مشرقیات

مشرقیات

امام غزالی نے حکایت نقل کی ہے ۔ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ایک چھوٹی سی چڑیا کا شکار کیا چڑیا نے پوچھا آپ مجھے کیا کریں گے ؟ شکاری نے کہا تجھے ذبح کر کے تمہارا گوشت کھائیں گے ۔ چڑیا نے کہا بخدا میں نہ گوشت کی اشتہا پوری کر سکتی ہوں اور نہ بھوک دفع کر سکتی ہوں ، اس سے بہتر ہے کہ آپ مجھ سے تین حکمت کی باتیں سیکھ لیجئے اور مجھ کو آزاد کر دیجئے ۔ پہلی حکمت آپ کو اس وقت بتائو ں گی جب آپ کے ہاتھ میں ہوں گی ۔دوسری اس وقت جب درخت پر جا بیٹھوں گی اور تیسری اس وقت جب پہاڑ پر پہنچ جائوں گی ۔ شکاری نے کہا چلو پہلی بتائو ۔ اس نے کہا'' فوت شدہ چیز پر ہر گز رنج نہ کرو'' یہ سنتے ہی اس نے اس کو آزاد کر دیا ، وہ جب درخت پر جا بیٹھی تو شکاری نے کہا دوسری بتائو اس نے کہا '' نا ممکن چیز کی کبھی تصدیق نہ کرنا ۔'' یہ کہہ کر وہ پہاڑ پر جا بیٹھی اور کہنے لگی '' اے بد بخت اگر تو مجھے ذبح کرتا تو میرے پو ٹے میں تجھ کو دو بڑے موتی ملتے ، جن سے ہر ایک کا وزن بیس مثقال (تقریباً چار تولہ ) ہے ۔ '' یہ سن کر شکاری نے انگلی دانتوں تلے دبائی اور کف افسوس ملنے لگا ، پھر کہا کہ تیری حکمت کیا ہے ؟ چڑیا نے کہا تو نے پہلی دونوں حکمتیں فراموش کردیں ، اب میں تجھے تیسری کیوں بتائوں ؟ کیا میں نے تجھ سے یہ نہیں کہا کہ فوت شدہ چیز پر رنج نہ کرنا اور ناممکن چیز کی تصدیق نہ کرنا ۔ ذرا غور کر کہ یہ میرا گوشت پوست بال اور پر سب ملا کر بیس مثقال نہیں ہوں گے تو میرے پوٹے کے اندر اس کے دوموتیوں کا ہونا کیو نکر ممکن ہے ؟چڑیا نے یہ بات کہی اور اڑگئی ۔ امام غزالی فرماتے ہیں : یہ انسان کی انتہائی حرص کی مثال ہے ، حرص آدمی کو اندھا کر دیتی ہے ، چنانچہ وہ حقیقت کو دریافت نہیں کر پا تا اور ناممکن کو ممکن سمجھنے لگتا ہے ۔ چڑیا ایک معمولی اور چھوٹی سی مخلوق ہے ، لیکن اس نے حرص رکھنے والے آدمی کیلئے تین بڑی بڑی نصیحتیں کی ہیں ، جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ واقعی فوت شدہ چیز پر افسوس نہیں کرنا چاہئے اور ناممکن چیز کی بھی تصدیق نہیں کرنی چاہئے ، قدر ت نے انسان کو عقل سلیم سے نوازا ہے ، غور و فکر سے کام لینے کی ضرورت ہے اور حرص و لا لچ آدمی کو اندھا بنا دیتی ہے ۔
(ماخوذ از دیکھنا تقریر کی لذت ، ج 2ص 207)
حضرت ابن مبارک کے مکان پر ملاقاتیوں کا تانتا بندھا ہوا ہے ، لوگ جو ق در جوق آپ کی خدمت میں حاضر ہورہے ہیں ، شاید آپ کی موت کا وقت قریب آگیا ، آپ نے اپنا تمام مال واسباب آنے والوں پر تقسیم کر دیا ۔ قناعت اور توکل کا یہ عالم ہے کہ پسماندگان کے لیے کچھ بھی بچا کر نہ رکھا ، بلکہ جب آپ کے نیاز مندوں اور خادموں نے اس کی طرف متوجہ کرنا چاہا تو آپ نے فرمایا کہ ان کا نگہبان اور ان کی کفایت کرنے والا خدا ہے ۔ بیان کیا جاتا ہے کہ کچھ دیر کے لیے آ پ نے گردن جھکائی اور قرآن کریم تلاوت فرماتے ہوئے جان ، جان آفرین کے حوالے کردی ۔ ( تذکرة الا ولیاء ص142)

متعلقہ خبریں