امن 2017بحری مشقوںکا آغاز

امن 2017بحری مشقوںکا آغاز


امن 2017ء کے نام سے پاکستان بحریہ کے زیر انتظام شروع ہونے والی پانچ روزہ مشقیں جہاں پاک بحریہ کے لیے اعزاز ہیں وہاں خطے کے سمندری راستوں کی حفاظت کے حوالے سے پاکستان کی سٹریٹجک اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔ مشقوں میں امریکہ' روس' چین ' سری لنکا اور ترکی سمیت 37ممالک کی بحری افواج شرکت کر رہی ہیں جو ان مشقوں کی اہمیت اور افادیت پر اعتماد کااظہار ہے۔ خطے کے سمندروں کو بحری قزاقوں ، منشیات ' اسلحہ اور انسانوں کے سمگلروں سے محفوظ رکھنے کے لیے ان مشقوں کے انعقاد سے اہم نتائج برآمد ہوں گے۔ مشرق اور مغرب کے 37ملکوں کی بحری افواج کی شرکت جہاں عالمی امن کے لیے پاکستان اور اس کی بحریہ پر قوی اعتماد کا اظہار ہے وہاں اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ بھارت کی اقوام عالم میں پاکستان کو تنہاکرنے کی کوششیں سراسرناکام ہو گئی ہیں۔ بھارت پاکستان کو دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام لگا کر بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنے میںکم و بیش دس سال سے مصروف ہے لیکن پاک بحریہ کی میزبانی میں مشرق اور مغرب کے ممالک کی 37بحری افواج کی شرکت ثابت کرتی ہے کہ بھارت کی کوششیں بار آور نہیںہو سکیں کیوں کہ ان مشقوں کا ایک بنیادی مقصد سمندری دہشت گردی کا انسداد ہے۔ ان مشقوں میں بھارت شرکت نہیںکر رہا۔ اس سے دنیامیں یہ پیغام جاتا ہے کہ بھارت سمندری دہشت گردی ، قزاقی ، منشیات اور اسلحہ سمگلنگ اور انسانی سمگلنگ کو روکنے کے لیے بحری راستوں کی نگرانی اور حفاظت میں دلچسپی کا اظہار نہیںکر رہا۔ پاکستان میںسی پیک منصوبے کے تحت گوادر بندرگاہ میں تجارتی سرگرمیوں میں جو اضافہ متوقع ہے اس کے پیش نظر بحیرہ عرب اور بحر ہند میں بھی غیر قانونی بحری سفر کا سدباب مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ گوادر کی بندرگارہ سے خطے کے مختلف ممالک استفادہ کریں گے جن کے جہازوں کو قزاقوں اور غیر قانونی سمندری تجارت کرنے والوں سے تحفظ کے تقاضوں میں اضافہ ہوگا۔ اس لیے اس خطے کے پانیوں کی حفاظت نہ صرف خطے کے ممالک کے لیے بلکہ دنیا بھر کے ممالک کے لیے دو چند اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ بھارت نے ان بین الاقوامی اہمیت کی مشقوںمیں شرکت نہ کرکے یہ ثبوت فراہم کیا ہے کہ بھارت کو بین الاقوامی سمندری تجارت کے تحفظ سے وہ دلچسپی نہیں جو علاقہ کاملک ہونے کی حیثیت سے اسے ہونی چاہیے۔ اس طرح بھارت نے اپنے آپ کو بین الاقوامی سمندری تجارت کی حفاظت کے تقاضوں پرپورا اترنے میں الگ تھلگ کر لیا ہے۔ امن 2017ء مشقیں پانچ روز تک جاری رہیں گی۔ ان میں شریک بحری افواج دہشت گردوں' قزاقوں اور سمندری سمگلروں کوناکام بنانے کے لیے تجربات کریں گی اور ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کریں گی۔ اور قوی امید ہے کہ ان مشقوں سے حاصل ہونے والے نتائج کی روشنی میں سمندری جرائم میں خاطر خواہ کمی آئے گی۔

متعلقہ خبریں