زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا

زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا

اس طالب علم کا کام ہے آئینہ دکھانا مگر اپنا قصور صرف اتنا ہے کہ یہ کام نا بینائوں کے شہر میں کیا جا رہاہے۔ البتہ جو بینا ہونے کے دعویدار ہیں انہیں یہ حرکت بری لگتی ہے کیونکہ بد قسمتی یہ ہے کہ آئینہ دکھانے کی وجہ سے انہیں اپنی ہی صورت دکھائی دیتی ہے اور وہ جو شاعر نے کہا تھا کہ
آئینہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے
جن کو اپنے چہروں کی کجی نظر نہیں آتی وہ آئینے کو ہی قصور وار گرداننے لگتے ہیں۔اخترسعیدی نے کہا تھا
کردیا بے نقاب چہروں کو
آئینہ کتنا برگزیدہ ہے
اپنا کام تو معاشرے کی کجی کو سامنے لانا ہے اب اس کے اثرات کس کس پر پڑتے ہیں اس سے ہمیں کیا غرض۔ اگر لوگ اپنا رویہ درست کرلیں تو ان کے بارے میں کوئی منفی بات کرنے والا یقینا پاگل ہی ہوگا۔ لیکن جب بلا سوچے سمجھے بولا جائے' نا مناسب حکومتیں کی جائیں تو ان کی توصیف کیسے کی جاسکتی ہے۔ خیر رہنے دیجئے کہ یہاں اپے گریبان میں جھانکنے کی نہ کسی کو فرصت ہے نہ ہی اخلاقی جرأت مگر دوسروں نے ذرا سی توجہ دلائی تو لٹھ لے کر اس کے پیچھے پڑ گئے اور یہ صرف ہمارے ساتھ نہیں ہوتا اکثر کالم نگار اسی رویے کا نشانہ بنتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ بقول مرزا غالب
وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے' ہم اپنی وضع کیوں بدلیں
سبک سربن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو
اس کا آسان علاج بھی ہم آپ کو بتا دیتے ہیں اور وہ یہ کہ جس بھی کالم نگار یا تجزیہ کار کی تحریر آپ کو پسند نہیں یا وہ آپ کی سوچ کے مطابق نہیں ہیں لکھتا تو خواہ مخواہ اپنے فشار خون میں اضافہ کرنے سے بہترہے' آپ ان لوگوںکی تحریر پڑھنے کی زحمت ہی نہ فرمائیں' آپ یقینا سکون سے رہیں گے۔ اپنی تو یہ حالت ہے کہ اگر کوئی (خواہ کوئی بھی) اس ملک کو بد نام کرنے کے لئے کوئی بھی عمل کرتا ہے ' قلم خود بخود اس پر تنقید کرنے کے لئے رواں ہوجاتا ہے اور یہ الزام کہ ہم صرف فلاں فلاں کے خلاف لکھتے ہیں یا فلاں فلاں کو ہم نے بخش دیا ہوا ہے یہ محض آپ کی سوچ ہوسکتی ہے۔ شاید آپ نئے ہیں ہماری تحریریں پڑھنے والے حالانکہ ہم گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف اخبارات میں کئی ناموں سے کالم آرائی کرتے آرہے ہیں اوراس دوران ہم نے ہر اس شخص کے خلاف آواز اٹھائی ہے جس نے خواہ زبان سے یا پھر عمل سے اس وطن کی جڑوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ در اصل اس ملک کی سیاست کی جو حالت ہے اس حوالے سے اس حمام میں اکثریت بے لباسی کا شکار ہے بلکہ بقول شاعر
مرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں
کہیں سرے محل کی داستانیں ہیں' کہیں پانامہ لیکس کے قصے اور کہیں آف شور کمپنیوں کا تذکرہ۔ ان تمام معاملات کا جائزہ لیا جائے تو جملہ سیاسی قیادت کی اکثریت ان تمام معاملات میں ملوث پائی جاتی ہیں اور ایک دوسرے کو رسوا کرنے کے لئے یہ لوگ ایک دوسرے کے گندے اور غلیظ کپڑے بیچ چوراہے کے دھوتے رہتے ہیں۔ بمشکل ہی کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کے دامن پر کوئی داغ نظر نہیں آتا۔ ان حالات میں اگر کوئی شخص الٹا اس طالب علم پریہ الزام لگا ئے کہ وہ صرف مخصوص افراد کے خلاف کالم لکھتا ہے اور ''دوسروں'' کے خلاف نہیں لکھتا تو اس کا مقصد یہ ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ تو عرض ہے بھائی کہ جہاں پوری دال ہی کالی ہو وہاں تخصیص کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پھر بھی اگر آپ ایسا سمجھتے ہیں تو اس قسم کی سوچ اپنانے سے آپ کو کوئی بھی نہیں روکے گا۔ کیونکہ یہ خاکسار تو اپنے ضمیر کے آگے جوابدہ ہے اور جس چیز کو اچھا سمجھے گا تو اس کی تعریف سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی یا پھر جو بات منفی لگے اس پر اعتراض سے ہم اپنے آپ کو روک نہیں سکتے۔
زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا
اور کافر یہ سمجھتے ہیں مسلمانوں ہوں میں
یہ ساری کتھا ہم نے اس لئے لکھی کہ ویسے تو آپ یقینا سمجھدار ہیں اور سمجھ گئے ہوں گے کہ ہماری بعض تحریروں کے حوالے سے کچھ لوگوں کو یہ شکایت پیدا ہوئی جیسے خدانخواستہ ہم ان کے ممدوحین کے خلاف جان بوجھ کر لکھتے ہیں۔ حالانکہ ہم بھی آپ کی طرح اپنا ایک محبوب رکھتے ہیں اور وہی ہمارا ممدوح ہے یعنی یہ ملک پاکستان اور جو بھی شخص اس ملک کو بدنام کرنے یا اس کی جڑوں کو کمزور کرنے کے لئے کوئی حرکت کرتا ہے اس کی نیک نامی کے خلاف قدم اٹھا تا ہے تو ہم سے نہیں رہا جاسکتا اور کالم خود بخود وجود میں آجاتا ہے۔ بقول ایک نا بینا شاعر تیمور حسن
حاکم وقت نے سچ کی مجھے قیمت دی ہے
انگلیاں کاٹ کے لکھنے کی اجازت دی ہے
اپنے اللہ کی تقسیم پہ خوش ہوں کہ مجھے
دی بصیرت' مرے دشمن کو بصارت دی ہے
شکر ہے مجھ کو دو عالم کے خدا نے تیمور
اس زمانے میں بھی احساس کی دولت دی ہے

متعلقہ خبریں