ہر مسئلے کا حل ، نئی بھرتیاں

ہر مسئلے کا حل ، نئی بھرتیاں


تجاوزات کے خاتمے کیلئے میونسپل وارڈ نز فورس کے قیام کی تجویز دینے والے اگر بلدیاتی عملے کو تجاوزات کی سر پرستی سے باز رکھنے کا بندوبست کراسکیں تو کسی نئی فورس کے قیام کی ضرورت نہیں رہے گی۔ پشاور میں ٹریفک وارڈنز کا نظام متعارف کر اتے ہوئے جو توقعات وابستہ کی گئی تھیں وہ تو پوری نہیں ہوئیں مگر پشاور کی بے ہنگم ٹریفک بھی قابو میں نہ آسکی مگر کم از کم سڑکوں پر دس دس روپے رشوت لیکر ڈرائیوروں کو چھوڑ دینے کے شرمناک مناظر ابھی نظر نہیں آتے کالی بھیڑوں کی موجود گی کا بہر حال کوئی حل نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہرکام کیلئے اضافی فورس کے قیام کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے اور یہ تجویز کیوں دی جاتی ہے کیا ڈبلیو ایس ایس پی بنانے سے شہر میںصفائی کا مسئلہ حل ہوا یا پھرخزانے پر کروڑوں روپے کا اضافی بوجھ پڑا۔ تجاوزات کی روک تھام کی ذمہ داری ٹریفک پولیس ، شہری پولیس ، رائیڈر سکواڈ اور متعلقہ ، بلدیاتی عملہ با آسانی سنبھال سکتے ہیں بلکہ اگر صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو کسی بھی عملے کا ایک ہی فرد سڑکوں پر تجاوزات کی روک تھام کا فریضہ با آسانی نبھا سکتا ہے بشرطیکہ تجاوزات قائم کرنے والوں سے بھتہ لیکر ان کی سر پرستی نہ کی جائے ۔ قسم قسم کی بھرتیوں سے صوبائی خزانہ پر جو بوجھ پڑتا ہے اس کے باوجود اس میں یہ سامنے آتا ہے کہ آنے والے پرانوں کے نقش قدم پر چل پڑتے ہیں ۔ ہر مسئلے کا حل تقرریاں و تعینا تیاں نہیں بلکہ سرکاری عملے سے کام لینا ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو میونسپل وارڈنز کا قیام بھی لا حاصل ہی ٹھہر ے گا ۔

متعلقہ خبریں