سیاسی اتحاد یا بھان متی کاکنبہ

سیاسی اتحاد یا بھان متی کاکنبہ


نو ستارے ہل نشاں کی طرز کے ایک23جماعتی اتحاد کے قیام میں مماثلت صرف سیاسی اتحاد کی ہے وگرنہ پاکستان عوامی اتحاد کے مقابلے میں پاکستان قومی اتحاد ایک موثر اتحاد اس لئے تھا کہ پاکستان عوامی اتحاد کی تئیس سیاسی جماعتوں کی فہرست میں شاید ہی کوئی قابل ذکر سیاسی جماعت شامل ہے اسے بھان متی کا کنبہ قرار دیا جائے تو شاید غلط نہ ہو۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس وقت کے موثر اتحاد اور اب کے فی الوقت غیر موثر سمجھے جانے والے اتحاد کے پس پردہ محرک کے ایک ہونے کا گمان ہے جسے قبل ازیں غیر مرئی ہاتھوں کا نام دیا جاتا تھا مگر اب اسے مزید واضح کرکے '' طاقت'' کا نام دیا جانے لگا ہے۔ اس امر کااگر جائزہ لیا جائے کہ کیا طاقت سے تشکیل کردہ کسی اتحاد کو طاقت سے کامیاب کرانا ممکن ہے شاید ایسا نہیں ماضی ماضی بن چکا اور پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا۔ اگرچہ اب پروپیگنڈے کے ذرائع زیادہ ہوچکے لیکن لوگوں کی سوچ بدلنے کے جتنے ذرائع میسر ہیں ان کا استعمال اب لوگ اپنی رائے بدلنے کے لئے نہیں بلکہ اپنی رائے پر قائم رہنے اور اپنی رائے کا اظہار کرنے کے لئے کرنے لگے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اختلاف رائے کے بپا طوفان الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر غیر متوازن پروگراموں ٹاک شوز اور تحریروں کی بھرمار میں سچ کا متلاشی کہیں کھوسا جاتا ہے کہ کس کی سنے کس سے راہنمائی لے اور رائے بنائے یا تبدیل کرے۔ بھونپو کا کردار اختیار کردہ میڈیا پر اب عوام کا اعتماد کم سے کم تر ہوتا جا رہا ہے بلکہ کمترین کے درجے پر پہنچ چکا ہے۔ اس طرح کی صورتحال میں من حیث المجموع قومی سوچ کا ابھار مشکل ہے اور ایسے عالم میں ماضی کی طرح عوام کو ہانکنے کا بھی زیادہ موقع دکھائی نہیں دیتا۔ ایک بڑی سیاسی جماعت تو تحلیل شدہ حالت میں دکھائی دے رہی ہے تو دوسری جماعت ایسے اڑیل گھوڑے کاکردار ادا کر رہی ہے جسے سدھانا اور اس پر سواری ممکن نہیں لگتا۔ ایک اور سیاسی جماعت تمام امکانات اور سود و زیاں سے بالا تر بلکہ آبیل مجھے مار کی کیفیت کے منظر نامہ کا باعث بن رہی ہے۔ اس طرح کی صورتحال گو کہ سیاست سے مایوسی کی فضا کا سبب بنتی دکھائی دے رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب میدان گرم ہوگا اس وقت ہی مرد میدان کا تعین ہونا ہوگا جس گھوڑے پر عوام زیادہ سے زیادہ اعتماد کی مہر لگائیں گے وہ گھوڑا طاقت کی کھینچی گئی طنابوں پر سے جست لگا کر گزر جائے گا یقینا سپیڈ بریکرز سے اس کی رفتار کم اور چھلانگوں کی راہ میں مزاحم ضرور ہونے کا امکان ہے۔ یہ سارا منظر نامہ باعث تشویش اس لئے ہے کہ جو چیز جس فطری طریقے سے ممکن ہوسکتی ہے اس کے لئے وہ راستہ اختیار کرنے کی بجائے کوئی اور راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کی جماعت کا وجود کتنا بھی مضبوط اور طاقتور ہو معروضی حقائق یہ ہیں کہ بغیر کسی واضح سرگرمی کے اچانک ایک ایسا 23جماعتی اتحاد منظر عام پر لایاگیا ہے جس کا کوئی محرک کوئی کنونیئر اور اس کے قیام کے لئے بھاگ دوڑ کرنے والا کوئی قابل ذکر رہنما نہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر 23 مختلف السمت و مختلف الخیال لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر کیسے لایاگیا اور کب لایاگیا کہ وہ متحد بھی ہوئے اور سیاسی اتحاد کا اعلان بھی کردیاگیا جس کے لئے یہ بھان متی کا کنبہ جوڑا گیا۔ ان پر عدالتوں میں سنگین نوعیت کے مقدمات موجودہیں جو اب تک عدالتوں میں پیش ہونے سے انکاری تھا مگر اب عدالتوں کا سامنا کرنے کا احسن اور مدبرانہ فیصلہ کر لیا ہے۔ اگر سابق صدر پرویز مشرف ملک چھوڑنے کی بجائے عدالتوں کا سامنا کر چکے ہوتے تو آج صورتحال اور حالات دونوں مختلف ہوتے ان کو بازی پلٹنے کا انتظار کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی بلکہ خود بازی پلٹا نے والے باز یگر بن چکے ہوتے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس قسم کے اتحاد کو وطن عزیز کے عوام قبول کریں گے دیگر سیاسی جماعتوں سے ان کی کیسے نبھے گی ؟ امکانات کی سیاست اور سیاست میں امکانات اپنی جگہ مگر جہاں کوئی فارمولہ وضع کئے بغیر سیاست کے گھوڑے کی باگیں موڑنے کی سعی کی جائے وہاں دیکھو اور انتظار کرو کا فارمولہ ہی بہتر فارمولہ ہوگا ۔محولہ حالات وواقعات اور معاملات سے قطع نظر اگرسابق صدر پرویز مشرف عدالتوں کی راہداریوں سے تیزی سے گزر کر بلکہ بہت تیزی سے گزر کر جب میدان عمل میں آئیں گے تو کن زمینی حقیقتوں سے واسطہ پڑے گا اس کا زیادہ اندازہ نہیں سوائے اس کے کہ ان کے پاس ایک ایسا حلقہ انتخاب ضرور موجود ہے جہاں ان کی جیت کے امکانات کی آنکھیں بند کر کے پیشگوئی کی جا سکتی ہے ۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے پاک فوج کی وردی زیب تن کر کے شندور کے پولو گرائونڈ مس جنالی میں جس دن چترالی ڈانس کا شوق فرمایا تھا پروٹوکول اورسیکورٹی کے لحاظ سے وہ درست تھا یا نہیں لیکن انہوں نے اس ضلع کے عوام کی تو جہ ضرور حاصل کی تھی۔ لواری ٹنل پر کام شروع کروانا اور چترالی تہذیب و تمدن کی تعریف و توصیف کے بعد چترال میں ان کے نہ چاہنے والوں کے منہ سے ان کے بارے میں چاہت اور خدمت و احترام کے جذبات کا اظہار کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ یہ معروضی حالات چترال سے ان کی انتخابی نشست کو یقینی بنانے کیلئے کافی ہیں۔ لیکن کسے معلوم کہ کون جیتا ہے تیرے زلف کے سر ہونے تک کا معاملہ الگ بات ہوگی ۔ 23رکنی سیاسی اتحاد کے قیام کے اعلان کے بعد وطن عزیز میں سیاست کے جغادریوں میں ٹوٹے سلسلوں کی بحالی اور حکمت عملی واضح کرنے کے امکانات زیادہ اس لئے دکھائی دیتے ہیں کہ سیاسی کلچر میں بقاء کیلئے اپنے ہی منہ سے قاتل ٹھہرائے گئے عناصر سے بھی ہاتھ ملانے کی روایت زیادہ پرانی نہیں ۔ آمدہ دنوں میں ملک میں سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ایک بڑی سیاسی جماعت کے رابطہ عوام مہم شروع کرنے سے بھی ہوگا اور انتخابی تیاریوں میں دیگر سیاسی جماعتیں بھی میدان میں آئیںگی ۔2018ء کے انتخابات کے بروقت انعقاد کو مشکوک گرداننے کے باوجود سیاست کی باد بانوں کا رخ اسی طرف رہنا فطری امر ہوگا ۔ حالات و واقعات سے اس امر کا اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ آمدہ انتخابات دلچسپ ضرور ہوں گے رہی بات کامیابی و ناکامی کی اس مرتبہ عوام کا فیصلہ پہلے سے زیادہ اہم ہوگا اور سیاست کی بقاء کا باعث بھی ۔عوام اپنے شعور کے مطابق فیصلہ کر کے ہی اچھی قیادت کا انتخاب کر سکتے ہیں اور یہی روا ہے کہ عوام ہر قسم کے مفادات و تعصبات سے بالا تر ہو کر صائب فیصلہ دینے کی پوری پوری کوشش کریں تاکہ وطن عزیزمیں عوامی راج اور عوام کے مسائل کے حل کی صلاحیت رکھنے والی قیادت کو موقع ملے اور عوام کو اپنے فیصلے پر بعد میں پچھتاوا نہ ہو۔

متعلقہ خبریں