نام نہاد انتخابی اصلاحات

نام نہاد انتخابی اصلاحات

اگر آپ اس گُتھی کو سلجھانے میں اب تک ناکام ہیں کہ جمہوریت میں انسانوں کو غلام کس طرح بنایا جاتا ہے تو آپ پہلی فرصت میں پاکستان کے انتخابی نظام کا مطالعہ کرلیں۔ یہ وہ نظام ہے جو کہنے میں جمہوری ہے مگر نام نہاد اشرافیہ نے دولت کے زور پر اس نظام کو ہائی جیک کر رکھا ہے۔ پیکچ لایا جائے۔ ایک دوسرے کے اطمینان کے لیے یہ چند رولز آف گیم بدلتے رہتے ہیں جنہیں انتخابی اصلاحات کا نام دے دیا جاتا ہے۔ خواتین کو 5فیصد ٹکٹ دینے سے بھلا کیا معرکہ سرانجام پائے گا؟ سب سے بڑا مسئلہ جو انتخابی نظام کو درپیش ہے وہ پاکستان کے سیاسی نظام میں عام آدمی کی شمولیت ہے۔ معاشرے کے نکمے اور ناکارہ لوگ جہاں نچلے درجے پر سیاست کا لازمی جزو سمجھے جاتے ہوں اور بالا سطح پر دولت کے بل بوتے پر ایک مخصوص ٹولہ مختلف سیاسی جماعتوں کے پلیٹ فارم سے آپس میں برسرپیکار ہو وہاں اصل مرض کے علاج کی ضرورت ہے جو نہیں ہو رہا ہے۔ میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ کوئی سیاسی جماعت بھی اس علاج کے لیے مخلص نہیں ہے۔ اگر یہ لوگ اصلاح کے لیے مخلص ہوتے تو کیا ممبر قومی اسمبلی کے لیے 50لاکھ روپے کے انتخابی اخراجات پر متفق ہوتے۔ ستم یہ ہے کہ جماعت اسلامی جو غریب پرور جماعت سمجھی جاتی ہے اور جس کے پلیٹ فارم سے عام لوگوں کو بھی آگے آنے کا موقع مل جاتا ہے ، بھی اس ''اتفاق'' کا حصہ رہی ہے۔ تحریک انصاف تبدیلی کی جماعت ہے لیکن الیکشن کمیشن میں منعقدہ اجلاس میں اس جماعت کے نمائندوں نے بھی 50لاکھ کی رقم پر اتفاق کیا ۔ عملی طور پر اخراجات کروڑوں میں ہوتے ہیں اور دولت تمام انتخابی نظام کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی تو خیر اس کرپٹ انتخابی سسٹم کی بینی فشری ہیں دیگر سیاسی جماعتوں میں بھی انتخابی نظام کے اصل مرض کی طرف توجہ دلانے والا کوئی نہیں ہے۔ ہر طرف خاموشی ہے… مکمل خاموشی۔ ایک آواز اُٹھتی تھی لیکن اس کا بھی ظاہر اور تھا اور باطن اور۔ مجھے وہ دن یاد آتے ہیں جب علامہ طاہرالقادری اسلام آباد کی سڑکوں پر دھرنا دیے براجمان تھے اور انتخابی نظام کی اصلاح ان کا بنیادی ایجنڈا بن کر سامنے آ رہا تھا۔علامہ صاحب انتخابی نظام کو مورد الزام ٹھہرا کر جو گزارشات بیان فرما رہے تھے وہ سُن کر ایک لمحے کے لیے مجھے یوں لگا جیسے قومی اسمبلی میں ہمارے پیش کردہ بل کی حمایت میں غیبی مدد آ پہنچی ہے۔ میں نے کوئی وقت ضائع کیے بغیر کوئٹہ سے منتخب ہونے والے رکن اسمبلی سید ناصر علی شاہ کو فون کیا، وہ اس وقت کراچی میں تھے۔ طے پایا کہ وہ فوری طور پر اپنے پیش کردہ بل کی کاپی علامہ طاہر القادری کو بھجوائیں گے اور اس ضمن میں ان کی حمایت کے لیے ٹیلی فون پر بات کریں گے۔ انتخابی نظام میں اصلاحات کے لیے ناصر علی شاہ کا پیش کردہ بل ڈیڑھ سال سے قائمہ کمیٹیوں میں دھکے کھا رہا تھا، اس بل کی تیاری میں چونکہ میرا بھی کچھ حصہ تھا چنانچہ میں پل پل اس بل کے بارے میں قائمہ کمیٹیوں میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ رہا، پیش رفت کیا ہونی تھی۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا تھا کہ اگر علامہ قادری اپنے دھرنے کے اختتام کو اس بل کی منظوری سے مشروط کر لیتے تو پاکستان کے انتخابی نظام میں بہتری کا جو رونا آج رویا جا رہا ہے وہ کب کا ختم ہوچکا ہوتا۔ علامہ صاحب نے مگر اس اصلاحاتی بل پر دو دن کوئی بات ہی نہ کی کُجا کہ وہ اپنے دھرنے کے اختتام کو بل کی منظوری سے مشروط کرتے۔ یہ ہے سنجیدگی کا عالم اور خلوص، باتیں ہم اپنی جگہ بہت بڑی بڑی کرتے ہیں مگر ہمارا عمل ہمارے اقوال سے بہت مختلف قسم کی چیز ہے۔ ٹکٹوں کی تقسیم میں خواتین کے پانچ فیصد کوٹے کا مطلب ہے 272سیٹوں میں فقط تیرہ یا چودہ ٹکٹ آبادی کے تناسب کو ملحوظ خاطر رکھیں اور پھر انصاف کے ترازو پر وفاقی کابینہ کی منظور کردہ اس تجویز کو پرکھیں۔ یہ سوچ درست ہے کہ مخصوص نشستوں کی بجائے خواتین کو باقاعدہ انتخابی عمل میں حصہ لینا چاہیے مگر 5فیصد کا کوٹہ رکھنے سے مخصوص نشستوں کا پرنالہ وہیں کا وہیں رہے گا۔ ہم جانتے ہیں کہ خواتین کی مخصوص نشستوں کی بندر بانٹ کیسے ہوتی ہے۔ کیا یہ خبر پاکستانیوں کے لیے حیران کن نہیں ہو گی کہ ایک ہی گھر سے بیک وقت مخصوص نشستوں پر تین خواتین قومی اسمبلی و سینیٹ کی رکن ہیں۔ ماں اور بیٹی قومی اسمبلی کی رکن ہیں اور ایک بہن سینیٹ آف پاکستان کی ممبر ہیں۔ مجھے بیگم نجمہ حمید کا بہت احترام ہے۔ ان کی بہن طاہرہ اونگزیب جو قومی اسمبلی کی ممبر ہیں بھی طویل سیاسی پس منظر رکھتی ہیں مگر یہ کہنے کے باوجود میرے خیال میں یہ مناسب نہیں تھا کہ دونوں بہنوں کو بیک وقت پاکستان کے اعلیٰ ترین ایوانوں میں مخصوص نشستوں پر نمائندگی دی جاتی۔ مزید خرابی یہ ہوئی کہ طاہرہ اورنگزیب کی دختر ارجمند مریم اورنگزیب کو ممبر قومی اسمبلی بنا دیا گیا اوروہ اس وقت اطلاعات کی وزیر مملکت بھی ہیں۔ قبل ازیں ہم دیکھ چکے ہیں کہ متحدہ مجلس عمل جیسے انقلاب آفرین اتحاد نے خواتین کی مخصوص نشستوں کو اپنے اقرباء میں بانٹا تھا۔ مخصوص نشستوں کاکوٹہ محدود کرکے سیاسی جماعتوںکو خواتین امیدواروں کو سامنے لانے کا فیصلہ بلاشبہ خوش آئند ہے لیکن یہ کوٹہ کم از کم 25فیصد ضرور ہونا چاہیے تاکہ خواتین کی نمائندگی بھی بھرپور ہو اور مخصوص نشستوںوالی عظیم برائی سے بھی جان چھوٹ جائے۔ پارلیمنٹ کی اصلاحاتی کمیٹی مزید بہتر تجاویز سامنے لے آئے گی تو بات بنے گی ورنہ سچ یہ ہے کہ عام آدمی کا مروجہ انتخابی نظام سے ایمان اُٹھ چکا ہے۔

متعلقہ خبریں