اللہ کرے زور بیاں اورزیادہ

اللہ کرے زور بیاں اورزیادہ

ہماری پشتو میں ایک مثل ہے دمرہ دروغ وایہ چہ کلی تہ اورسی۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ جھوٹ بولنے سے کسی بندہ بشر کو مفر نہیں' جھوٹ صرف اتنا بولو کہ وہ منہ سے نکلتے ہی صابون کے بلبلے کی طرح جو بچے ہوا میں اڑاتے ہیں منہ سے چھوٹتے ہی ہوا میں تحلیل نہ ہوجائے۔ اسے گائوں تک پہنچنے کی سکت تو ہونی چاہئے۔ یہ مثل ہمیں سیاستدانوں اور قومی نمائندوں کے اخباری بیانات پر یاد آئی جو روزانہ اخباروں کی زینت بنتے ہیں۔ اب تو ان لمبی لمبی چھوڑنے والوں کو اپنی بڑی بڑی بولیوں کی اخبارات میں چھپنے' ریڈیو اور ٹی وی پر نشر ہونے سے بھی نیت نہیں بھرتی۔ وہ ان کو اب باقاعدہ اشتہاروں میں پیش کرتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ اشتہارات مفت میں نشر نہیں ہوتے نہ وہ اس کا خرچ اپنی جیب خاص سے ادا کرتے ہیں اس کابوجھ قومی خزانے پر پڑتا ہے۔ شنید ہے کہ ٹی وی پر چلنے والے خود ستائی سے بھرپور ان اشتہاروں کا بجٹ اربوں روپے تک پہنچ چکا ہے۔ افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ آج تک ایوان نمائندگان میں سے کسی کو بھی یہ پوچھنے کی توفیق نہ ہوئی کہ ان اشتہاروں پر اٹھنے والے اخراجات کیسے اور کہاں سے پورے کئے جاتے ہیں۔ ہم نے بات پشتو کی ایک ضرب المثل سے شروع کی تھی جس میں جھوٹ بولنے کے آداب بتائے گئے ہیں۔ اور یہ مثل خادم اعلیٰ کے ایک بیان پر یاد آئی جس میں انہوں نے ارشاد فرمایا ہے کہ وزیر اعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں آج ملک سے اندھیروں کاخاتمہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ ملک میں دو دہائیوں سے اندھیروں کی حکمرانی تھی۔ قوم بجلی بحران کے خاتمے کے تاریخی کارنامے کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ ویسے تو موجودہ قیادت کے کارناموں کی فہرست کافی طویل ہے بات چونکہ صرف بجلی بحران کے خاتمے کی ہو رہی ے چنانچہ ہم ان کے اس بیان پر اپنی گفتگو صرف روشنی کے پھیلائو تک ہی محدود رکھیں گے۔ عملی صورت جبکہ یہ ہے کہ فی الوقت دیہات 18گھنٹے اندھیروں میں ڈوبے رہتے ہیں اور شہری علاقے یہ اذیت 12گھنٹے برداشت کرتے ہیں۔ دو تین روز پہلے جھنگ کے بہادر پور کے علاقے میں بجلی کے ایک یونٹ کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ اس پلانٹ سے 720 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی۔ ہماری دعا ہے کہ نندی پور پاور پلانٹ کی طرح یہ نیا منصوبہ بھی اس کے افتتاح کے موقع پر بیانات کی سیاہی سوکھنے سے پہلے ٹھس نہ ہو جائے۔ ہمیں با وثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس نئے پلانٹ سے بجلی کی فراہمی کے ساتھ ہی پنجاب میں لوڈشیڈنگ میں کافی حد تک کمی ہوچکی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ ہماے صوبے میں اس کے ثمرات کب پہنچتے ہیں جس کے مستقبل قریب میں کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ اس کی ایک وجہ تو بالیقین یہی قرار دی جاسکتی ہے کہ بجلی و پانی کے وفاقی وزیر اور ان کے نائب نے ہم سب کو من حیث القوم چور قرار دیا ہے۔ ظاہر ہے چوروں کو سہولت فراہم نہیں کی جاتی اذیت میں مبتلا رکھا جاتا ہے۔ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے ضمن میں ایک لمبی خادم اعلیٰ نے انتخابی جلسوں کے د وران بھی چھوڑی تھی۔ دوران تقریر روسٹرم پر پڑے مائیکرو فونز کی قطار ادھر ادھر اچھالتے ہوئے فرمایا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد اگر چھ ماہ میں لوڈشیڈنگ کو ختم نہ کیا تو میرا نام بدل کر رکھ دینا۔ انہوں نے اپنے ہر دعوے پر اب تک اپنے نام بدلنے کا اتنی بار کہا ہے کہ اب یہ جملہ ان کی تقریروں کے ٹیپ کا مصرعہ بن چکا ہے اور لوگ اسے ان کا تکیہ کلام سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔ وزیر اعظم کی بھی جب کسی صحافی نے اس فقرے کی طرف توجہ دلائی یاد دلائی تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا ان کی باتوں پر زیادہ توجہ نہ دیں وہ ایسی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے د ور حکومت میں رینٹل پاور سٹیشن کا ڈرامہ رچایاگیا۔ نندی پور کا پاور پلانٹ ' بہادر پور میں 720 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کا یہ پلانٹ چترال میں ہائیڈل پاور کے منصوبے اگر ان سب کو یکجا کردیاجائے تو پاکستان کا لوڈشیڈنگ فری ملک بننے میں کوئی شک نہیں رہے گا۔ اس نوع کے ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات صرف اسی صورت میں سامنے آسکتے ہیں جب ہمارے حکمران لا یعنی مسائل میں الجھنے کی بجائے پوری طرح ان کی طرف توجہ دیں۔ صورتحال یہ ہے کہ ابھی ایک مسئلہ ختم نہیں ہوتا تو دوسرا سامنے آجاتا ہے۔ گزشتہ چار سالوں پر نظر دوڑائی جائے تو اپوزشن نے اگر حکمرانوں کو سکون کا سانس نہیں لینے دیا تو حکمرانوں نے بھی اپنے تمام وزیروں کو اپوزیشن پر مسلسل تنقید کے کام پر لگا رکھا ہے۔ حکمرانوں کی کارکردگی صرف اشتہارات تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔ انتخابات میں دھاندلی' دھرنے' ریمنڈ ڈیوس کی کتاب' پانامہ سکینڈل' حسن نواز کی تصویر' مریم نواز صاحبہ کو ایس پی کا سلیوٹ' ڈان لیکس' جے آئی ٹی پر لعن طعن' قطری شہزادہ۔ قارئین خود فیصلہ کریں کہ ان میں سے کونسا ایسا ایشو ہے جس کے حل ہونے سے قوم کو لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات مل سکتی ہے۔ خادم اعلیٰ اگر قوم کو ملک سے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی خوشخبری سنا دیں تو اس پر زیادہ اعتبار نہ کریں وہ تو ان کا تکیہ کلام ہے۔ اس ضمن میں ہم صرف یہی کہہ سکتے ہیں۔

اللہ کرے زور بیاں اور زیادہ

متعلقہ خبریں