پھڈا کس بات پر ؟

پھڈا کس بات پر ؟

ثانوی واعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ پشاور کے کنٹرولر اور اسسٹنٹ کنٹرولر کے درمیان اساتذہ کی امتحانی ڈیوٹیاں لگانے پر پھڈے سے ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹ گئی ہے جس کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیںکہ پس پردہ معاملات کیا تھے اور جھگڑا کس بات پر ہوا ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ میٹرک کے امتحانات میں اساتذہ کی ڈیوٹیاں پر کشش اور منافع بخش ہوا کرتی ہیں ۔یقینا اس میں کنٹرولر و ڈپٹی کنٹرولر سمیت بورڈ حکام کی بھی حصہ داری ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ بعض شوقین اساتذہ نذرانے دے کر ڈیوٹیاں لگواتے ہیں اور بعد ازاں ان کی آشیر باد سے کھل کھیلتے ہیںاستشنیٰ کی بہر حال ہر جگہ گنجائش موجود ہوتی ہے تاہم ثانوی واعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کے امتحانی ڈیوٹیوں میں اس کی شرح کم نہیں ہوگی اگر فہرست کا جائزہ لیا جائے تو مخصوص افراد کی مخصوص جگہوں پر ڈیوٹیاں لگتی ہیں یا پھر ان میں ایسی تبدیلی کی جاتی ہے کہ'' اصل مقصد '' متاثر نہیں ہوتا اسی طرح امتحانی پرچہ جات چیک کرنے والوں کا بھی یہی وتیرہ ہے یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ نجی سکولوں میں بورڈ والو ں کو نذرانہ پیش کرنے کیلئے ،طالب علموں سے باقاعدہ الگ سے رقم وصول کی جاتی ہے ۔ممکن ہے سکول کا نام روشن کر نے کیلئے مالکان بھی خطیر حصہ ڈالتے ہوںاس طرح کے معمول کے واقعات اور اظہر من الشمس صورتحال ہونے کے باوجود حکومت کی طرف سے کبھی بھی اس معاملے کا نوٹس نہیں لیا جاتا۔ ایجو کیشن ریگولیٹری اتھارٹی مافیا بننے نہیں دیتا نتیجتاً ہرکام دھڑلے سے جاری ہے تعلیمی میدان میں انقلاب لانے کیلئے ایمر جنسی نافذ کرنے والے حکام اگر سنجید گی سے اتنا ہی کر لیں کہ کنٹرولر امتحانات اور اسسٹنٹ کنٹرولر امتحان کے درمیان جھگڑے کی وجہ اور اس کا پس منظر کیا تھا اس کی تحقیقات کرائیں تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا ۔ایسا پہلی بار نہیں ہوا اور نہ ہی بورڈ کے بگڑے معاملات کسی سے پوشیدہ ہیں خود حکمران ہی سفارشی اور با اثر عناصر کو خلاف میرٹ اہم عہدوں پر تعینات کریں تو باز پرس اور احتساب کا سوال ہی بے معنی ہو جاتا ہے ۔ صوبے میں تعلیم کے فروغ کے اقدامات کرنا ہیں تو سنجید گی کے ساتھ محکمہ تعلیم میں ایسے افراد کی پست سطح سے لیکر بورڈ کے چیئر مین کی سطح تک تقرریاں کرنی ہوں گی جو میرٹ پر پورا اترتے ہوں ۔

متعلقہ خبریں