پانامہ کیس برائے سیاست نہیں برائے عدالت معاملہ ہے

پانامہ کیس برائے سیاست نہیں برائے عدالت معاملہ ہے

دو ماہ سے جاری تحقیقات کے بعد وزیرا عظم نواز شریف، ان کے بیٹوں حسن نواز اور حسین نواز اور بیٹی مریم نواز کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کی سفارش پر باقی معاملات عدالت عظمیٰ کی صوابدید ہے۔سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی جے آئی ٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچے آمدنی کے ذرائع بتانے میں ناکام رہے اور منی ٹریل ثابت نہیں کر سکے۔تحقیقات کے نتیجے میں جے آئی ٹی نے سفارش کی ہے کہ نیب آرڈیننس 1999 کے سیکشن 9 اے وی کے تحت نیب آرڈیننس کے تحت ریفرنس دائر کرنے کی ضرورت ہے۔حکمران جماعت مسلم لیگ (ن)نے پاناما کیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی)کی رپورٹ کو ردی قرار دے کر مسترد کرنے کا موقف اپنایا ہے۔اسلام آباد میں مسلم لیگ(ن)کے دیگر رہنماں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال نے کہا کہ رپورٹ اور اس کے مندرجات نہ ہمارے لیے نئے ہیں نہ کسی اور کے لیے۔احسن اقبال نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے پیچھے سیاسی ایجنڈا ہے جس کے جھوٹ کو ہم سپریم کورٹ کے سامنے بے نقاب کریں گے۔ہم اپنے آئینی اعتراضات پیر کو سپریم کورٹ کے سامنے رکھیں گے اورسپریم کورٹ میں قانونی جنگ لڑیں گے۔تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ گو کہ حتمی نہیں اور ابھی عدالت میں اس حوالے سے مختلف نکات سامنے آنے ہیں لیکن د و ماہ کی تپسیا کے بعد سامنے آنے والی رپورٹ کو جس طرح مسلم لیگ(ن) نے ردی قرار دیا ہے یہ ان کا نقطہ نظر ضرور ہے لیکن جے آئی ٹی جسے مختلف مدارج پر عدالت عظمیٰ کی رہنمائی بھی حاصل رہی اس طرح کی رپورٹ ظاہر ہے پیش نہیں کرسکتی کہ اس کی کوئی بنیاد اور شواہد نہ ہوں اور اس کا عدالت میں دفاع نہ کیا جاسکے۔ اس رپورٹ میں سقم کی تلاش ہوسکتی ہے اس میں قانونی نکات اور کمزوریاں تلاش کرکے محفوظ راستہ نکالنے کی سعی ہوسکتی ہے مگر یہ ردی ہر گز نہیں بلکہ ماہرین کی مرتب کردہ رپورٹ ہے۔ پانامہ کیس کی جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے کے بعد اس پر پیشرفت اور آگے کے حالات کے حوالے سے قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ اب جبکہ جے آئی ٹی کی رپورٹ آ چکی ہے تو اگلے مرحلے میں جس فریق کے بھی اس پر اعتراضات ہوں گے وہ انھیں تحریری شکل میں سپریم کورٹ میں داخل کرا دے گا۔ اعتراضات داخل کروانے کی صورت میں ان پر بحث کی جائے گی اور انھی اعتراضات کی روشنی میں معاملے کو سنا جائے گا۔سپریم کورٹ نے یہ آبزرویشن دی ہے کہ فریقین کے وکلا دلائل کو دہرائیں نہیں بلکہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کی روشنی میں اس پر بحث کریں۔ یہ بحث سننے کے بعد عدالت اس پر کوئی مناسب آرڈر دے سکتی ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ کے وکلا اگلے چند دنوں میں جے آئی ٹی کی رپورٹ پر اپنے مفصل اعتراضات سپریم کورٹ میں داخل کروائیں گے۔اس سوال کے جواب میں کہ اس عمل کے مکمل ہونے اور عدالت کا فیصلہ آنے میں کتنا وقت لگ سکتا ہے اس ضمن میں کوئی صحیح اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ ماہرین کے مطابق اگر ایک فریق یہ کہتا ہے کہ ہمارے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے یا یہ ون سائیڈڈ باتیں ہو گئی ہیں تو اس صورت میں عدالت اس کے لیے مزید راستہ نکال سکتی ہے کیونکہ عدالت کے پاس اس کا اختیار ہے اور وہ اس بات کی پابند ہے کہ کسی کے ساتھ نا انصافی نہ ہو اس لیے اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا یہ مختصر بھی ہو سکتا ہے اور طویل بھی اور یہ بھی ممکن ہے کہ عدالت ساری باتیں سننے کے بعد یہ کہے کہ وہ اس معاملے کو نیب میں بھیج رہے ہیں جیسا کہ جے آئی ٹی نے اس کی سفارش کی ہے یا پھر کوئی اور طریقہ کار اختیار کیا جاسکتا ہے۔پانامہ پیپرز کا کیس اگر صرف عدالتی معاملہ ہی ہوتا تو اس کا عدالت سے فیصلہ آنے پر اختتام ہوتا لیکن جہاں یہ عدالتی معاملہ ہے وہاں اس سے بڑھ کر یہ سیاسی معاملہ بنایا گیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ معاملہ اٹھایا ہی اس لئے گیا ہے کہ اس سے سیاسی مقاصد حاصل کئے جاسکیں تو شاید غلط نہ ہوگا۔ بہر حال اس سے قطع نظر کہ اسے اٹھانے کے مقاصد سیاسی تھے یامقصد ملک و قوم کا مفاد اور حکمرانوں کو عوام کے سامنے بے نقاب کرنے کا تھا یا پھر سیاسی و قومی مفاد دونوں ہی مقاصد تھے۔ اس سے قطع نظر اگر معاملے کو اب سیاسی بنانے کی بجائے فریقین عدالتی ہی رہنے دیں اور معاملات پر صرف مناسب فورم پر ہی قانونی اور آئینی بحث ہی کیا جائے اور اسے کوئی بھی نہ تو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا ذریعہ بنائے اور نہ ہی اسے سیاسی کہہ کر مسترد کردیا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا مگر بد قسمتی سے اسکا امکان کم ہی ہے۔ اس معاملے میں اب تک جو دھول اڑائی جا چکی ہے اور بعد میں جو دھول اڑانا متوقع ہے اس میں بنیادی مقصد کا فوت ہو جانے کا خدشہ ہے۔ سیاسی معاملات سے قطع نظر اس معاملے میں عوامی مفاد یہ ہے کہ قوم اس امر سے آگاہ ہو جائے کہ ان کی قسمت سے کھلواڑہوا ہے یا نہیں۔ تمام تر معاملات سے قطع نظر جے آئی ٹی رپورٹ میں درجنوں اسقام کی گنجائش اور امکانات ہونے کے باوجود بھی اس رپورٹ میں عوامی فلاح کا یہ پہلو نمایاں ہے کہ معاملہ اس حد تک ضرور سنجیدہ ہے جس کی بنیاد پر ریفرنس دائر ہوسکتا ہے اور مزید تحقیقات کی گنجائش ہے۔ اس رپورٹ کو خواہ کتنا بھی جانبدار کہہ کر مسترد کیا جائے کم از کم اس سے یہ بات بہر حال سامنے آگئی کہ صفائی دینے والوں کے پاس اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے کافی شواہد اور ٹھوس ثبوت نہیں مگر اس کا مطلب یہ بھی ہر گز نہیں کہ ان پر بد عنوانی ثابت ہو جائے یا ہوگئی ہے اسی کا فیصلہ ہونا ہی تو باقی ہے۔ قطع نظر تمام معاملات کے معاملات اس حد تک ضرور ہیں کہ جن کو مشکوک قرار دیا جاسکے۔ کسی سیاسی جماعت اور خاندان کے لئے مشکوک معاملات میں ملوث ہونا اگر عدالتی حد تک خطرات کا باعث نہیں تو عوامی سطح پر اس کے مضمرات اور نتائج سے صرف نظر ممکن نہیں۔ وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز، جنہیں شریف خاندان کی جانب سے ملکی سیاست کا حصہ بننے والے نئے چہرے کے طور پر شمار کیا جارہا ہے، پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی)نے جعلی اورجھوٹی دستاویزات جمع کرانے کا الزام عائد کردیا، جو ایک جرم ہے۔واضح رہے کہ رپورٹ میں مریم نواز پر آمدن سے زائد اور نامعلوم ذرائع سے اثاثے جمع کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ پاناما پیپرز میں ان کا نام سامنے آنے کے بعد ایسا محسوس ہونے لگا کہ ان کے سیاست کا حصہ بننے کی راہ میں جے آئی ٹی رپورٹ میں شامل کچھ باتیں بھی ان کے لیے مسائل کا سبب بن سکتی ہیں۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے تمام سیاسی جماعتوں کو پاناما پیپرز کیس کے حوالے سے اپنے اعتراضات ایک ہفتے کے اندر جمع کرانے کا حکم دیا ہے جبکہ 17 جولائی سے کیس کی سماعت کے آغاز کے بعد عدالت، نیب میں مریم نواز کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے حوالے سے فیصلہ کر سکتی ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق، جب تک مریم نواز پر عائد الزامات ثابت نہیں ہوجاتے اس وقت تک وہ انتخابات میں حصہ لے سکتی ہیں۔ جعلی دستاویزات جمع کرانے کے حوالے سے ماہرین کا کہنا تھا کہ چونکہ وہ رکن پارلیمنٹ نہیں۔ لہٰذا ان پر آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق نہیں ہوتا مگرچونکہ تحقیقاتی ٹیم انہیں آمدن سے زائد اور نامعلوم ذرائع سے اثاثے جمع کرنے کا ملزم قرار دے چکی ہے، اس لیے سپریم کورٹ اس معاملے کو نیب روانہ کرسکتی ہے تاکہ نیب معاملے کی دوبارہ چھان بین کے بجائے ان کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کرسکے۔المیہ یہ ہے کہ تقریبا 70 فیصد سیاستدان نیب انکوائریوں، تحقیقات اور ریفرنسز کا سامنا کرچکے ہیں۔ایسے میں ان میں ایک کا اضافہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ بہر حال یہ سارے امکانات اور اندازے ہیں۔ وزیر اعظم کی صاحبزادی کا ثبوتوں کے کارٹن کا ٹویٹ اس بنا پر یکطرفہ ہے کہ کارٹن میں ثبوت ان کے خاندان کے حق میں تھے یا خلاف۔ ثبوتوں کا کارٹن بھر ہونا ضروری نہیں ٹھوس ثبوت اور شواہد کے لئے چند صفحات اور فائلیں ہی کافی ہوتی ہیں ۔ جس تحقیقاتی رپورٹ کو ہی ان کی جماعت ردی قرار دے دچکی ہے اس تناظر میں تو ان کارٹنوں سے ردی ہی نکلنی چاہئے۔حقیقت یہ ہے کہ پاناما مقدمہ جہاں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے لیے کٹھن مرحلہ ہے وہیں پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ (ن)کے لیے بھی سیاسی طور پر نہ صرف ایک بحران بلکہ چیلنج بھی ہے۔پاکستان کی بحران سے اٹی تاریخ میں اس پر کسی کو حیرت نہیں کہ اس قانونی اور انتظامی معاملے کو ملک کا سب سے بڑا سیاسی مقدمہ بنا دیا گیا ہے۔ اس کی قانونی اور ثبوتوں کی بنیاد پر عدالت کے اندر بات کرنے کی بجائے اسے سیاسی نعروں اور بیانات کی بنیاد پر عوامی سطح پرہر کوئی اپنے جذبات و احساسات اور مقاصد کے لئے بروئے کار لانے میں مگن ہے۔جے آئی ٹی کی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد مخالف سیاسی جماعتوں کی طرف سے وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ اور باہم رابطہ کی حد تک رہے تو یہ معقول ہوگا۔ سیاسی جماعتیں ایوان میں حکومت پر اپنے دبائو میںحکمت عملی کے ساتھ اضافہ بھی کرسکتی ہیں بشرطیکہ ان کا ایک د وسرے پر اعتماد ہو اور درپردہ حکومت کو موقع دینے میں ملوث ہونے کاکسی جماعت پر شبہ نہ کیاجائے۔سیاسی جماعتوں کا سیاسی طور پر دوسری جماعت سے مقابلہ ان کی قیادت اور کارکردگی پر تنقید سیاسی عمل کا حصہ ہوتا ہے مگر جہاں عدالتی معاملہ سامنے آئے وہاں بہتر طریقہ سیاست یہی ہے کہ اس معاملے کو متنازعہ بنا کرنتائج حاصل کرنے کی سعی کی بجائے اس فیصلے کے حتمی عدالتی فیصلے کا انتظار کیا جائے اور اس کے بعد کے حالات کے لئے لائحہ عمل مرتب کیا جائے اور تیاری کی جائے۔لگتا یہی ہے کہ مسلم لیگ کی کوشش ہوگی کہ اس معاملے کو جس فورم کے بھی حوالے کیاجاتا ہے اس قدر طول دی جائے کہ سینٹ انتخابات کرانے کا موقع ملے جس میں مسلم لیگ(ن) کی برتری یقینی ہے۔سیاسی حکمت عملی مرتب کرنے اور اس پر عمل کا اختیار ہر جماعت کو حاصل ہے لیکن اگر سیاسی جماعتیں عدالت میں مقدمات اور ریفرنسز کو عدالت ہی کا کام رہنے دے کر اپنی سیاست کو عوام کی عدالت میں منتقل کرنے اور عوام کی عدالت میں مقدمہ لڑنے پر توجہ مرکوز کریں تو یہ سیاسی جماعتوں' عدلیہ اور عوام سمیت سبھی کے لئے بہتر فیصلہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں