پی ٹی آئی انٹرا پا رٹی الیکشن

پی ٹی آئی انٹرا پا رٹی الیکشن

کسی ملک کے سیاسی نظام اور سیاسی پا رٹیوں میںنچلی سطح پر انتخابات ، لیبر یونین، سٹوڈنٹ یو نین اور بلدیاتی ادارے جمہوری نظام اور قیادت کو نکھارنے کے لئے ایک مضبو ط پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں۔ مگر بد قسمتی سے نہ تو سیاسی پا رٹیوں میں انتخابات ہوتے ہیں اور نہ کالج اور یونیور سٹیوں میں مُثبت سیاسی فضا کو پروان چڑھاکر مستقبل کی لیڈر شپ کو تیار کیا جاتا ہیبلکہ عموماً اس پر پابندی ہوتی ہے۔ اسی طرح نہ تو بلدیاتی اداروں کو اختیارات دے کرنئی لیڈر شپ اور قیادت کو سامنے لایا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت ملک میں سٹیٹس کوStatus quoاور موروثی سیاست دانوں کا ملکی سیاست پر قبضہ ہے اور حقیقی لیڈر شپ کا فقدان ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان ایک ترقی یافتہ ریاست کے بجائے پیچھے کی طرف جا رہا ہے۔ پاکستان کی تمام سیاسی پا رٹیوں میںجماعت اسلامی کے علاوہ کسی سیاسی پا رٹی میں کوئی حقیقی انتخابات نہیں ہوتے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد اُنکی بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو کو پارٹی قیادت سونپی گئی ،اُنکی شہادت کے بعد بے نظیربھٹو کے شوہر آصف علی زرداری پا رٹی سربراہ بن گئے ۔ آصف علی زر داری کے بعداُنکے فر زند بلا ول بھٹو زرداری کو پا رٹی کا چیرمین بنا دیا گیا ۔ حالانکہ پا رٹی میں قابل اور ذہینلیڈر مو جود تھے مگر اس نو وارد بچے کو پی پی پی کا سربراہ بنایا گیا ۔پیپلز پا رٹی کے ور کروں کو تر غیب دینے کے لئے بلاول زر داری کے نام کے ساتھ بھٹو کا اضافہ کیا گیا۔ اسی طرح جمعیت العلمائے اسلام میں مولانا مُفتی محمود کے بعد انکا بیٹا مولانا فضل الرحمان ، مولانا عبد الحق کے بعدانکا بیٹا مولانا سمیع الحق، نواز شریف اور شہباز شریف، بالترتیب اپنے بیٹی مریم نواز اوربیٹے حمزہ شریف کو مسلم لیگ کی قیادت سونپنے کے لئے تربیت دے رہے ہیں۔اسکے علاوہ اے این پی کے خان عبد الغفار خان کے بعد اُنکے بیٹے خان عبدا لولی خان پا رٹی صدر بن گئے اور اب صدارت کے لئے اسفندیار ولی خان ۔ تحریک انصاف جو انصاف اور احتساب کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں ان کی پا رٹی میں بھی انٹرا پا رٹی الیکشن ہوئے اور اُس میں بھی روا یتی سیاسی پا رٹیوں کی طرح تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان اور مالی وسائل کے لحاظ سے مضبوط ترین دوست جہانگیر ترین ، شاہ محمود قریشی انصاف گروپ سے پا رٹی کے بڑے بڑے عہدوں پر مُنتخب ہو گئے ۔ عمران خان کے مد مقابل گم نام گروپ احتساب پینل کو اس الیکشن میں ناکامی ہوئی۔پا رٹی کے کئی بنیادی اور بانی ور کروں کی جگہ سٹیٹس کو اور Electable کامیاب کرائے گئے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پا رٹی کے رجسٹرڈ 27 لاکھ ووٹوں میں عمران خان کے انصاف گروپ نے ایک لاکھ 90 ہزار اور احتساب گروپ نے 42 ہزار ووٹ لئے اور 27 ہزار ووٹ بوگس قرار دئے گئے۔ ماضی میں بھی تحریک انصاف میں ایک الیکشن ہوا تھا اس میں اعظم سواتی پر الزام تھا کہ اُنہوں نے انٹرا پا رٹی الیکشن میں دھاندلی کی ۔ جسٹس وجیہہ الدین کی رپورٹ اور پا رٹی آئین کے مطابق تحصیل، ضلع ، یو نین اور صوبے میں ایک وقت میں ووٹ ہونگے اور جو پاپولر ووٹ ہونگے وہ یونین کونسل، تحصیل ، ضلع اور صوبائی سطح پر مُنتخب ہونگے۔اگر ہم مندرجہ بالا ووٹوں پر طا ئرانہ نظر ڈالیں تو 27 لاکھ ووٹوں میں ڈھائی لاکھ ووٹ پول ہونا نہ ہونے کے برابر ہے۔ انٹرا پا رٹی الیکشن کو صوابی سے تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری اور پی کے 31 سے سابقہ اُمیدوار یو سف علی خان نے الیکشن کمیشن میں چیلنج کیا ہے اور اُنہوں نے اس الیکشن کو بو گس غیر قانونی ، غیر آئینی اور پا رٹی کے منشور کے خلاف گر دانا ہے۔ یہ پا رٹی کے وہ ورکر ہے جنہوں نے پا رٹی کے لئے اپنی جائیداد اور دیگر اثاثے فروخت کرکے پا رٹی دھرنوں اور الیکشن کامیاب کرانے کے لئے دن رات محنت کی ۔اب سوال یہ ہے کہ اتنے کم ووٹ پول ہونے سے یہ لگتا ہے کہ یا تو عمران خان پر اپنے ورکروں کے اعتماد ختم ہو گیا یا ورکروں کی جنون میں کمی آئی اور یا یو سف علی خان کی سوشل و الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر مہم اتنی مو ثر تھی کہ انہوں نے اتنے کم ووٹ لئے۔اگر ہم 2013ء کے عام الیکشن پر طائرانہ نظر ڈالیں تو اس الیکشن میں پاکستان مسلم لیگ(ن) نے ایک کروڑ 40 لاکھ ووٹ پاکستان پیپلز پا رٹی نے 69لاکھ اور تحریک انصاف نے 78 لاکھ ووٹ لئے۔ اور ووٹوں کے لحا ظ سے تحریک انصاف بڑی سیاسی پا رٹی تھی۔ مگر میرے خیال میں عمران خان کا اپنے ورکروں پر اعتماد ختم ہوگیا اور یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ کی طرح 195 بڑے لیڈر پی پی پی سے پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے اور وہ ورکرز جنہوں نے پارٹی کے لئے دن رات ایک کیا اُسکی اب پا رٹی میں کوئی پو زیشن نہیں۔ اگر ہم1971ء کے عام انتخابات پر نظر ڈالیں تو اس وقت پاکستان کی سیاست میں بڑی بڑی پا رٹیاں تھیں اور ذوالفقار علی بھٹو عمران خان کی طرح سیاست میں نو وارد تھے مگر اُنہوں نے سٹیٹس کو کے بغیر قومی اسمبلی کی 81 نشستیں جیتیںجو مغربی پاکستان میں سب سے زیادہ تھیں اور اس طرح وہ وزیر اعظم بن گئے۔ عمران خان کے موجودہ روئیے سے پتہ چلتا ہے کہ ورکروں پر انکو یقین نہیں اور جن کوماضی میں ہدف تنقید بناتے تھے وہ عمران خان کے ہمنواہوگئے۔ایک مشہور قول ہے کہ زنگ آلود لوہا اچھی تلوار نہیں بن سکتا۔انگریزی میں کہتے ہیںGovernament of the people, by the people for the peopleمگر ہمارے ملک میں جمہوریت اور جمہوری نظام صرف اشرافیہ کا ہے۔ 

متعلقہ خبریں