پہلا پتھر کون مارے گا؟

پہلا پتھر کون مارے گا؟

بالآخر انتظار کی سولی پر لٹکنے والی قوم کو پانامہ لیکس کے حوالے سے لگ بھگ چار سو ملزموں میں سے ایک کے بارے میں جے آئی ٹی کی مرتب کردہ رپورٹ کے مندرجات کے بارے میں مختلف ٹی وی چینلز پر لگنے والی منڈیوں کے توسط سے چیدہ چیدہ نکات کے بارے میں معلومات دستیاب ہو ہی گئیں۔ پوری رپورٹ دس ابواب پر مشتمل ہے جو ڈھائی سو صفحات سے بھی زیادہ ہے۔ دسویں جلد کے بارے میں خود جے آئی ٹی کے ذمہ داران نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ اسے پوشیدہ رکھا جائے۔ اس پرسوال لیگ(ن) کی جانب سے اٹھایا گیا ہے کہ ''کیوں؟'' اور کہا ہے کہ اسے بھی عام کیاجائے کیونکہ بقول دانیال عزیز کے اصل حقائق تو اسی دسویں جلد میں پوشیدہ ہیں۔ بہر حال سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کی یہ استدعا قبول کرتے ہوئے اس د سویں حصے کو (فی الحال) عوام کی نظروں سے پوشیدہ رکھنے کا حکم دے دیا ہے اور اب جانبین کے ساتھ ساتھ چینلز کے ''ماہرین'' غیر پوشیدہ نو ابواب میں سے اپنی اپنی پسند کی مچھلیاں پکڑ کر عوام کو بتا رہے ہیں کہ ''حقائق'' کیاہیں' یعنی اگر ایک طرف عمران خان اور ان کے حواریوں اور سراج الحق کی جانب سے وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے بارے میں منفی پروپیگنڈہ تیز کردیاگیا ہے اور وزیر اعظم سے ایک بار پھر مستعفی ہونے کے مطالبات میں شدت آگئی ہے تو دوسری جانب حکومتی وزراء نے نواز شریف کی قیادت میں اپنے قانونی مشیروں کے ساتھ صلاح مشورے کے بعد جوابی پریس کانفرنس میں جے آئی ٹی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ حکومتی حلقوں نے اسے پی ٹی آئی رپورٹ' عمران نامہ اور نہ جانے کیا کیا قرار دے کر کہاہے کہ اس کے پیچھے سیاسی ایجنڈا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران یہ الزام بھی عائد کیاگیا ہے کہ جے آئی ٹی نے پیپلز پارٹی کے رحمن ملک کے دئیے ہوئے شہادتوں پر اپنی رپورٹ کی بنیاد قائم کی ہے۔ ادھر سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جے آئی ٹی کے سربراہ نے لندن میں اپنے ایک کزن کے ذریعے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی ہے جو ایک فرم چلاتا ہے جس کے پاس اس قسم کے معاملات کا کوئی تجربہ نہیں ہے اور وہ نہ صرف پی ٹی آئی کا سر گرم رکن ہے بلکہ اس کی اہلیہ مبینہ طور پر پی ٹی آئی کے لئے فنڈز بھی اکھٹے کرتی ہے۔ ادھر کئی نجی ٹی وی چینلز پر اگر حکومت کے لئے نرم گوشہ نہ رکھنے والوں نے خوب خوب دل کا غبار نکالنے کی کوشش کی ہے ( وجوہات وہی بہتر جانتے ہوں گے) البتہ تقریباً تمام چینلز نے اپنے اپنے ٹاک شوز میں اس حوالے سے ماہرین آئین و قانون کی آراء کو بھی شامل کیا جبکہ ان ماہرین کی آراء بھی کسی نہ کسی حد تک منقسم نظر آئی۔ ادھر ایک چینل پر ایک صحافی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس معاملے پر حکمران جماعت بھی منقسم دکھائی دی جب بعض اہم وزراء نے اس معاملے سے نمٹنے کے لئے محاذ آرائی سے گریز اور آئینی تقاضوں کو پورا کرنے کے مشورے دئیے تاہم بقول محولہ صحافی وزیر اعظم نے ان کا مشورہ قبول کیا جو اس معاملے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے پر زور دیتے رہے۔ اس لئے اب دیکھتے ہیں کہ گزشتہ روز کی وزراء کی پریس کانفرنس میں رپورٹ کو مسترد کرنے اور چیلنج کرنے کے بعد حکومت آگے مزید کیا اقدامات کرتی ہے۔ ویسے اس معاملے میں ایک بات بڑی عجیب دکھائی دیتی ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف سب سے زیادہ شدت کے ساتھ مخالفانہ بیان بازی کرنے والا شیخ رشید کہیں نظر نہیں آیا (کم از کم کسی چینل پر دکھائی نہیں دیا یا پھر اگر آیا ہو تو اس پروگرام کو دیکھنے سے میں محروم رہا) آج ہی کے اخبارات میں اے این پی کے ایک رہنما حاجی غلام احمد بلور کابیان چھپا ہے جس میں انہوں نے عمران خان اورجہانگیر ترین پر کرپشن کے سنگین الزامات لگائے ہیں اور کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے دونوں رہنماء ایبٹ آباد میں کرو مائیٹ کا پہاڑ فروخت کرنے اور کرک میں روزانہ کروڑوں کی گیس اور تیل چوری میں ملوث ہیں۔ اب آپ کی مرضی ہے کہ اس الزام کو سیاسی قرار دے کر رد کرتے ہیں یا پھر اس کی تحقیقات کے لئے بھی کسی جے آئی ٹی کا مطالبہ کرکے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنے کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ جب یہ حکومتیں اپنی مدت پوری کرکے نئے انتخابات کے لئے میدان میں اتریں گی تو یہ سارے معاملات سامنے آجائیں گے۔ رہ گئی بات رحمن ملک کی معلومات پر جے آئی ٹی کے تکیہ کرنے کے حکومتی حلقوں کے الزامات کی تو ایک سوال تو بہر حال ضرور اٹھتا ہے کہ رحمن ملک کے پاس جو معلومات ہیں یا تھیں وہ اس دور سے تعلق رکھتی ہیں جب موصوف ایف آئی اے کے سربراہ تھے۔ یعنی انہوں نے سرکاری فائلیں کس قانون اور اخلاق سے اب تک اپنے قبضے میں رکھی ہوئی ہیں۔ کیا یہ سرکاری دستاویزات کی ''چوری'' نہیں ہے؟ جس پر خود ان کے خلاف بھی مقدمہ قائم ہوسکتا ہے۔ بہر حال اس بارے میں کوئی ماہر قانون ہی بہتر طور پر بتا سکتاہے۔ تاہم لگتا یہی ہے کہ رحمن ملک کی مدد سے آصف زرداری نے نواز شریف کے ساتھ پچھلا حساب بے باق کرنے کی کوشش کی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ معاملات کس رخ پر جاتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک کالم نگار جو علم جفر کابھی ماہر ہے نے اپنے گزشتہ روز کے کالم میں پیشگوئی کی ہے کہ جولائی کا آخر اگست کا شروع اور اگست کا تیسرا ہفتہ فیصلہ کن اہمیت رکھتے ہیں۔ موصوف کے ان الفاظ میں بہت سے حقائق پوشیدہ دکھائی دیتے ہیں صرف دیکھنے والی نظر چاہئے لیکن ایک پرانا واقعہ ضرور یاد آگیا ہے کہ جب ایک شخص کو سنگسار کرنے کا حکم دیاگیا تو ایک بزرگ نے آکر اتنا کہا' اس گناہگار کو پہلا پتھر وہ مارے جس سے خود کبھی گناہ سرزد نہ ہوچکا ہو۔ اس پر یار طرحدار خالد خواجہ کا شعر یاد آگیاہے

دیوتائوں کا دیس ہے جس میں
راکھشس احتساب مانگتے ہیں

متعلقہ خبریں