پانی کا بلبلہ

پانی کا بلبلہ

آتے جائو جاتے جائو پیتے جائو کھاتے جائو یہ مشہور و معروف شاعر ظفر اقبال کی غزل کا مطلع ہے اسے دو چار بار پڑھئیے تو یہ بہت سی کہانیاں سناتا نظر آتا ہے دو چار سادہ سے الفاظ ہیں جن کے لیے آپ کو کوئی لغت کھول کر دیکھنی نہیں پڑتی لیکن ان الفاظ میں معنویت کا ایک جہاں پوشیدہ ہے زندگی گزارنے کا پورا فلسفہ موجود ہے ہم اکثر ایک دعا مانگا کرتے ہیں : یا اللہ زندگی کو میرے لیے آسان کردے! کتنی جامع دعا ہے اگر زندگی آسان ہوگئی تو پھر اور کیا چاہیے اس شعر میں بھی زندگی کو آسان بنانے کی ترکیب کتنی سہولت کے ساتھ بتا دی گئی ہے اگر بندے کی سمجھ میں یہ بات آجائے تو بڑی بڑی مصیبتوں سے بچ جائے ارے بھائی کسی سے کیا لینا دینا تجھے پرائی کیا بنی اپنی نبیڑ تو!جو نصیب میں ہے وہ مل کر رہے گا قناعت بہت بڑی دولت ہے دوسروں کے مال پر نظر رکھنے سے کیا ہوتا ہے جو رب کریم نے عطا کر رکھا ہے اسی پر قناعت کرلو آتے جائو جاتے جائو! زندگی نام ہی آنے جانے کا ہے ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں!جو بہت زیادہ اکٹھا کر لیتے ہیں نہ خود کھاتے ہیں اور نہ ہی کسی کو کھانے دیتے ہیں انہیں بھی تو سب کچھ ایک دن چھوڑ کر جانا ہوتا ہے اس لیے کیا یہ ایک اچھی بات نہیں ہے کہ جو تمھارا ہے اسے استعمال تو کرلو مشہور مقولہ ہے : جو کھا گیا وہ رنگ لا گیا جو جوڑ گیا وہ چھوڑ گیا جوڑا ہوا یعنی جمع شدہ مال ایک دن چھوڑ کر جانا ہوتا ہے زندگی پانچ سو برس کی تو نہیں ہے ستر اسی برس بہت ہوتے ہیں بہت ہوا تو سو برس جی لیے! اگر کھانے پینے سیر سپاٹے والی زندگی کی بات کرو تو وہ زیادہ سے زیادہ ساٹھ برس تک ہی ہے اس کے بعد انسان زندگی کے بوجھ کو اٹھائے پھرتا ہے جب زندگی بوجھ ہوجائے تو اسے زندگی تو نہیں کہا جاسکتا بوجھ اور زندگی میں بڑا فرق ہوتا ہے ۔ ایک بات جو حضرت انسان کو لے ڈوبی ہے وہ زیادہ کی خواہش ہے اور اس خواہش سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ زیادہ کو جمع کرکے اس کے تصور سے لطف اندوز ہونا جو اندر پڑا ہے وہ بظاہر لگتا تو آپ کا ہے لیکن وہ تو اس کا ہے جس کے استعمال میں آئے گا آپ کے پاس موجود چیز اس وقت آپ کی ہوتی ہے جب آپ اسے استعمال کرتے ہیں ورنہ دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے والی بات ہے لوگ سوئٹزر لینڈ کے بینکوں میں اپنے اثا ثے رکھ کر ان کی ملکیت پر نازاں ہوتے ہیں وہ اسے اپنی ملکیت سمجھتے ہیں مگر وہ مال تو اس کا ہے جس کے استعمال میں آئے گا چیزوں کی اہمیت ان کے استعمال کی وجہ سے ہوتی ہے اس کی مثال ایک چھوٹے سے واقعے سے بھی سمجھی جاسکتی ہے ایک دوست جو بہت بڑے پلازے کا مالک تھااللہ کا دیا بہت کچھ تھا اثاثوں کا کوئی شمار نہیں تھا بہت بڑے بنگلے میں رہائش تھی ہر روز روز عید ہر شب شب برات والی کیفیت تھی دنیاوی نعمتوں کا حصول اس کے دسترس میں تھا دوپہر کا وقت تھا کھانا بالکل تیار تھا ایک مہمان کی آمد ہوگئی اس نے مہمان سے کہا گھر سے آلو کی بھجیا اور چھولے آئے ہوئے ہیں دونوں مل کر کھائیں گے تو کھانے کا لطف دوبالا ہوجائے گا مہمان بھی کھانے پینے والا تھا اور پھر دوست کی حیثیت بھی اس کے سامنے تھی یہ آلو کی بھجیا اور چھولوں والی بات اس کی سمجھ میں نہ آئی حیران ہو کر کہنے لگا آلو کی بھجیا اور چھولے!ار ے بھائی میرے لیے تو تکے کباب منگوائو آلو کی بھجیا اور چھولے بھی چکھ لیں گے میز بان کی تیوری تو چڑھی لیکن انکار کی کوئی گنجائش نہیں تھی مہمان کی فرمائش تو بہر حال پوری کرنی ہوتی ہے گرما گرم تکوں اور کبابوں کی کڑاہی مہمان کے سامنے حاضر ہوگئی جب کھانا شروع ہوا تو مہمان کی ستم ظریفی ملاحظہ کیجیے اپنے دوست کی طرف دیکھ کر کہنے لگا کھا ئو یا ر میرا نصیب تم بھی کھائو میزبان تو پہلے سے جھلا بھنا بیٹھاتھا اس بات پر تلملا اٹھا کیا مطلب کیا یہ میرا نصیب نہیں ہے؟ ارے بھائی تیرا نصیب تو آلو کی بھجیا اور چھولے ہیںتکے اور کباب تو میری فرمائش پر منگوائے گئے ہیں اگر میں نہ آتا تو تم تکے کبا ب کہاں کھاتے؟پھر کچھ سوچ کر کہنے لگا ناراض مت ہونا دال سبزی اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے اگر غریب کے لیے گاجر ہے تو امیر کے لیے سیب بھی تو موجود ہے سب نعمتوں سے لطف اندوز ہونا چاہیے اور اگر رب دے رہا ہے اور بندہ نہیں کھا رہا تو اس سے بڑی ناشکری اور نعمت کی بے قدری اور کیا ہوسکتی ہے کھا لے پی لے موج اڑا آدمی تو پانی کا بلبلہ ہے ۔ کیا بھروسہ ہے زندگانی کا آدمی بلبلہ ہے پانی کا ۔ جو اس دنیا میں آتا ہے ایک دن اس نے جانا بھی ہوتا ہے اپنے سامنے موجود نعمت سے لطف اٹھانے والے ہی خوش نصیب ہوتے ہیں کل کے بھروسے پر زندگی گزارنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں نعمتیں دیکھنے کے لیے نہیں ہوتیں یہ برتنے کے لیے ہوتی ہیں پرانی بات ہے ہمارے دوست کا چھوٹا بھائی ایک سیاسی کارکن تھا کسی احتجاجی جلو س میں گرفتا ر ہوا تو سیدھا ہری پور جیل بھیج دیا گیا وہاں سے اس نے ایک خط لکھا جس میں اپنی خیریت اور حال احوال پوچھنے پر اس نے ایک جوابی شعر لکھا تھا : کوئی آتا ہے کوئی جاتا ہے دنیا پھدو کھاتہ ہے اگر غور کیجیے تو یہ صرف شعر نہیں ہے بلکہ دنیا کی حقیقت کھولنے والا ایک قول زریں ہے یہی وہ موتی ہیں جو انسان اپنے پلے باندھ لیتا ہے ہمیں ظفر اقبال کا شعر بھی اسی لیے اچھا لگا کہ یہ اپنے اندر زندگی کے حقائق کا ایک جہان معانی لیے ہوئے ہے اس میں یک کچکول اور یک بہلول والی بات ہے بہلول کو اسی لیے دانا کہا جاتا ہے کہ اس کے پلے کچھ نہیں تھا جو نہ کھاتے ہیں اور نہ پیتے ہیں حرام حلال جمع کرتے ہیں اللہ کے نام پر دینے سے بھی جان جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں