ناگزیر سے قصۂ پارینہ تک

ناگزیر سے قصۂ پارینہ تک

ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ایم کیو ایم کے کارکن اپنے قائد الطاف حسین کے نام کی باقاعدہ مالا جپتے تھے ۔بات شاعری کی ہوتی یا فلسفہ اور منطق کی ،موضوع سخن طب ہوتا یا کھیل ،ماحولیاتی آلودگی پر کوئی سیمینار ہوتا یا تحفظ جنگلات کی کوئی ورکشاپ ایم کیوایم کالیڈر''قائد تحریک الطاف حسین بھائی ''کہہ کر ہاکی کے ماہر اورمشاق کھلاڑی کی طرح الطاف حسین کے نام کی گیند کو ڈی کے اندر پہنچا کر گول کرنے میں کامیاب ہوجاتا ۔سامعین حیران رہ جاتے کہ اس موقع پر الطاف حسین کے نام کی مالا جپنے کا موقع نہ محل پھر بھی مقرر اپنا ٹانکا لگا جاتے ۔یہ ایم کیوایم کی دوسری صف کی قیادت کی تربیت کا حصہ اور ان کی وفاداری کا پیمانہ ہوتا تھا۔ایسا ہونا فطری امر تھا کیونکہ ایم کیوایم کے وابستگان کے لئے فرد واحد کی وفاداری کی شرط لازم تھی اور اسی کا اظہار وہ ''ہم کو منزل نہیں راہنما چاہئے '' اور ''ہم نہیں ہمارے بعد الطاف الطاف'' کے نعروں سے کیا کرتے تھے ۔ایم کیو ایم کا خمیر ہی الطاف حسین کی شخصی وفاداری سے اُٹھا تھا۔وقت کچھ ایسے بدل گیا کہ اب الطاف حسین کے نام کی مالا جپنے والے ،ان کی وفائوں کا دم بھرنے والے اول تو ان کا ذکر کرنے سے گریز کرتے ہیں اور اگر ناگزیر ہو تو سرسری انداز میں ''بانی ایم کیوایم '' کہہ کر مزید تفصیل میں جانے سے کنی کترا جاتے ہیں۔ا ب میڈیا میں یہ نام تواتر اور تسلسل کے ساتھ سنائی دیتا ہے نہ ایم کیوایم کے کارکن اس نام کی مالا جپتے ہیں ۔تب بھی کوئی آفت اور قیامت نہیں آتی ۔زندگی اپنی ڈگر پر چل رہی ہے۔جس سے نواب زادہ نصراللہ خان سے منسوب یہ جملہ عیاں ہو کر سامنے آتا ہے کہ قبرستان ناگزیر لوگوں سے بھرے پڑے ہیں۔ایک انسان خود کو ناگزیر سمجھتا ہے اوراپنے منظر سے ہٹ جانے پر پہاڑوں کے گریہ وزاری کرنے کے فریب میں مبتلا رہتا ہے مگر جب وہ لمحہ آن پہنچتا ہے تو سب کچھ ایسے ہوجاتا ہے کہ جیسے مکھن سے بال نکل گیا ہو۔نہ پہاڑ روتے ہیں نہ انسانوں میںمستقل صفِ ماتم بچھ جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ الطاف حسین پاکستان کی سیاست کا قصۂ پارینہ بنتے جا رہے ہیں۔البتہ ان کا نام ملکی سیاست میںوقفے وقفے سے حسب ِضرورت اور حسبِ ذائقہ گونجتا رہے گا۔جیسا کہ چند ماہ کے وقفے کے بعد ان دنوں یہ نام ایک بار پھر میڈیا کا موضوع سخن ہے۔اس بار ان کا نام کسی انتہائی مطلوب ٹارگٹ کلر کی گرفتاری یا کسی منحرف لیڈر کی پریس کانفرنس کے حوالے سے نہیں بلکہ وفاقی وزارت داخلہ کی طرف سے الطاف حسین کے ریڈ وارنٹ کے اجرا کے بعد یادوں میں تازہ ہوا۔ چند دن قبل وفاقی وزارت داخلہ نے الطاف حسین کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی منظوری دے دی ۔ایف آئی اے کو ان کی گرفتاری کے انتظامات کرنے کے احکامات جاری کردئیے گئے ۔ظاہر ہے کہ ایف آئی اے اس مقصد کے لئے انٹرپول سے رابطہ کرے گی اور انٹرپول کو برطانوی حکومت کی اجازت درکار ہوگی ۔یوںاس کوشش کا حشر بھی ویسا ہو گا جو رشوت خور پٹواری کے خلاف صدرمملکت کو دی جانے والی درخواست کا ہوا تھا جو گھوم پھر کر بنیادی تبصرے اور رپورٹ کے لئے پھر پٹواری کے پاس ہی پہنچی تھی ۔ الطاف حسین پاکستان میں قتل ،اغوا سمیت بے شمار مقدمات میں مطلوب ہیں ۔بدقسمتی یہ ہے کہ اپنی ستم رانیوں ،ریشہ دوانیوں ،پرتشدد انداز ِسیاست ،متعصبانہ طور طریقوں کے ذریعے جنوبی ایشیا کی ایک کمزور جمہوریت پاکستان کی چولیںہلانے والی یہ ذاتِ شریف ایک مدت سے جمہوریتوں کی ماں برطانیہ کی ''مہمان خصوصی'' بنی بیٹھی ہے ۔عشرے گزر گئے نہ میزبان نے کوئی اُکتاہٹ محسوس کی ہے اور نہ مہمان رخت ِ سفر باندھ کر اپنی جائے پیدائش کا رخ کرنے کا نام لے رہے ہیں۔الطاف حسین ایک ٹیلی فون کال پر کروڑوں کے شہر کو رُلاتے ہنساتے ،جگاتے سُلاتے اور خون میں نہلاتے رہے ۔اس کے باوجود برطانیہ نے انہیں پناہ دی اور شہریت عطا کی ۔دنیا بھر میں دہشت گردی اور تشدد کارونا رونے والے مغربی ملک بالواسطہ طور پر اس کیس میں دہشت اور تشدد کی حمایت کرتے رہے ۔اگر یہ حمایت عملی نہیں بھی تھی تو سہولت کاری کی حد تک یہ ایک حقیقت تھی ۔صاف دکھائی دے رہا تھا کہ وہ برطانیہ کے لئے کسی ''اثاثے '' کی مانند ہیں۔برطانیہ انہیں موسموں کی سردی گرمی سے بچائے رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے ۔اسی لئے برطانیہ کے اداروں نے پاکستان کے ساتھ کبھی تعاون نہیں کیا ۔پاکستان کی حکومتیں سیاسی مصلحتوں کا شکار ہوکر الطاف حسین پر ہاتھ ڈالنے سے ہچکچاتی رہی ہیں جس سے مرض بڑھتا ہی رہا ۔یہاں تک اسے لادوا سمجھا جانے لگا۔ یہ تو بھلا ہو نیشنل ایکشن پلان کے منصوبہ سازوں اور حکمت کاروں کا جنہوں نے زخموں سے چور ریاست کے زخموں پر پھاہا رکھنے کا فیصلہ کیا اور یوں رفتہ رفتہ پاکستان کی ریاست کے اوسان اور رٹ دونوں بحال ہوتے چلے گئے ۔اسی دوران پاکستان کی ریاست نے الطاف حسین کی دراز رسی کھینچ تو لی مگر ان کے ''میزبان ''پاکستان کے ساتھ تعاون کرنے سے مستقلاً گریزاں ہیں۔اس کی وجہ ''بات نکلے گی تو دور تلک جائے گی '' کا خوف ہے ۔پاکستان نے مختلف مقدمات میں مطلوب الطاف حسین کو جب بھی پاکستان لانے کی بات کی برطانیہ کے اوسان خطا ہوتے رہے ۔برطانیہ ان نوازشات میں اکیلا نہیں بلکہ دولت مشترکہ کا ایک اوررکن ملک بھارت بھی پوری طرح اس کھیل میں شریک ہے ۔گزشتہ دنوں برطانیہ نے اچانک الطاف حسین کے خلاف منی لانڈرنگ کا کیس ختم کردیا ۔کہا گیا کہ یہ کیس بھارت کی دھمکی اور دبائو کی بنا پر ختم کردیا گیا ۔نوازشات کایہ سلسلہ اب تک جاری ہے ۔ ایسے میں ریڈ وارنٹ کا نتیجہ اس کے سوااور کیا برآمد ہوگا کہ چند دن یہ نام میڈیا میںزبانوں اور سماعتوں میں پھر گردش کرتا رہے گا۔

متعلقہ خبریں