آپ اپنی ادائوں پہ ذرا غور کریں

آپ اپنی ادائوں پہ ذرا غور کریں

بارِ ثبوت اس پر ہے جو مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔جو اصلاح احوال کی بات کرتا ہے ، اسی کی ذمہ داری ہے کہ مسئلے کا حل بھی پیش کرے۔ بالخصوص مذہبی طبقے کو اس کا خیال رکھنا چاہیے کیونکہ ان کی ہر بات میں قرآن و حدیث کاذکر ہوتا ہے۔لیکن مذہبی طبقہ اس کا کتنا خیال رکھتا ہے اس کا اندازہ ایک واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے۔ گزشتہ دنوں مجھے ایک کال موصول ہوئی ، بولے کہ مولانا فضل الرحمان کے گھر سے بات کر رہا ہوں'' میں نے کہا فرمائیے، کہنے لگے کہ آپ نے ''بچوں کا مشرق'' میں بعنوان ''بچوں کی پانچ پیاری عادتیں'' کے تحت لکھا ہے کہ
١۔ وہ رو کر مانگتے ہیں اور اپنی بات منوا لیتے ہیں۔
٢۔وہ مٹی سے کھیلتے ہیں یعنی تکبر اور غرور کو خاک میں ملاتے ہیں۔
٣۔ لڑتے ہیں پھر صلح کر لیتے ہیں یعنی دل میں حسد، بغض اور کینہ نہیں رکھتے۔
٤۔ جو مل جائے وہ کھاتے ہیں اور کھلاتے ہیں، زیادہ جمع کرنے اور ذخیرہ کرنے کی حرص نہیںرکھتے۔
٥۔ مٹی کے گھر بناتے ہیں ، کھیل کود کر گرا دیتے ہیں یعنی بتاتے ہیں کہ یہ دنیا مقام بقا نہیں بلکہ مقام فنا ہے۔
یہ بتا کر کہنے لگے کہ اس عنوان کے نیچے آپ نے حبیبہ عمر اور زوہیب عمر کے نام لکھے ہیں جب کہ یہ حدیث رسول ۖ ہے ۔ میں نے کہا بھائی نیچے جو نام دیے ہیں رائٹرز کے ہیں، جو ہمیں ڈاک یا ای میل موصول ہوتی ہیں اس میں درج نا م ہیں ۔ کہنے لگے کہ مضمون کے شروع میں آپ نے یہ نہیں بتایا کہ یہ رسول کریمۖ کا فرمان ہے ۔ میں نے کہا آپ اس کا ریفرنس بتا دیں ، کہنے لگے کہ وہ تو میں کتاب میں دیکھ کر بتاؤں گا لیکن یہ طے ہے کہ فرمان رسولۖ ہی ہے۔ میں نے کہا ثبوت؟
کہنے لگے ''میں'' کہہ رہا ہوں۔ جب میں نے موصوف کی زبان سے یہ سنا تو بے اختیار کہا کہ اگر آپ مولانا فضل الرحمان صاحب کے گھر سے بات کر رہے ہیں تو پھرآپ بہت ہی سطحی بات کر رہے ہیں اور یہ بھی کہا کہ آپ پہلے ریفرنس تلاش کر لیں پھر اس موضوع پر بات کریں گے لیکن انہوں نے یہ کہہ کر فون ٹھک سے بند کر دیا کہ آپ بہت'' اکھڑ'' مزاج ہیں۔ انہوں نے اپنا نام شاید زین العابدین بتایا تھا ، مجھے فون کرکے وہ تو شاید سو گئے ہوں گے لیکن میںنے پوری رات اس حدیث کی تحقیق میں لگا دی، اپنے دوست احباب کو فون کیے، ان کی مدد اور رہنمائی حاصل کی، معتبر و مستند ویب سائٹس پر جا کر تحقیق کی کہ کیا واقعی مذکورہ بالا حدیث ہے یا نہیں؟ کئی ایک دارالافتاء میں فون کالز بھی کیں تاکہ مختلف احباب کی رائے حاصل کرکے ٹھوس تحریر لکھی جائے جس میں کوئی ابہام یا سقم نہ ہو۔مشہور و معروف ویب سائٹ Mohaddis.com کاوزٹ کیا تو اس حدیث حدیث بارے یہ کہا گیا تھا کہ بسیار کوشش کے باوجود احادیث کی کتب میںیہ حدیث نہیںمل سکی۔ maquboolahmed .blogspot.comمیں اس حدیث سے متعلق یہ تحقیق درج ہے ''یہ بات حدیث کی کسی کتاب میں موجود نہیں یہاں تک کہ ضعیف موضوع میںبھی نہیں۔
مذکورہ بالا ویب سائٹ کا وزٹ کرنے کے بعد میں نے مختلف دارالافتاء میںبھی فون کرکے معلوم کرنے کی کوشش کی کہ آیا یہ حدیث ہے یا نہیں؟ تو مجھے متعدد دارالافتاء کی طرف سے جواب ملا کہ ہم تحقیق کرکے بتائیں گے' چند ایک کی طرف سے جو جواب موصول ہوا وہ نذرِ قارئین ہے۔
دارالافتاء مرکز جمیل الاسلام اسلام کے سربراہ مفتی محمد منصور احمد جو دارالعلوم کے فاضل و متخصص ہیں اور مستند مفتی سمجھے جاتے ہیں انہوں نے بھی اس حدیث سے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا ۔مفتی راشد محمود جو مستند مفتی اور ایک کالج میں لیکچرار ہیں انہوں نے بھی اس حدیث سے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا ۔پشاور کی بہت معروف مسجد درویش کے دارالافتاء کے سربراہ مفتی سبحان اللہ جان سے رابطہ کیا تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ طلباء کے ذمہ لگایا ،خود بھی دیکھا لیکن یہ حدیث نہیں ملی۔ بہت سی بظاہر اچھی باتیں حدیث نہیں ہوتیں، اس کی ابتداء موبائل میسجز سے ہوئی اور اب سوشل میڈیا پر بھرمار ہے۔ کم علم توکجا اب اہل علم بھی دھوکہ کھانے لگے ہیں۔ فتنوںکے دور میں جہا ں بہت سی من گھڑت باتیں دین میں در آئی ہیں اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اس دور کا بڑا فتنہ ہے کہ لوگ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ نبی کریمۖ سے حدیث کو منسوب کر دیتے ہیں۔ اب آتے ہیںاصل ایشو کی طرف ۔ مولانا فضل الرحمان کے گھر سے کال کرنے والا زین العابدین اگر واقعی مولانا فضل الرحمان کے گھر سے بات کر رہا تھا ، مجھے اکھڑمزاج کہہ رہا تھا اور ایک ایسی بات پر اصرار کر رہا تھا جس کا اس کے پاس کوئی حوالہ نہیں تھا۔زین العابدین جب مجھ سے بات کر رہا تھا تو اس کی گفتگو سے یہ تاثر مل رہا تھا جیسے اخبار میں کام کرنے والے جاہل ہوں ،یہ چیز تو عام تھی کہ عوام بغیر تصدیق کے ایسی من گھڑت باتیں آگے پھیلاتے ہیں لیکن یہ پہلا واقعہ میرے سامنے آیا ہے کہ اہل علم من گھڑت بات کو حدیث ثابت کرنے پر مصر ہوں ،یہ اہل علم کے لئے کسی المیے سے کم نہیں ۔تحقیق کرکے سو میں نے اپنی ذمہ داری نبھا ئی، اب جے یو آئی کی ذمہ داری بنتی ہے بالخصوص زین العابدین کی کہ وہ مذکورہ بالا حدیث کا حوالہ پیش کریں۔
آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر کچھ عرض کریں گے تو شکایت ہو گی

متعلقہ خبریں