فوجی اور غیر فوجی عدالتیں

فوجی اور غیر فوجی عدالتیں

فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے بل پرپارلیمانی لیڈروں کی کمیٹی نے کافی عرصہ تک غور کیا۔ جمعیت علمائے اسلام ف نے اس بل پر تحفظات کا اظہار کیا ، پیپلز پارٹی نے اس کی مخالفت کی۔ اس بل پر اتفاق رائے حاصل کرنے کی غرض سے کمیٹی کے آٹھ یا نو اجلاس ہوئے۔ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع آئین میں ترمیم کا تقاضا کرتی ہے۔ جیسا کہ دو سال پہلے فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے آئین میں اکیسویں ترمیم متفقہ طور پر …جی ہاں متفقہ طور پر …منظور کی گئی تھی۔ اب جب فوجی عدالتیں دو سال تک کام کرنے کے بعدآئینی تقاضے کے مطابق غیر فعال ہو چکی ہیں اور اس کے باوجود ان کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے تو ایک بار پھر ان کے احیاء کے لیے آئینی ترمیم کی خاطر ایوان کی کم ازکم دو تہائی اکثریت ضروری ہے۔ پیپلز پارٹی اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت ہے۔ جمعیت علمائے اسلام ف بھی ایوان میں نمائندگی کی حامل ہے اور متحدہ قومی موومنٹ بھی۔ جب تک یہ جماعتیں متفق نہیں ہوں گی آئینی ترمیم منظور نہیں ہوگی۔ اس دوران کیا ہوا جو یہ جماعتیں اپنی ہی دو سال پہلے کی رائے سے اختلاف کرنے لگی ہیں؟ اپنی ہی رائے سے اختلاف کا اظہار چند ہفتے پہلے حکمران مسلم لیگ ن نے بھی کیا تھا جب اس کے وفاق اور پنجاب کے صوبائی وزرائے داخلہ نے فوجی عدالتوں کی آئینی مدت ختم ہونے کے بعد کہا تھا کہ اب ان کی ضرورت نہیں رہی۔ پھر وزیر اعظم نے عندیہ دیا کہ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی جانی چاہیے اور اس کی خاطر اتفاقِ رائے حاصل کرنے کے لیے سپیکر قومی اسمبلی پارلیمانی لیڈروں کی کمیٹی تشکیل دی اور اس کے سامنے یہ سوال پیش کر دیا ۔ حکمران پارٹی کے وزراء کی اس رائے کو کہ اب فوجی عدالتوں کی ضرورت نہیں رہی ، وزیراعظم نے خود مسترد کر دیا۔ اس لیے فوجی عدالتوں کی ضرورت ہے۔ حکومت کی طرف سے فوجی عدالتوں کی مدت میں تسلسل کے لیے نئی آئینی ترمیم کا مسودہ بھی پیش کر دیا ہے۔ لیکن پیپلز پارٹی جمعیت علمائے اسلام ف اور ایم کیو ایم نے برملا وزیر اعظم نواز شریف کی اس بات پر اتفاق یا اختلاف کی بجائے کہ ملک اب بھی حالت جنگ میں ہے اس ترمیمی بل میں ترامیم پیش کر دی ہیں۔ اس لیے پہلے اختلاف کرنے والی جماعتوں سے اس بارے میں موقف لیا جانا چاہیے کہ فوجی عدالتوں کی اب بھی ضرورت ہے یا نہیں۔ پھر ان کے موقف کی روشنی میں ان کی تجاویز کا جائزہ لیا جائے۔
جمعیت علمائے اسلام ف کی تجویز ہے کہ فوجی عدالتوں میں محض مذہبی اور فرقہ وارانہ وجوہ کی بنا پر قائم ہونے والے مقدمے نہ بھیجے جائیں بلکہ ریاست کے خلاف ہر قسم کی دہشت گردی کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جانے چاہئیں۔ فوجی عدالتوں میں مقدمات فوج دائر نہیں کرتی بلکہ وفاقی حکومت ایسے مقدمات فوجی عدالتوںکو ارسال کرتی ہے ۔ اس طرح وفاقی حکومت پر بوجھ پڑے گا کہ وہ کسی مقدمہ کے بارے میں یہ فیصلہ کرے کہ یہ دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں ۔ دیکھنا یہ ہے کہ آیا وفاقی حکومت یہ ذمہ داری لینے پر تیار ہے ۔
ایم کیو ایم کا موقف دہشت گردی پر متوجہ نہیں بلکہ آئندہ متوقع عام انتخابات تک موجودہ حکومت کی مدت حکمرانی پر متوجہ ہے۔ اس طرح ملک میں آج دہشت گردی کی بنا پر ہنگامی صورت حال ہے یا نہیں اس سوال سے صرف ِ نظرکرتے ہوئے فوجی عدالتوں کی توسیع کو موجودہ حکومت کی مدت کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ دہشت گردی کے باعث خصوصی صورت حال موجودہ حکومت کی مدت تک ہے یا موجودہ حکومت کے تصور سے منسلک ہے ۔آئندہ آنے والی حکومت اپنے طور پر یہ طے کرے گی کہ دہشت گردی ہنگامی صورت حال کا باعث ہے یا نہیں۔ ممکن ہے حکومت کی اس موقف کے مضمرات پر نظر ہو بات ذرا پیچیدہ ہے۔ پیپلز پارٹی فوجی عدالتوںکی مدت میں توسیع کی مخالف ہے ۔ یعنی اس بات سے انکار کیا جارہا ہے کہ دہشت گردی کے باعث ملک میں خصوصی صورت حال ہے۔ یہ دلیل کہ مہذب جمہوری معاشروں میں فوجی عدالتیں نہیںہوتیں بجا لیکن اس صورت میں جب مہذب جمہوری معاشروں میں خصوصی ہنگامی صورت حال نہ ہو۔ یہ بھی بجا کہ تمام مقدمات عام نظام عدل کی عدالتوں میںفیصل ہونے چاہئیں لیکن اس صورت میں جب نظام عدل انصاف کرے اور انصاف ہوتا ہوا نظر آئے۔ اس نظام عدل کو ٹھیک کرنے کی جو فوری ضرورت کی نشاندہی نیشنل ایکشن پلان میں کی گئی تھی جسے سب سیاسی جماعتوں کی متفقہ منظوری حاصل تھی لیکن پارلیمنٹ نے فوجی عدالتوں کی دو سال کی مدت کے دوران (اور اس سے پہلے بھی) اس طرف کوئی توجہ نہیں کی حکومت تو خیر حکومت ہے پیپلز پارٹی جواپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت ہے ، اس نے بھی کبھی نظام عدل کی اصلاح کی ضرورت کی نشاندہی نہیں کی۔ اس لیے خصوصی صورت حال میں خصوصی عدالتوں کے سوال پر اگر یہ ایسے دلائل پیش کرے تو یہی باور کیا جا سکتا ہے کہ خصوصی صورت حال میں خصوصی اقدامات کی ضرورت نہیں (جبکہ پیپلز پارٹی دو سال پہلے خصوصی فوجی عدالتوں کی منظوری دے چکی ہے) نظام عدل کے حوالے سے وہی صورت حال برقرار رہنی چاہیے جو پہلے تھی اور نظام عدل میں سخت گیر اصلاحات نہ ہونے کی وجہ سے موجود ہے۔ پیپلز پارٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کے عوام کے سامنے اپنا موقف پیش کرے کہ اس کے نزدیک دو سال پہلے اگر فوجی عدالتیں ضروری تھیں تو اب کیوں ان کی ضرورت نہیں رہی۔ اور ایسی کیا تبدیلی آئی ہے کہ اس کی تو تجاویز منظور کرنا ضروری ہو گیا ہے ۔ ان ترامیم کے منظور کیے جانے فوجی عدالتیں فوجی عدالتیں نہیں رہیں گی ۔تو پھر ایسی عدالتیں کیوں ضروری ہیں جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے فوجی عدالتیں نہ رہیں اور عمومی نظام عدل کا حصہ ہو کر رہ جائیں۔

متعلقہ خبریں