انصاف کا ہوتے ہوئے نظر آنا

انصاف کا ہوتے ہوئے نظر آنا

مشہور قول ہے کہ انصاف نہ صرف ہوناضروری ہے بلکہ اس کا ہوتے ہوئے نظر آنا بھی ضروری ہے۔ انصاف کا ہوتے ہوئے نظر آنا عوام کا حق ہے۔ کہ اس طرح انصاف تک پہنچنے کے لیے جو بیانات' شہادتیں اور دلائل پیش ہوتے ہیں ان سے عوام کی آگاہی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور انصاف کے تقاضے پورے ہونے کے بارے میں ان کا اعتماد قوی تر ہوتا ہے۔ عوام کی آگہی کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ عوام اور افراد اپنے رویہ کو قانون اور انصاف کے مطابق ڈھالنے کے لیے زیادہ باخبر ہو جاتے ہیں۔ سب جانتے ہیںکہ قانون سے بے خبری جرم کے ارتکاب کا جواز نہیں قرار دی جا سکتی ۔ مقدمات میں جو الزامات عائد ہوتے ہیںان کو ثابت کرنے یا ان سے بریت حاصل کرنے کے لیے جو شواہد ، شہادتیں اور دلائل پیش کیے جاتے ہیں انہیں جاننے کے بعد افراد معاشرہ قانون اور انصاف کے تقاضوں سے پہلے سے زیادہ باخبر ہو جاتے ہیں اور اس طرح معاشرہ انصاف پسندی اور قانون کی پاسداری کی طرف بڑھتا ہے۔ آج ہمارے ملک میں ایک ایسا مقدمہ ملک کی سب سے بڑی عدالت میں زیرِ سماعت ہے جو ملک کی تاریخ کا سب سے مشہور مقدمہ ہے۔ اندرون ملک اور بیرون ملک بھی اس کی طرف نظریں لگی ہوئی ہیں۔ اس مقدمے کے عدالتی عمل سے عمومی آگاہی میں اضافہ ہو گا اور ہمارا معاشرہ پہلے سے زیادہ انصاف کے تقاضوں سے آگاہ ہو سکے گا۔ اس مقدمے میں یہ طے کیا جا رہا ہے کہ آیا ملک کے وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ پر پاناما انکشافات کے حوالے سے مالی غلط کاریوں کے جو الزام لگے ہیں وہ غلط ہیں یا درست؟ وزیر اعظم نواز شریف کو داد دی جانی چاہیے کہ انہوں نے ان الزامات کے بعد از خود اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو عدالتی کارروائی کے لیے پیش ہونے کی پیش کش سرِعام کی تاکہ وہ عدالتی کارروائی کے نتیجے میں ان الزامات سے بری الذمہ قرار پائیں اور سرخرو ہوں۔ اس پر قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر سید خورشید شاہ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے۔ یہ تبصرہ بجائے خود الزام کی حمایت کے اشارے کا حامل ہے۔ جو وزیر اعظم کی از خود انصاف کے لیے پیش ہونے کی پیش کش کے بعد نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ بلکہ وہی کیا جانا چاہیے تھا جو آج جے آئی ٹی کی رپورٹ کے عدالتِ عظمیٰ کے سامنے پیش کیے جانے کے بعد نیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی نے کہا ہے کہ اب سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کیا جانا چاہیے۔ لیکن جب سے خود وزیر اعظم نواز شریف نے عدالت میں پیش ہونے کی پیش کش کی اس کے بعدکوئی دو سال کا عرصہ ہو گیا ہے کہ روز انہ اس مقدمے سے متعلق ہر پیشی پر میڈیا سرگرم عمل ہو جاتا ہے اور پیشی کے بعد عدالت کے باہر وزیر اعظم نواز شریف کی جماعت کے عہدیدار اور ان کی حزب اختلاف پاکستان تحریک انصاف کے عہدیدار جو تبصرے کرتے ہیں انہیں خوب تشہیر دی جاتی ہے۔ الزام وزیر اعظم نواز شریف ، ان کے اہل خانہ پر ہیں۔ یہ الزام وزیر اعظم نواز شریف پر بطور مسلم لیگ ن کے سربراہ کے نہیں لگے ہیں۔ بطور مسلم لیگ ن کے سربراہ کے وہ وزیر اعظم ضرور ہیں اور حکومت کا کاروبار چلا رہے ہیں لیکن ان کی صفائی دینے حکمران مسلم لیگ ن کے عہدیدار اور ان کے معاون میڈیا کے سامنے عدالت کی کارروائی پر تبصرے جاری کرتے ہیں۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور ان کے ساتھی بھی ہر پیشی پر یہی کام کرتے ہیں۔ ان کے تبصروں سے عدالتی کارروائی عوام تک ان تبصروں کے ملفوف کے ساتھ پہنچتی ہے۔ رائے قائم کرنا یا رائے رکھنا ہر شخص کا حق ہے لیکن الزام تراشی اور طعنہ زنی سے احتراز کیا جانا چاہیے۔ سپریم کورٹ میں جب عدالت کی نظر میں کافی شہادت پیش نہ ہوئی تو عدالت نے ایک جائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم قائم کر دی (جس نے 10جولائی کو حکم کے مطابق رپورٹ پیش کردی) لیکن ن لیگ ارکان کی اکثریت نے کہا کہ ہم جے آئی ٹی کے ارکان یا پوری جے آئی ٹی کو تسلیم نہیں کرتے۔ جب کہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے اپنے اختیار سے تشکیل دی اس کے لیے سوالات کی فہرست بھی دی۔ اس کے لیے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ اس لیے جے آئی ٹی کو تسلیم کرنے یا مسترد کرنا سوائے سپریم کورٹ کے کسی کا اختیار نہیں تھا۔ یہ بار بار کہا گیا کہ اگر جے آئی ٹی کی رپورٹ میں قطری شہزادے کے خط کے حوالے سے حاصل ہونے والی معلومات نہ شامل کی گئیں تو ہم اسے تسلیم نہیںکریں گے۔ ایک بار پھر یہ کہنا ضروری ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کو مسترد کرنا یا قبول کرنا سپریم کورٹ کی اپنی صوابدید ہے کسی اور کا اختیار نہیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بار بار اس دوران یہ کہتے رہے کہ وزیراعظم جیل جائیں گے۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کے بیانات میں بھی ایسے ہی تاثر ملے۔ لیکن سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے متعلق جو ابھی جاری نہیں کیا گیا ہے یہ اندازہ کاری انتہائی نامناسب تھی ۔ اسی طرح وزیر اعظم سے مطالبے کا بار بار دہرایا جانا انتہائی نامناسب تھا کہ وہ مستعفی ہو جائیں۔ یعنی سپریم کورٹ کے فیصلے کے آنے سے پہلے ہی یہ طے کر لیں کہ فیصلہ ان کے خلاف ہو گیا ہے انتہائی نامناسب مطالبہ تھا۔ ایسے تبصروں کے ذریعے وہ یہ کوشش کرتے نظر آ رہے تھے کہ عوام مقدمے کی کارروائی کے دوران عدالت کے فیصلے کے آنے سے پہلے ہی یہ طے کر لیں کہ فیصلہ وزیر اعظم کیخلاف آ رہا ہے۔(جاری ہے)

اس طرح عمران خان یہ کوشش کر رہے تھے کہ عوام مقدمے کی کارروائی کو ان کی توقعات کی عینک سے دیکھیں۔ جے آئی ٹی نے سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے چیئرمین ظفر حجازی پر ریکارڈ کی ٹمپرنگ کا الزام عائد کیا ۔ اس الزام کی بنیاد پر ان کے خلاف کارروائی بھی شروع ہو گئی جس کا فیصلہ ابھی آنا ہے۔ لیکن عمران خان نے کہہ دیا کہ ظفر حجازی نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے کہنے پر ریکارڈ ٹمپرنگ کی ، وزیر خزانہ پر سراسر الزام ہے۔ یہ اس صورت ہی میں کہا جا سکتا ہے جب یا تو ظفر حجازی کوئی ایسا بیان دیں یا کوئی ایسا الزام ان پر کسی عدالت میںلگے اور ثابت ہو۔(باقی…باقی)

متعلقہ خبریں