سٹہ بازی اور پی ایس ایل

سٹہ بازی اور پی ایس ایل

بے شک انسان خسارے میں ہے ۔ پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کے شروع ہونے کے دوسرے ہی روز دو نوجوان پاکستانی کرکٹر ز شرجیل اور خالد لطیف کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے سٹے بازوں سے رابطوں کے الزام میں پاکستا ن واپس بھیج دیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ ان دونوں کرکٹرز کو معطل کردیا گیا ہے اور بعد ازاں ان کی قسمت کا فیصلہ ہوگا۔ذاتی طور پر مجھے یہ دونوں کرکٹرز بہت اچھے لگتے ہیں۔ خاص طور پر شرجیل جو بہت ہی ہونہار کرکٹر ہے ۔ اللہ نے اسے بہت سی صلاحیتوں سے نوازا ہے ۔ بال جب اس کے بلے سے ٹکراتا ہے تو پھر باؤنڈری پار کرکے ہی دم لیتا ہے ۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے ٹیلنٹ کی اور اپنے مستقبل کی پروا ہی نہیں کی اوراب وہ اپنے وجود کے ساتھ ساری زندگی میچ فکسنگ کا دھبہ لیے پھریں گے ۔کمال کی بات یہ ہے کہ جس لیول کے یہ دونوں کھلاڑی ہیں وہ حق حلال کی کرکٹ کھیل کر بھی بہت کچھ کمارہے ہیں اور مستقبل میںبھی کمانے کے امکانات باقی ہیں لیکن ہوس اور لالچ ایسی چیزیں ہیں جو انسان کے عقل و شعور پر پردہ ڈال دیتا ہے اور انسان حرام سے گریز کرکے حلال کی جانب قدم اٹھا لیتا ہے ۔ انسان کو اکثر عزت راس نہیں آتی۔کرکٹ بورڈ کا یہ فیصلہ اپنی جگہ خوب ہے کہ برائی کو اس کی بنیادپر ہی روکنے کی کوشش کی گئی اور شخصیات اور ناموں کے رعب میں آئے بغیر ہی ایکشن لیا ۔پاکستان کرکٹ بورڈ کا یہ موقف بھی اپنی جگہ درست ہے کہ پاکستان سپر لیگ کو متاثراور بدنام کرنے کے لیے سٹے بازوں کے پاکستانی کرکٹر سے رابطے ہوئے ۔پاکستان کی اس سپر لیگ کا مقابلہ انڈیا کی لیگ کرکٹ کے ساتھ ہے جو اپنی بڑی مارکیٹ کی وجہ سے بہت کامیاب ہے ۔پاکستان میں چونکہ انٹرنیشنل کرکٹ نہیں ہوتی اس کے باوجود بھی پاکستان کرکٹ کی اٹھان کا کم نہ ہونا حوصلہ افزا ہے ۔جبکہ پاکستان سے باہر اس لیگ کی کا میابی قابل فخر بات ہے ۔ جہاں تک کرکٹ میں سٹہ بازی کا تعلق ہے تو عالمی سطح پر بمبئی ، کیپ ٹاؤن اور کراچی اس کے بڑے مراکز ہیں کہ جہاں سے کرکٹ کی عالمی سٹہ بازی کو کنٹرول کیا جاتا ہے اور اس میں اربوں ڈالروں کا سلسلہ چلتاہے ۔ اس بلیک مارکیٹ میں بڑے بڑے کرکٹرز اور مختلف کرکٹ بورڈز کے اعلیٰ عہدیدار ملوث رہے ہیں ۔ میرا خیال یہ ہے کہ PSLتو بہت بڑا ٹورنامنٹ ہے کلب کرکٹ میں سٹے بازی کا رجحان موجود ہے ۔سٹے بازی کا مرض اتنا پھیل چکا ہے کہ کسی ایک ملک یا کسی ایک کرکٹ بورڈ کی کوششوں سے ختم نہیں ہوسکتا ۔ بلکہ کرکٹ پر ہی کیا موقوف تمام سپورٹس میں یہ سلسلہ چل رہا ہے ۔ کرکٹ میں سٹہ بازی اس لیے زیادہ دکھائی دیتی ہے کہ اس میں ایشین ٹیمیں زیادہ ہیں ساتھ ہی کرکٹ ریکارڈز اور اعداد و شمار کا کھیل ہے ۔ اس لیے اس کھیل میں سٹہ بازی کا رجحان زیادہ ہے ۔ سٹہ بازی کوئی نئی چیز ہے بھی نہیں ۔ماضی بعید میں بھی اس کی مثالیں مل جاتی ہیں ۔ انسان کھیل تو کیا جانوروں کی لڑائیوں پر بھی سٹے بازی کرتا ہے ۔جوا یا سٹہ بازی وغیرہ دراصل انسان کی لالچ کی بنیاد سے اٹھتے ہیں جبکہ اس میں جیت ہارکا تھِرل بھی شامل ہوجاتا ہے ۔ کہتے ہیں کہ ''جو اکسی کا نہ ہوا ''بڑے بڑے خاندان اس میں تباہ ہوجاتے ہیں ۔ بہت سی مثالیں میںیہاں درج کرسکتاہوں کہ جنہیں میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ جن کی جوابازی اور سٹہ بازی کی وجہ سے ان کے بچے ان کی زندگیوں ہی میں یتیم سے ہوگئے ہیں ۔یہ لعنت بہرحال ہر سماج میں موجود ہے اور اس کا علاج اس لیے ممکن نہیں کیونکہ اس مرض کے تانے بانے عالمی سطح پر پھیلے ہوئے ہیں اور سٹہ بازی اور جوابازی کے حوالے سے ہر ملک کے اپنے قوانین ہیں کہیں سخت ہیں اور کہیں نرم ۔سٹہ بازی یوں تو مختلف حوالوں سے ہوتی ہے لیکن اس کا زیادہ رجحان کھیلوں کے حوالے سے ہوتا ہے ۔ جبکہ بعض لوگ تو جوا اور سٹہ بازی کو بھی کھیل ہی کے زمرے میں لاتے ہیں۔ بہرحال یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے سٹہ بازی کی روک تھام لیے ایک قدم تو اٹھایا یہ قدم نوجوان کھلاڑیوں کی تادیب کے لیے بہت ضروری تھا اور ساتھ ہی سسٹم کو کنٹرول رکھنے میں بھی ممد رہے گا ۔ بہرحال سٹہ بازی کا یک ذاتی واقعہ پیش کرتا ہوں کہ کھیلوں کے حوالے سے کتنے چھوٹے لیول پر بھی سٹہ بازی ہوتی ہے ۔پشاور کا طہماس خان سٹیڈیم کسی زمانے میں فٹ بال کا ایک شاندارگراؤنڈ تھا اور اس میں بڑے بڑے ٹورنامنٹ ہوا کرتے تھے ۔ میں بھی ایک کلب میں دفاعی پوزیشن پر کھیلتا تھا ۔شاہی باغ کی جانب لگے پول کے پیچھے سیڑھیاں تھیں جس پر صرف میچ پر شرطیں باندھنے والے ہی بیٹھتے تھے ۔ وہ فٹ بال کی ہر ایک بات پر شرطیں لگاتے تھے ۔پہلی تھرو کس سائیڈ پر ہوگی ۔ پہلا کارنر کس ہاف میں ہوگا۔کون سی ٹیم پہلا گول کرے گی ۔میچ میں کل کتنے گول ہوں گے وغیرہ وغیرہ ۔ایک کمزور ٹیم کے خلاف میچ میں کہ جس میں ہماری ٹیم فیورٹ تھی آخری لمحوں میں مخالف کھلاڑی کی کِک پر میرے پاؤں سے بال لگ کر گول پوسٹ میں چلا گیا۔میں شرمندگی کی حالت میں تھا کہ ان شرط لگانے والوں میں سے ایک شخص بھاگتا ہوا آیا اور میری ہتھیلی پر پچاس کا نوٹ انعام رکھ دیا اور کہا کہ وہ تو گول نہیں کرسکتے تھے تم نے یہ کارنامہ کرکے مجھے ایک ہزارکی شرط جتوادی ۔میں نے پوری ''عزت افزائی ''کے ساتھ پچاس کے نوٹ اور اس شخص کو گراؤنڈ سے باہر نکال دیا۔ یہ واقعہ اس لیے مذکور کیا کہ سٹہ باز اپنی شرطوں کے حوالے سے کتنے سنجیدہ ہوتے ہیں۔

متعلقہ خبریں