دشنام طراز یوں کا قومی مقابلہ

دشنام طراز یوں کا قومی مقابلہ

سو سنتالیس توپو ں کی سلامی ان خواتین و حضرات کی خدمت میں پیش کرنے کی ضرورت ہے جواب ہمیں یہ باور کروانے میں مصروف ہیں کہ عمران خان کا چند غیر ملکی کھلاڑیوں کو پھٹیچر کہنا اور مسلم لیگ ن کے ایم این اے جاوید لطیف کا تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی کی عفت مآب بہنوں کے بارے میں عامیانہ زبان استعمال کرنا ایک سی بات ہے ۔ لاریب تحریک انصاف نے مخالفین کی 'پت اتارنے '' کے جماعت اسلامی کے انداز کو نئے تجربوں کے ساتھ متعارف کرایا ۔ سوشل میڈیا پر ا سکے ٹائیگر ز اپنے سیاسی مخالفین کی بہو بیٹیوں اور مخالف خواتین و حضرات سیاست دانوں کے خلاف گالم گلوچ سے کم بات نہیں کرتے ۔ بلکہ بعض تو فرماتے ہیں کہ سیاستدان اس لائق ہیں کے ان کے بارے یہی زبان استعمال کی جائے ۔ ہر چند کے تحریک انصاف کے قائد اور ٹائیگر ز کو اپنی زبان دانی پر کنٹرول نہیں مگر جمعرات کو قومی اسمبلی کی لابی میں جھگڑے کے بعد لیگی ایم این اے نے مراد سعید کی بہنوں بارے جوالفاظ استعمال کئے وہ شرمناک ہیں ۔ کیا محض مذمت کافی ہے یا یہ کہ ادلے کا بدلہ ہے ؟ ۔ ادب کے ساتھ عرض کروں گا کہ جو کچھ کیا گیا اس کے لئے مذمت کے الفاظ بہت کم ہیں ۔ عمران خان کے ہم سے بہی خواہ اور دوست ایک عرصہ سے انہیں یہ سمجھا رہے تھے کہ جس طرح ایک پوری نسل کو عا میانہ پن پر لگا کر مخالفین کی عزتیں اچھالی جارہی ہیں اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا ۔ جمعرات 9مارچ کا دن اس ملک کے سیا ہ دنوں میں سے ایک دن تھا پارلیمنٹ کے باہر ہنگامی پریس کانفرنس میں لیگی ایم این اے جاوید لطیف جو زبان استعمال کر رہے تھے اس پر کم از کم مجھے کوئی حیرانی نہیں ہوئی ۔ سیاسی اخلاقیات اور اخلاقی ساکھ سے محروم لیگی ایم این اے اپنے حلقہ انتخاب کے مخالفین کے لئے بھی یہی زبان استعمال کرتے ہیں ۔ مخالفین کے خلاف منشیا ت کے مقدمات درج کروانا ان کی عاد ت ہے ۔ عارف رامے ان کی زندہ مثال ہیں ۔ یہ قصہ کسی اور وقت پر اُٹھا رکھتے ہیں ۔
یہ پاکستان ہے ،اس کی سیاسی تاریخ بتاتی سمجھاتی ہے کہ فوجی آمروں کی چھتری کے نیچے سیاست کرنے والے کیا کرتے کہتے رہے ۔ ایوب خان صدارتی انتخابات لڑ رہے تھے تو ان کے ایک حامی گوجر انوالہ کے غلام دستگیر خان نے مادر ملت فاطمہ جناح کی تصویر والے پمفلٹ کو کُتے کے گلے میں ڈال کر شہر میں جلوس نکالا تھا۔ اسی دستگیر خان کے صاحبزادے آجکل نواز شریف کی کابینہ میں وزیر ہیں ۔ خود میاں نواز شریف نے 1988ء میں اپنی ماڈل ٹائون والی اقامت گاہ پر ایک میڈیا سیل قائم کیا حسین حقانی اس کے سربراہ تھے۔ پی ٹی وی کے موجودہ چیئر مین سمیت بہت سارے اسلام پسند صحافی اس سیل کے مشیران تھے ۔ اس انتخابی پروپیگنڈا سیل نے محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کی والد ہ کے لیے نازیبا نعرے اورپمفلٹ تیار کروائے پر پمفلٹ انتخابی مہم کے دوران ہیلی کاپٹر وں سے لاہور اور گردو نواح میں گرائے گئے ۔ خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں محترمہ شیر یں مزاری کو ٹریکٹر ٹرالی قرار دیا۔ خود تحریک انصاف کے بعض کار کنوںنے انتہائی قابل احترام محترمہ بیگم نسیم ولی خان بارے جو زبان استعمال کی وہ سیاسی تاریخ کا شرمناک حصہ ہے ۔ میرے دوست ناراض ہوتے ہیں جب یہ عرض کرتا ہوں کہ کہ اب سیاسی ورکروں کا کلچر نہیں رہا ان کی جگہ ٹھیکیدار آگئے ہیں ۔ سیاسی جما عتیں جب ہوا کرتی تھیں ( اب خاندانی کمپنیاں ہیں ) تو وہ اپنے کارکنوں کی اخلاقی اور سیاسی تربیت کے لے اسٹڈی سرکلز کا اہتمام کرتی تھیں ۔ جب سے خاندانی کمپنیوں نے سیاست کو کاروبار بنایا ہے اس وقت سے سیاست میں بازاری زبان داخل ہوئی ہے ۔ خود ہمارے محبوب دوست عمران خان کو اپنی زبان پرکنٹرول نہیں مگر ایک عمران خان ہی کیا سیاست کے اس حمام میں سب کی حالت یکساں ہے ۔ آگے بڑھنے سے قبل یہ تسلیم کرنا پڑے کہ پیپلز پارٹی والوں کی قوت برداشت بہت اعلیٰ ہے۔ ٹائیگرز نے زبان محترمہ بے نظیر بھٹو ، ان کے صاحبزادے بلاول اور بیٹیوں بختاور اور آصفہ یا پی پی پی کی سینیٹر شیریں رحمن بارے استعمال کی اپنوں نے پلٹ کر اس طرح جو اب دینے سے گریز کیا ۔ مگر نواز لیگ اور تحریک انصاف کا معاملہ الگ ہے نواز لیگ جنرل ضیا ء الحق کے سیاسی مدرسے کی تخلیق ہے ۔ جنرل ضیاء الحق کہا کرتے تھے میں اشارہ کروں گا تو سیاستدان دم ہلاتے ہوئے آئیں گے ۔ تحریک انصاف کی قوت وہ لوئر مڈل کلاس ہے جو پہلے سیاسی عمل سے دو ر بیٹھ کر گالیاں دیتی تھی اب اپنے گالی نفرت کے کلچر سمیت سیاست کے میدان میں ہے۔ عمران خان کے پھٹیچر والے الفاظ کی ویڈیو کے معاملے کو لے کر تحریک انصاف کے کارکنان اسلام آباد کی صحافی سیدہ عفت رضوی اور اس کے خاندان بارے جو کہہ لکھ رہے ہیں جاوید لطیف کی بات اس سے ہزار درجہ کم شرمناک ہے ۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ چونکہ تحریک انصاف کے لوگ غلط کرتے کہتے ہیں تو دوسروں کی بازاری زبان کو جواب آں غزل کے طور پر لیا جائے ۔ سیاست میں گالم گلوچ اور مخالفین کی خواتین بارے عامیانہ پن کے مظاہرے کی خالق مسلم لیگ (ن) ہے اور بد قسمتی سے اس زبان کے موجد اسلامی صحافت کے علمبر دار ہیں۔ مبینہ طور جمعرات 9مارچ کو قومی اسمبلی کی لابی میں اور پھر پالیمنٹ کے باہر جو زبان استعمال ہوئی وہ محض قابل مذمت نہیں بلکہ سنجیدہ اقدامات کی متقاضی ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر سیاسی جماعتوں کو سوچنا ہوگا کہ وہ کیا گل کھلارہی ہیں ۔ حرف آخر یہ ہے کہ خاندانی کمپنیوںکو سیاسی جماعتوں میں تبدیل کرنے کی شعوری کو ششیں نہ ہوئیں تو محض حالات نہیں زبانوں کے مزید بگڑنے کے خطرات بڑھیں گے۔ اس لئے کم لکھے کو بہت سمجھ کر اصلاح احوال پر توجہ دیجئے ۔

متعلقہ خبریں