مشرقیات

مشرقیات

حضرت میاں میر ان جان باز صوفیاء میں سے تھے ، جن کی ریاضت وعبادت اور نفس کشی تاریخ تصوف کا روشن ترین باب ہے ۔ ایک بار آپ سر ہند سے لاہور تشریف لار ہے تھے کہ ایک گائوں میں داخل ہوئے ،جہاں پٹھانوں کے کئی قبائل آباد تھے ۔ حضرت شیخ نے کچھ دنوں تک مقامی مسجد میں قیام فرمایا ۔ اتفاق سے رمضان کا مہینہ تھا ۔ حضرت میاں میر نے تین دن اور تین رات تک کوئی چیز نہیں کھائی ۔ بس پانی سے روزہ افطار کرتے اور ذکر الٰہی میں مشغول ہو جاتے ۔ چوتھی رات نماز مغرب کے بعد آپ مسجد سے باہر نکلے اور ایک گائوں میں داخل ہوگئے ۔ پھر ایک مکان پر پہنچے ، جس کا دروازہ کھلا ہوا تھا ۔ حضرت میاں میر دستک دے کر مالک مکان کو بلانا چاہتے تھے کہ آپ کی نظر ایک خوان پر پڑی جو مختلف قسم کے کھانوں سے بھرا ہوا تھا ۔ حضر ت میاں میر اس واقعہ کے بارے میں خود فرماتے ہیں '' جب بھوک کی شدت بڑھ گئی تو میر ے نفس نے مجھ سے کہا تم نے سوال کرنا تو اپنے آپ پر حرام کرلیا ہے ۔اب پیٹ بھرنے کی یہی ایک صورت رہ گئی ہے کہ تم خیانت کرو اور کھانا اٹھا کر کھالو ۔ ''میں نے اپنے نفس کو مخاطب کر کے کہا '' خیانت کرنے سے سوال کرنا بہتر ہے ۔ ''میرے نفس نے عجیب دلیل پیش کی ''حالت فطرار میں مردار بھی جائز ہے ۔ ''الغرض کچھ دیر تک مجھ میں اور میرے نفس میں شدید جنگ ہوتی رہی ۔ آخر میں سوال کئے بغیر مسجد میں واپس چلا آیا ۔ ابھی مجھے مسجد میں آئے ہوئے کچھ دیر ہی گزری تھی کہ ایک لونڈی کھانے کا خوان اٹھائے ہوئے میرے پاس آئی ۔ میں نے خوان کی طرف غور سے دیکھا ، اس میں وہی کھانا موجود تھا ، جسے میں کچھ دیر پہلے ایک مکان کے دروازے میں رکھا ہوا چھوڑ آیاتھا ۔ میں نے لونڈی سے پوچھا '' تویہ کھانا کہاں سے لائی ہو ؟ ''
'' میرے مالک نے مجھ سے کہا تھا کہ مسجد میں ایک بھوکا شخص بیٹھا ہے ۔ اسے یہ کھانا پہنچا دو ۔ '' لونڈی نے جواباً کہا ۔ ''کیا تم وہ شخص نہیں ہو ؟'' ''وہ بھوکا شخص تو میں ہی ہو ں ۔ مگر اب مجھے اس کھانے کی ضرورت نہیں ''۔
'' میں نے لونڈی کو مخاطب کر کے کہا اور ہنسنے لگا ۔ لونڈی چند لمحوں تک میری حالت کو تعجب سے دیکھتی رہی اور پھر خوان اٹھا کر واپس چلی گئی ۔ تھوڑی دیر بعد وہ شخص مسجد میں داخل ہوا ، جس نے کھانا بھیجا تھا ۔ ''آخر تم نے کھانا کیوں واپس کر دیا ؟ '' اس شخص نے میرے قریب آکر پوچھا اور اس میں ہنسنے کی کیا بات تھی ؟ ''میں نے اس شخص کو تمام واقعہ سناتے ہوئے کہا '' میرے نفس نے مجھے ورغلا یا تھامگر بفضل خدا اس نے شکست کھائی ۔''یہ ماجرہ سن کر وہ شخص میرا معتقد ہو گیا ۔ پھر میں نے دیکھا کہ یہ بات جو رات کی تنہائی میں کہی گئی تھی ، پورے گائو ں میں مشہور ہوگئی ۔ لوگ قطاردر قطار میرے پاس آنے لگے مجھے ان کی صورتیں دیکھ کر وحشت سی ہوتی تھی ۔ آخر ایک رات میں خاموشی کے ساتھ لاہور چلا آیا ۔

متعلقہ خبریں