امریکی ایوان نمائندگان میں ایک بار پھر پاکستان کی مخالفت

امریکی ایوان نمائندگان میں ایک بار پھر پاکستان کی مخالفت


امریکی کانگریس کے ایوان نمائندگان میں پاکستان مخالف بل پیش کرنے کی روایت کا اعادہ کرتے ہوئے ایک اور بل پیش کیا گیا ہے۔ بل میں پاکستان کو دہشت گردی کی معاونت کرنے والا ملک قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ بل پیش کرنے والوں کا خیال ہے کہ پاکستان مبینہ طور پر دہشت گردی کا مددگار ہے جس پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا ۔بل میں پاکستان کو دہشت گردوں کا کفیل ملک قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ بل پیش کرنے والے با اثر ری پبلکن رکن کانگریس ٹیڈ پو کے ان زہر آلود خیالات اور امریکہ میںچند تھنک ٹینکس کی جانب سے پیدا کئے گئے تاثر کے برعکس امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام ) کے کمانڈر جنرل جوزف کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے مئو ثر کردار کا پورا پورا اعترا ف ہے۔ انہوں نے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ پاک فوج نے حال ہی میں طالبان اور حقانی نیٹ ورک جیسے امریکہ کے اہم دشمنوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں ۔ امریکی جنرل نے اعتراف کیا ہے کہ طالبان کے بڑھتے حملوں کے باعث افغان حکومت کئی علاقوں میں اپنا کنٹرول کھو رہی ہے اگرچہ محولہ دونوں امریکی عہدیداروں کے بیانات میں سے ایک بیان میں پاکستانی کردار کا اعتراف کیا گیا بادی النظر میں یہ ان کی پالیسی یا مجبوری ہے کہ وہ ایک جانب پاکستان کو دبائو میں لانے اور دفاعی پوزیشن لینے کیلئے اس طرح کے اقدامات کرتے رہتے ہیں مگر ساتھ ہی توازن کیلئے مئو خر الذکر قسم کے بیانات بھی دیئے جاتے ہیں ۔اگر دیکھا جائے تو حقیقی معنوں میں دونوں کا مقصد ایک ہی ہے۔ پاکستان پر تنقید والزامات اور پاکستان مخالف بل پیش کرنے کا یہ معمول کا واقعہ ہے جس کا مقصد امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے کھڑا کردہ ہو ا کو مزید ہوا دینا ہے وگرنہ قبل ازیں بھی اس طرح پیالی میںطوفان اٹھانے والوں کے پیش کردہ بل کی منظوری کی نوبت نہیں آسکی یا پھر اگر ایٹمی دھماکو ں کے بعد پاکستان پر پابندیاں عائد کی گئیں تو پاکستان نے ان کا نہ صرف بھر پور مقابلہ کیا بلکہ ان کو اپنی پالیسیوں کو مزید خود مختار بنانے اور معاشی ترقی کی نئی راہیں تلاش کرنے کا موقع بنایا جس سے امریکی پابندیاں لاحاصل رہیں۔ اس وقت پاکستان کے حوالے سے جو تازہ بل پیش کیا گیا ہے اصول کے تحت صدر کو نوے دنوں کے اندر جواب دینا ہوگا اس کے 30دن بعد وزیر خارجہ کو رپورٹ دینا ہوگی جس میں یا تو انہیں ان مندرجات سے اتفاق کرنا ہوگا یا پھر تفصیل سے بتانا ہوگا کہ پاکستان کو کیوں اس زمرے میں نہیں رکھا جا سکتا ۔ ٹیڈ پونے ایسا ہی ایک بل گزشتہ سال ستمبر میں بھی پیش کیا تھا مگر اس کو منظور نہ کرایا جا سکا ۔ امریکہ کی طرف سے پاکستان کو دبائو میں لانے کی اب تک کوئی پالیسی کا ر گرنہ ہو سکی ہے اس کا بھی وہی حشر ہوگا۔ اس طرح کا رویہ خود امریکا کیلئے نقصان دہ ہوگا امریکہ پاکستان پر پابندیاں تو عائد کر سکتا ہے لیکن اسے چین اور روس کی طرف سے اعانت حاصل نہیں ہوگا پاکستان کے خلاف جو اقدامات تجویز کئے گئے ہیں اولاً اس طرح ہونا خارج از امکان ہے اور اگر بالفرض محال ایسا ہوا تو ان کا الٹا اثر ہو سکتا ہے کیونکہ پاکستان کے خلاف اقدامات انسداد دہشت گردی تعاون کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں ۔ امریکہ کو پاکستان کو خواہ مخواہ مطعون کرنے اور اس پر دبائو ڈالنے کی ضرورت نہیں کیونکہ پاکستانی حکومت پہلے ہی صحیح سمت میںگامزن ہے ۔ اور خاص طور پر موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے چارج سنبھالنے کے بعد پاکستان میںکھل کر ان عناصر کیخلاف کارروائیاں ہوئی ہیں جن کے خلاف کارروائیوں کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے ۔ اس کے باوجود بھی اگر پاکستان کو دبائو میں لانے کی سعی کی گئی تو پاکستان جوابی اقدام کے طور پر امریکہ کو افغانستان میں فوجیوں کو رسد اور ساز و سامان کی فراہمی کیلئے اپنی سر زمین کے استعمال کرنے پر پابندی عائد کر سکتا ہے ۔ امریکہ کو پاکستان کی جانب سے افغانستا ن کی سرحد بند کرنے کے حالیہ اقدام سے اس امر کا اندازہ ہونا چاہیئے کہ جو کچھ کرنا پہلے بہت مشکل سمجھا جاتا رہا ہے پاکستان نے با آسانی اور یکلخت وہ فیصلہ کر دکھایا اور اس ضمن میں کسی قسم کے دبائو میں بھی نہیں آیا ۔ پاکستان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے اسلحہ کی منتقلی اور فوجی رسد کی فراہمی روکے ۔ امریکہ کو اس امر پر بھی غور کرنا ہوگا کہ ماضی میںاس کی لگائی گئی پابندیاں ہیچ ثابت ہو ئیں۔ یہ پابندیاں 1998ء میں پاکستان کو جوہری تجربات جیسے بڑے اقدام سے نہ روک سکیں ۔ امریکہ کو اس امر کا بھی ادراک ہونا چاہیئے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیوں اور اہم افراد کی گرفتاری میں پاکستانی انٹیلی جنس اداروں کا تعاون نمایا ں رہا اور ان اطلاعات ہی کی بدولت ان کے بے شمار اہم منصوبوں کو ناکام بنایا گیا۔ امریکہ اگر دھونس اور دبائو کا رویہ اختیار کر لیتا ہے تو اسے پاکستان کے اس اہم اور مئو ثر تعاون سے محروم ہونا پڑے گا۔ طویل وقفے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ڈرون حملے دوبارہ شروع کئے ہیں جس کیلئے پاکستانی فضائی حدود تک رسائی کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اگر پاکستان کے ساتھ امریکی رویہ معاندانہ ہوا تو پاکستان عدم تعاون کا راستہ اختیار کر سکتا ہے جس کے بعد امریکہ کیلئے اس طرح کے اقدامات ناممکن ہوجائیں گے۔ امریکہ دہشت گردی کے اصل خطرے کا مقابلہ نہیں کر پائے گا ۔ امریکہ کو پاکستان کے خلاف سخت رویہ اپنانے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ پاکستانی حکومت پہلے ہی صحیح راہ پر گامزن ہے ۔ 2014ء میں پاک فوج نے طالبان اور غیر ملکی جنگجوئوں کے خلاف شمالی وزیرستان میں ایک بڑا آپریشن شروع کیا ۔ 2015ء میں عسکریت پسندی سے نمٹنے کے لئے قومی لائحہ عمل تیار کر کے اس پر عمل در آمد شروع کیا گیا جو اب تک جاری ہے اور اب آپریشن ردالفساد سرگرمی سے جاری ہے جس کے دوران ملک بھر میں اورخاص طورپر پنجاب میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ پاکستان میں جب دہشت گردی کے خلاف بھر پور وار ہو ہاہے تو ایسے میں الٹا پاکستان ہی کے خلاف کوئی کارروائی کس قدر دانشمندانہ ہوگی اس کاراز امریکی بزر جمہروں ہی کو معلوم ہوگا ۔

متعلقہ خبریں