مشرقیات

مشرقیات

شیخ سعدی فرماتے ہیںکہ ایک دفعہ بزرگوں کے ایک گروہ کے ساتھ میں کشتی میں بیٹھا تھا ہمارے پیچھے ایک چھوٹی کشتی ڈوب گئی اوران میں سوار دو بھائی ایک بھنور میں پھنس گئے میرے ساتھی بزرگوں میں سے ایک نے ملا ح سے کہا کہ جلدی دونوں بھائیوں کو بچائو تجھے ہر ایک کے عوض پچاس دینار دوں گا۔ ملاح پانی میں کود پڑا اور ایک بھائی کو بھنور سے بچالینے میں کامیاب ہوگیا۔ لیکن دوسرا ہلاک ہو گیا۔ میں نے کہا کہ ان کی زندگی با قی نہ رہی تھی اس لئے تونے اس کو پکڑنے میں سستی کی اور دوسرے کے پکڑنے میں بڑی پھرتی دکھائی۔ ملاح ہنس پڑا اور کہا کہ جو کچھ تو نے کہا ہے درست ہے لیکن ایک دوسرا سبب بھی ہے میں نے کہا کہ وہ کیا' کہنے لگا کہ اس کو بچانے کی خواہش میرے دل میں زیادہ تھی کیونکہ ایک دفعہ میں جنگل میں سخت تھک گیا تھا اس نے مجھے اپنے اونٹ پر بٹھایا جبکہ دوسرے کے ہاتھ سے میں نے لڑکپن میں ایک کوڑا کھایا تھا میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو شخص نیک کام کرتا ہے وہ اس کی اپنی ذات کے لئے فائدہ مند ہے اورجو شخص برا کام کرتا ہے اس کی برائی بھی اسی پر ہے۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ جیسا کروگے ویسا بھروگے۔ آ ج اگر ہم کسی سے برا سلوک کریںگے تویہ بات ذہن میں رہے کہ کل کو ایسا وقت بھی آسکتا ہے کہ اس کا بدلہ ہم سے لیا جاسکتا ہے۔ اسے مکافات عمل کہتے ہیں۔
احمد بن طولون نے ایک مرتبہ اپنی جیب میں ایک پرچہ پایا۔ نہ ان کو یہ پتا تھا کہ کس نے لکھا ہے اور نہ یہ پتا تھا کہ کس نے رکھا ہے؟ دیکھا تو اس میں حمد وصلوٰة کے بعد لکھا ہوا تھا اما بعد! تم بادشاہ بنے' تو تم نے لوگوں کو قید کیا' تمہیں طاقت ملی تو تم اکڑ گئے' تمہارے اوپر وسعت کی گئی تو تم نے لوگوں پر تنگی کی' حالانکہ تم بددعا کا نتیجہ اچھی طرح جانتے ہو۔ اس کے باوجود نہ تو تم باز آئے اور نہ ہی تم میں کوئی ڈرو خوف پیدا ہوا۔تمہیں تمہاری لذتوں نے ضروری کاموں سے غافل کردیا' یہاں تک کہ تمہارے خاص خاص دوست احباب تمہیں چھوڑ گئے اور عوام تم سے نفرت کرنے لگے۔ کیا تم کو یہ بات نہیں پتہ کہ اگر دنیا ہمیشہ عقل مند ہی کا ساتھ دیتی تو کبھی کسی جاہل کو بادشاہت حاصل نہ ہوتی؟پس تم کرتے رہو جو تمہیں کرنا ہے' ہم بدلہ لیںگے۔ تم ظلم کرتے رہو' ہم اللہ سے تمہارے ظلم کے خلاف مدد مانگیںگے۔ تم زیادتی کرتے رہو ہم اللہ ہی سے تمہارے سارے شکوے کریںگے۔ اللہ تعالیٰ سورة الشعراء میں فرماتا ہے:ترجمہ: ''عنقریب ظالم لوگ جان لیںگے کہ وہ کدھر کو چلے جارہے ہیں''۔ احمد بن طولون اسے پڑھ کر بہت زیادہ روئے اور اکثر اوقات اس رقعہ کو پڑھا کرتے اور روتے۔ (المقفیٰ/ تاج المفرق)
کاش ایسے حکمران آج بھی مسلم امہ کو نصیب ہوں جو اپنی رعایا کے دکھ درد کو محسوس کرکے عوام کی فریاد سے ان کے دل موم ہو جاتے۔ خوف خدا ان کے دلوں میں ہر وقت موجود رہتا حکمرانی کو صحیح معنوں میں عوام کی خدمت کا ذریعہ سمجھے۔

متعلقہ خبریں