افغان سیاست میں حکمت یار کی واپسی

افغان سیاست میں حکمت یار کی واپسی

افغان صدر اشرف غنی کے اصرار پر اقوام ِ متحدہ سیکورٹی کونسل نے سابق جنگجو سردارگلبدین حکمت یار پر بین الاقوامی سطح پر لگائی جانے والی پابندیاں اُٹھا لی ہیں۔ یہاں پر یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ وہی گلبدین حکمت یار ہیںجنہیں عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں رکھا گیا تھا۔ اب جبکہ ان کے اثاثے بحال کر دیئے گئے ہیں اور ان کو کھلے عام اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت مل گئی ہے تو حزبِ اسلامی افغانستان کے چیف افغانستان میںاپنی سیاسی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے لئے پر تول رہے ہیں۔ گلبدین حکمت یار، جو افغانستان کے وزیرِ اعظم بھی رہ چکے ہیں، کا بلیک لسٹ سے انخلاء گزشتہ سال ستمبر میں کابل اور حزبِ اسلامی افغانستان کے درمیان ہونے والے معاہدے کا نتیجہ ہے ۔ تاریخ کے اس نازک دور پر اس بات کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ مذکورہ معاہدے کے نتیجے میں اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹیوڈاکٹر عبداللہ کی حکومت کو مستقبل میں کن مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر اس معاہدے کو اس کی اصل رو ح کے مطابق لاگو نہ کیا جاسکا تو حکومت کو ایک ایسے جنگجو سردار کی جانب سے بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو گزشتہ پندرہ سال سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ ساتھ افغان سیکورٹی فورسز کے خلاف بھی برسرِ پیکار ہے۔ کیا افغان حکومت حزبِ اسلامی کے ساتھ کئے گئے اپنے وعدوں پر پورا اتر سکے گی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب مستقبل میں پوشیدہ ہے۔ ایک ایسی حکومت جس کی قانونی حیثیت پر کئی سوالیہ نشان موجود ہیںکیا وہ حکومت حزبِ اسلامی کومعاہدے کے تحت طے شدہ مقام دے سکے گی؟ اپنے وعدوں کو پور اکرنے کے لئے حکومت کو بہت زیادہ مشکلات کاسامنا رہے گا۔ صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹیو عبداللہ اس وقت حکومت میں اہم عہدوں کی تقسیم پر ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے میں مصروف ہیں جبکہ دوسری جانب آئین میں ترامیم کے لئے لویہ جرگہ بھی بلایا جارہا ہے لیکن یہ دونوں حکومتی قائدین اس بات سے آگاہ ہیں کہ گلبدین حکمت یار مستقبل میں ان کے لئے نہایت خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ دوسری جانب حکمت یار پورے ملک میں اپنے واپسی کا اعلا ن کرنے کے لئے اپنے ساتھ کئے گئے وعدوں کا جلد از جلد ایفاء چاہیں گے ۔ اس معاہدے کی رُو سے حکمت یار اور اس کے ساتھیوں کے تمام جرائم پسِ پُشت ڈال دیئے گئے ہیں جس کے خلاف افغان سول سوسائٹی ، انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ ساتھ شمالی اتحاد کے حامیوں کی جانب سے بھی احتجاج متوقع ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اشرف غنی کس طرح اپنے نئے اتحادیوں کے احتساب کے لئے اُٹھنے والی آوازوں کا سامنا کرتے ہیں۔افغان حکومت اور اس کے بین الاقوامی اتحادیوں کی جانب سے حکمت یار کو سیاست میں داخلے کی اجازت نہ صرف دوسرے جنگجو سرداروں کو جرائم کرنے اور پھر معاہدے کے ذریعے بچ نکلنے پر اکسائے گی بلکہ حکمت یار کی حکومت میں واپسی سے 1980ء کے اواخر میں حزبِ اسلامی کی طرف سے ظلم و ستم کا نشانہ بننے والے لوگوں کے غصے کا سبب بھی بنے گی۔ مذکورہ معاہدے کے مطابق حزبِ اسلامی کو حکومت میں حصہ ملنا لازمی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حزبِ اسلامی کے کمانڈروں اور جنگجوئوں کو بھی افغا ن سیکورٹی فورسز میں نوکری دی جائے گی۔ حکومتی اتحاد کا حصہ بننے کے بعد حزبِ اسلامی جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرنے پر زور دے گی کیونکہ اتنا عرصہ بلیک لسٹ ہونے کے باوجود بھی افغان سیاسی نظام میں حزبِ اسلامی کی موجودگی کو واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔ حزب ِ اسلامی اور جماعتِ اسلامی کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط مخالفت بھی اس معاہدے کے مکمل نفاذ کی راہ میں رکاوٹ کا کام کرے گی۔ اس معاہدے کو مثال بناتے ہوئے افغان حکومت طالبان کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کے خواب دیکھ رہی ہے لیکن یہ صرف اشرف غنی اور ان کی حکومت کی خام خیالی ہی ثابت ہوگی۔ ملک کے دیہی علاقوں کے ایک بڑے حصے پر قبضے کی وجہ سے طالبان بہت پُر اعتماد ہوچکے ہیں اور حکومت کے ساتھ امن معاہدے کرنے کے لئے وہ پاکستان سمیت چین اور سعودی عرب کے دبائو کا مقابلہ بھی کر چکے ہیں۔روس سیکورٹی کونسل کا وہ واحد ملک تھا جس نے حکمت یار سے پابندیاں اٹھانے کی مخالفت کی تھی جس کی ایک وجہ خانہ جنگی کے زمانے میں حکمت یار کے حواریوں کی جانب سے کابل پر راکٹوں کی برسات بھی ہے۔ اگرچہ اس معاہدے کے ممکنہ نتائج نہایت خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں لیکن افغان حکومت حزبِ اسلامی پر پابندیوں کے ہٹنے کو افغان مسئلے کے اندرونی حل کے لئے بین الاقوامی حمایت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے وائٹ ہائوس میں آنے کے بعد اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹرمپ افغان دلدل سے نکلنے کے لئے کون سی پالیسی اپناتے ہیں اور اس پالیسی کے افغانستان کی اندرونی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ (بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں