دوسٹار کرکٹروں کی معطلی

دوسٹار کرکٹروں کی معطلی


میچ فکسنگ کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا حساس تر ہونا قابلِ فہم ہے۔ اس سے پہلے بھارت اور بنگلہ دیش کے زیر اہتمام اسے بین الاقوامی نوعیت کے مقابلوںمیںمیچ فکسنگ کی خبریں شائع ہوتی رہی ہیں اور بھارت کی طرف سے بطور خاص یہ چیلنج سامنے آتا رہا تھا کہ پاکستان سوپر لیگ کے مقابلے منعقد نہیں کر سکے گا۔ اس لیے دوسرے پاکستان سوپر لیگ کے مقابلوں میں کرپشن کے بارے میں حساسیت قدرتی امر ہے۔ کرکٹ میںکرپشن کی نگرانی کے لیے انٹرنیشنل کرپشن کونسل نے بھی انسداد کرپشن کا ادارہ قائم کیا ہوا ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ کا بھی انسداد کرپشن یونٹ ہے۔ اس یونٹ کی رپورٹ پر اسلام آباد یونائیٹڈ کے دو اہم کھلاڑیوں شرجیل خان اور خالد لطیف کو فوری طور پر معطل کرکے واپس پاکستان بھیج دیا گیا ہے۔ ان کھلاڑیوں پرالزام ہے کہ بھارت کے میچ فکسر وں نے ان سے ملاقات کی اور انہوں نے اس ملاقات کی اطلاع ٹیم منیجر یا پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذمہ داروں کونہیں دی۔ اس پر انہیں فوری طور پر معطل کر کے وطن واپس روانہ کر دیا گیا ہے۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ اس حوالے سے تحقیقات ہوںگی اور انکوائری کے بعد ان کے بارے میں فیصلہ کیاجائے گا۔ تحقیقات سے پہلے ہی ان کھلاڑیوں کے خلاف اقدام سے یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ بورڈ نے یہ فیصلہ پاکستان کو بدنامی سے بچانے کے لیے کیا ہے۔ جہاں پہلے ہی میڈیا میں کرپشن کے بارے میں بہت شور ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ بھارت کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ پاکستان سوپر لیگ مقابلے منعقد ہی نہیں کر سکتا ۔ شائقین کی ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ یہ پاکستان کو بدنام کرنے کی بھارتی سازش ہو سکتی ہے۔ اس احتمال کو اس لیے بھی تقویت پہنچتی ہے کہ ان کھلاڑیوں سے جن میچ فکسروں نے ملاقات کی ان کا تعلق بھارت سے بتایا جا رہا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ بورڈ کی جانب سے جب کہا جا رہا ہے کہ قطعی فیصلہ انکوائری کے بعد کیا جائے گا تو انکوائری سے پہلے ان کھلاڑیوں کو معطل کرکے انہیں بدنام کیوں کر دیا گیا اور سوپر لیگ مقابلوں میں اسلام آباد یونائیٹڈ کوان دو نامور کھلاڑیوں سے کیوں محروم کر دیا گیا۔ یہ انکوائری ایک دو دن کے اندر مکمل کی جا سکتی تھی۔ اول یہ طے کرنا ضروری ہے کہ جن لوگوں کی ان کھلاڑیوں سے ملاقات کا حوالہ دیا جارہا ہے وہ واقعی میچ فکسر تھے یا نہیں۔ اور دوسرے یہ کہ کیاان کھلاڑیوں کو معلوم تھا کہ جو لوگ ان سے ملاقات کر رہے ہیں وہ میچ فکسر تھے یا نہیں ۔ تیسری یہ بات اہم ہے کہ میچ فکسروں اور ان کھلاڑیوں کے درمیان کیا گفتگو ہوئی۔ کہا جارہا ہے کہ ان کی نگرانی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے انسداد کرپشن کے لوگوں نے کی اور پاکستان کرکٹ بورڈ انسداد کرپشن یونٹ نے بھی کی جس کی بنا پر بورڈ اس نتیجے پر پہنچا کہ انہیں فوری طور پر معطل کر دیا جائے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کوئی گواہ ہے جس نے میچ فکسروں اور ان کھلاڑیوں کی میچ فکسنگ کے بارے میں گفتگو سنی ۔ کیا کرکٹ بورڈ کے پاس اس ملاقات میں ہونے والی گفتگو کی کوئی ریکارڈنگ موجود ہے؟ فرض کیجئے بادی النظر میں کرکٹ بورڈ کے پاس کوئی ایسی شہادت ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ کھلاڑی میچ فکسنگ پر آمادہ ہوئے یا انہیں میچ فکسنگ پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی اور انہوں نے ضابطے کے مطابق اس کوشش کی اطلاع نہیں دی۔ تو یہ معاملہ خاموشی سے نمٹایا جا سکتا تھا۔ لگتا ہے کہ بورڈ نے نیک نامی حاصل کرنے کے لیے یہ فوری فیصلہ کیا جس سے یہ فیصلہ یک طرفہ دکھائی دیتا ہے۔ اب اعلان کے مطابق تحقیقات کب ہوتی ہیں اور کب قطعی فیصلہ سامنے آتا ہے اس کے بارے میںکچھ پتہ نہیں۔ اگر ان کھلاڑیوں کا دامن صاف نکلا تو ان کھلاڑیوں کی جو بدنامی ہوئی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کواس فیصلے سے جو نقصان پہنچا ہے اس کا ذمہ دار کون ہوگا۔

متعلقہ خبریں