امریکہ کی بدلتی ہوئی افغان پالیسی

امریکہ کی بدلتی ہوئی افغان پالیسی

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کے صدر اشرف غنی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے اور انہیں افغانستان کے لیے امریکہ کے تعاون میں اضافے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس گفتگو کے دوران صدر اشرف غنی نے تجویز دی ہے کہ افغانستان میںمقیم ساڑھے آٹھ ہزار فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ اس گفتگو سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مستقبل قریب میں افغانستان کے مسئلہ میں امریکہ کے کردار میں اضافہ کرنے پر آمادہ ہیں۔ افغانستان حکومت امریکی فوج کی موجودگی کے باوجود طالبان کو شکست دینے یا ان کا زور کم کرنے میںناکام ہو چکی ہے۔ اسی لیے صدر اشرف غنی نے مزید امریکی فوجی بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ اشرف غنی کی تائید افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل نکلسن نے بھی کی ہے۔ امریکی سینیٹ کی کمیٹی میں بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں حقانی گروپ کی موجودگی کے باعث پاک امریکہ پیچیدہ تعلقات پر از سر نو غور کرنا ضروری ہے۔ اگرچہ یہ بات واضح نہیںہے کہ افغانستان میں مزید امریکی فوجی بھیجنے پر امریکی رائے عامہ کا ردعمل کیا ہو گا تاہم جنرل نکلسن نے کہا ہے کہ افغانستان میں مزید فوج اتحادی ملکوں سے بھی لائی جا سکتی ہے۔ صدر ٹرمپ کے افغانستان میں انسداد دہشت گردی کے لیے تعاون میں اضافہ اورافغان صدر اشرف غنی کی حکومت کو مضبوط بنانے پر آمادگی اور اس کے ساتھ ساتھ جنرل نکلسن کی طرف سے افغانستان میں امریکی فوج میں اضافے پرزور دینے سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ ٹرمپ اور اشرف غنی افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگی کارروائیوں میں شدت کے ذریعے افغانستان کے مسئلہ کے حل پر متفق ہیں۔ اس تناظر میں جنرل نکلسن کا یہ کہنا کہ پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کی موجودگی پاک امریکہ پیچیدہ تعلقات پر نظر ثانی کا تقاضا کرتی ہے پاکستان میں نئے خدشات کے ابھرنے کا باعث ہے۔ ایک طرف جنرل نکلسن پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کی موجودگی اور اس بنیاد پر پاک امریکہ تعلقات پرنظر ثانی کی تجویز پیش کر رہے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ کے وزیر دفاع جیمز میٹس نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ٹیلی فون پر گفتگو میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کامیابیوں کو سراہا ہے۔ جنرل نکلسن اور وزیردفاع جیمز میٹس ایک دوسرے سے قطبین کے فاصلے پر نظر آتے ہیں۔ اور صدر ٹرمپ افغان صدر کی اس تجویز سے متفق نظرآتے ہیں کہ افغانستان کا مسئلہ فوجی قوت کے ذریعے حل کیا جائے ۔ افغانستان کے قریبی ہمسائے کی حیثیت سے اور افغانستان میں بدامنی کے برے اثرات سے متاثر ہونے کی بنا پر یہ سمجھتا ہے کہ افغانستان کامسئلہ پرامن مذاکرات کے ذریعے ہی طے ہو سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے امریکہ کی افغان پالیسی کے تحت اگر افغانستان میں جنگ شدت اختیارکرتی ہے تو اس کا اثر پاکستان پر کم از کم یہ پڑے گا کہ افغانستان سے مہاجرین کا ایک اور ریلا پاکستان میں داخل ہو جائے گا۔پاکستان کی سفارت کو ان تبدیلیوں کے حوالے سے فعال تر ہونے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں