میں منظور کی گئی ، اس سڑک کو ان کی زندگی ہی میں اگر ان کے نام کر دیا جاتا تو یقینا متعلقہ بلدیاتی ادارے کی کار کردگی کو تحسین کی نگاہ سے دیکھا جاتا ۔ مجھے یاد ہے کہ اے این پی کے دور میں پشاور کے چند چیدہ چیدہ اہل قلم اور سماجی شخصیات کی کاوشوں سے حیات آباد کی کچھ سڑکوں کو جہاں کئی نامور مرحومین کے نام سے منسوب کیا گیا تھا ، جن میں اکثر تو مرحوم ہو چکی تھی تاہم دو شخصیات ایسی تھیں جو اس وقت زندہ تھیں ، ایک تو پروفیسر طہٰ خان جبکہ دوسرے سکواش کے عالمی کھلاڑی ہاشم خان تھے ۔ اس ضمن میں محترمہ شمامہ اربا ب کے علاوہ ادباء اور شعرا جن میں سجاد بابر ، ناصر علی سید ، ڈاکٹر نذیر تبسم ، حسام حُر ، سہیل انجم ، اور راقم الحروف شامل تھے ، نے اس دور کے وزیر اعلیٰ کے مشیر ہارون بلور کو اس بات پر آمادہ کر لیا تھا اورمجھے وہ تقریب بھی یاد ہے جو پی ڈی اے کے زیر اہتمام حیات آباد میں منعقد ہوئی اور جس کے مہمان خصوصی ہارون بلور تھے ۔ اس تقریب میں ڈاکٹر نذیر تبسم اور راقم نے اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا تھا جبکہ نظامت ناصر علی سید نے کی اور اسی تقریب میں حیات آبا دکی کئی سڑکوں کو مشہور فرزندان پشاور کے ناموں سے منسوب کر کے ان کے ناموں کی تختیاںنصب کی گئی تھیں ۔چونکہ زندہ افراد کے ناموں سے سڑکوں اور شاہراہوں کو منسوب کرنے کی روایت اسی تقریب میں پڑی تھی اس لئے میں نے گزارش کی کہ بہتر ہوگا کہ جس سڑک کو جناب شریف فاروق کے نام سے منسوب کرنے کا مطالبہ ایک متفقہ قرار داد کے ذریعے سامنے آیا ہے اس سڑک کو بہت پہلے ہی ان کے نام سے منسوب کر کے وہاں تختی نصب کی جانی چاہیئے تھی ۔ بلکہ مجھے یاد آگیاکہ گل بہار ہی میں مولانا سعید الدین شیر کوٹی کے نام سے بھی اس گلی کو ان کی زندگی ہی میں منسوب کیا گیا تھا جہاں ان کی رہائش گاہ واقع ہے ، اس لئے یہ کوئی نئی روایت ہوتی نہ ہی کسی کو اس پر کوئی اعتراض کرنے کی ضرور ت محسوس ہوتی ۔ بہر حال اب تو وہ وفات بھی پا چکے ہیں اور پشاور کیلئے ان کی خدمات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں ، اس لئے کم از کم اب ان کی رحلت کے بعد ہی سہی جس سڑک کی نشاندہی کی گئی ہے اسے جناب شریف فاروق کے نام کی تختی لگا کر ان کی خدمات کا اعتراف کیا جائے ۔ بقول ڈاکٹر نذیر تبسم
استعارہ ہیں کسی شہر خموشاں کا نذیر
یہ مراشہر پشاور ، مرے مرتے ہوئے لوگ
تجویز تو یہی ہے کہ اب ہمیں یہ رویہ اختیار کر لینا چاہیئے کہ نہ صرف اپنے نامور لوگوں کے ناموں کے ساتھ شہر کی دیگر سڑکوں ، گلیوں کو منسوب کریں جنہوں نے شہر کا نام اپنے اپنے شعبوں میں اپنی کار کردگی سے روشن کیا ، بلکہ ان لوگوں کی خدمات کا بھی اعتراف کریں جو ماشا ء اللہ بقید حیات ہیں اور ان کی خدمات قابل قدر کے زمرے میں شمار ہوتی ہیں ، اس سے انہیں کم از کم اتنا احساس ضرور ہوگا کہ اس شہر کے ذمہ دار اداروں اور ان سے وابستہ افراد نے ان لوگوں کی خدمات کا اعتراف کر لیا ہے ، وگرنہ کسی کے نام سے کوئی سڑک یا شاہراہ منسوب ہو بھی جائے تو اس سے ان کو کونسا خزانہ مل جائے گا ، اور اگر یہی ادارے ان کی رحلت کے بعد یہ کام کرلیں تو منوں مٹی تلے جا سونے والوں کو کیا پتہ چل سکتا ہے کہ ان کی موت کے بعد ان کی خدمات کا اعتراف کر لیاگیا ہے ۔ اس لئے زندگی میں کسی کی خدمات کے اعتراف سے یک گونہ سکون اور خوشی کا احساس تو متعلقہ شخص کو ہو سکتا ہے اور وہ ایک احساس تفاخر کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو گا ۔
نئے سفر کیلئے فیصلے کا موقع دے
ہوا ئے شہر مجھے بولنے کا موقع دے
یہ خواہشیں ہیں انہیں کیا لئے لئے پھرنا
یہ آئینے ہیں انہیں ٹوٹنے کا موقع دے

متعلقہ خبریں