سی پیک کی خاطر تحریک آزادی کی قربانی؟

سی پیک کی خاطر تحریک آزادی کی قربانی؟

خیبر پختون خوا اور دیگر صوبوں کے سی پیک کے حوالے سے تحفظات کسی حد تک دور ہوئے ہی ہیں کہ گلگت بلتستان اور آزادکشمیر سے گلے شکوئوں کا آغاز ہو گیا ہے ۔وفاقی حکومت کی طرف سے آزادکشمیر کو سی پیک کے ساتھ ایک نئی سڑک کے ذریعے براہ راست منسلک کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی آزادکشمیر کی سیاست کے پرسکون تالاب میں ارتعاش کا آغاز ہو گیا ۔کئی جانب سے حقوق اور حصے کے مطالبات شروع ہونے لگے اورلہجوں میں تلخی در آتی چلی گئی ۔یہ اعلان ہوتے ہی بھمبر میں دو اہم سیاسی دھڑوں کے درمیان ایک رسہ کشی کا آغاز ہو گیا ۔ایک دھڑے کی قیادت آزادکشمیر کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے رہنما اور سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق جبکہ دوسرے دھڑے کی قیادت پیپلز پارٹی کے سابق رہنما اور سابق سپیکر انوارالحق چوہدری کر رہے ہیں۔انوارالحق چوہدری کے سیاست اور حمایت کے ڈانڈے سابق صدر آزادکشمیر راجہ ذالقرنین سے جاملتے ہیں ۔یہ وہ معاملہ جو اس کشمکش میں آزادکشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کے لئے مشکل صورت حال پیدا کئے ہوئے ہے ۔طارق فاروق کا شمار ان کی کابینہ کے طاقتور وزراء میں ہوتا ہے تو انوارالحق کے سرپرست راجہ ذالقرنین سے بھی ان کے دیرینہ مراسم ہیں ۔بھمبر میں صنعتی زون کے لئے مختص زمینیں اور زمینوں کے معاوضے دونوں گروپوں کے درمیان وجہ ِنزاع بنے ہوئے ہیں۔یہ کشمکش اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ صنعتی زون کے مجوزہ منصوبے کو بھمبر سے کسی دوسرے علاقے میں منتقل کرنے کی افواہیں بھی چلنا شرو ع ہوگئی ہیں۔
ابھی یہ کشیدگی جاری ہی تھی کہ سابق صدر اور وزیر اعظم سردار سکندر حیات خان بھی سی پیک کے حوالے سے میدان میں نکل آئے اور انہوں نے کہا سی پیک کی آزادکشمیر میں بین الاضلاعی سڑک کا ان کے ضلع کوٹلی کو عملی طور پر کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ اس سے محض چند یونین کونسلوں کو ہی فائدہ ہوگا ۔صاف ظاہر ہے کہ وہ اس سڑک میں کچھ ردوبدل چاہتے ہیں۔سردار سکندر حیات خان کا یہ لہجہ حکمران جماعت کے اندر سب اچھا نہ ہونے کا اشارہ ہے اور سی پیک کے تحت اس مجوزہ منصوبے پر بڑھتے ہوئے اختلافات کا مظہر ہے ۔اب اس حوالے سے تنقید کا ایک نیا سلسلہ سردار خالد ابراہیم کی طرف سے شروع کیا گیا ۔ جموں وکشمیر پیپلزپارٹی کے سربراہ سردار خالد ابراہیم خان یوں بھی اسلام آباد اور مظفرآباد کی حکومتوں سے ناراض چلے آرہے ہیں۔ سردار خالد ابراہیم خان کاوہ بیان زیادہ باعث حیرت نہیں بنا کہ جس میں انہوں نے کہا ہے کہ سی پیک کی خاطر تحریک آزادی کو فراموش نہیں کر سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ سی پیک منصوبہ اہمیت کا حامل ضرور ہے مگر تحریک آزادی سے زیادہ اہم نہیں۔گلگت بلتستان کو صوبائی درجہ دینے کے فیصلوں کو مسترد کرتے ہیں۔بظاہر تو سردار خالد ابراہیم خان کی باتوں میں کچھ زیادہ ہی غصہ جھلک رہا ہے اور اس کی وجوہات بھی قابل فہم ہیں مگریہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی باتیں زوروں پر ہیں۔اس منصوبے کے حق میں مختلف دلائل بھی دئیے جارہے ہیں اور مختلف وجوہات اور مجبوریاں بھی گنوائی جا رہی ہیں۔جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ سی پیک کے حوالے سے بھارت کے اس اعتراض کو دور کیا جانا مقصود ہے کہ یہ منصوبہ ایک ایسے متنازعہ علاقے سے شروع ہو رہا ہے اوراس علاقے پر بھارت آج بھی اپنا دعویٰ جتلا رہا ہے ۔بھارت کے اس موقف کو باطل ثابت کرنے کے لئے گلگت بلتستان کو آئین پاکستان کے دائرے میں لایا جانا ناگزیر ہے۔صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان گوکہ آزادکشمیر کے آئینی صدر ہیں مگر وہ وفاق کی پسند ہیں اور ان کو صدر کے منصب تک پہنچانے میں مسلم لیگ ن کا کردار اہم ہے۔گزشتہ دنوں صدر مسعود خان نے بھی دبے لفظوں میں کہا کہ کشمیر کو ٹکڑوں میں پاکستان میں شامل کرنے کی بجائے ہم پورے کشمیر کو شامل کرنا چاہتے ہیں۔یہ بھی گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ بنانے کے حوالے سے ایک اشارہ تھا۔حکومت پاکستان گلگت بلتستان کے حوالے سے جلد بازی اور عجلت کی بجائے ایک ایسی پالیسی اپنائے جس میں گلگت بلتستان کے عوام کی امنگوں کا خیال رکھا گیا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ اس حل سے تحریک آزادی پر پاکستان کا موقف کمزور نہ ہو۔مقبوضہ کشمیر کے عوام اس وقت آزادی اور حق خودا رادیت کے لئے تاریخ ساز قربانیاں دے رہے ہیں۔وہ پاکستان کے پرچم لہرا کر اپنے جذبات کا اظہار کرر ہے ہیں۔ اس لئے کشمیریوں کی ان قربانیوں کو ہر فیصلے میں پیش نظر رکھا جانا چاہئے ۔اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا آئینی حصہ بنانے کے بعد بھارت اپنا موقف ترک کر دے گا؟ اگربھارت کا دعویٰ اپنی جگہ موجود ہی رہنا ہے تو پھر یہ گناہِ بے لذت '' کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟گلگت بلتستان کے عوام کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دینا ناگزیر ہیں۔فی زمانہ کسی علاقے کو بنیادی اور سیاسی حقوق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا مگر کچھ نزاکتوں اور حساسیت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے ۔یہ محض حاشیہ آرائی ہے کہ حالات سی پیک یا تحریک آزادی میں کسی ایک کے چنائو تک پہنچ چکے ہیں ۔سی پیک ایک عالمی اقتصادی سرگرمی ہے اور تحریک آزادی کشمیر وادی میں جاری خاک اور خون کی تحریک ہے۔دونوں کا کینوس قطعی جداگانہ ہے۔ دونوں کو باہم گڈ مڈ نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہوگا۔

متعلقہ خبریں