''ڈرٹی پالیٹکس''

''ڈرٹی پالیٹکس''

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب ایک قول ہے کہ ''ہر انسان دوسرے انسان میں اپنا عکس دیکھتا ہے'' اچھوں کو دوسرے میں بھی اچھے دکھائی دیتے ہیں اور بُروں کو ساری دنیا بری لگتی ہے۔ جیسا انسان خود ہوتا ہے اُس کو دوسرے بھی ویسے ہی نظر آتے ہیں۔ کون جانتا ہے کہ کل کیا ہو گا مگر میاں نواز شریف نے عدلیہ کے خلاف جو محاذ کھول رکھا ہے اس کا نتیجہ اچھا دکھائی نہیں دیتا۔ نواز شریف اور ان کے ساتھی چونکہ عدلیہ پر اثرا نداز ہوتے آئے ہیں چنانچہ انہیں یوں لگتا ہے کہ عدلیہ کے موجودہ فیصلوں اور ایکٹوازم کے پیچھے بھی کو ئی پوشیدہ قوت موجود ہے۔ اشاروں کنایوں میں فوج کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا رہا ہے اور منی لانڈرنگ کا جرم چھپانے کے لیے اپنا مقدمہ جمہوری قوتیں بمقابلہ ریاستی ادارے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ یہاں ریاستی اداروں کا دفاع مقصود نہیں کہ ماضی میں سب سے غلطیاں سرزد ہوئیں مگر فی زمانہ فوج امور مملکت میں غیر ضروری مداخلت کرتی دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی عدلیہ خوامخواہ کے جوڈیشل ایکٹوازم کی راہ پر گامزن ہے۔دریں حالات ان دو اداروں پر کیچڑ اچھالنا ریاست کے مفادات کے منافی طرز عمل ہے۔ نواز شریف نے احتساب عدالت میں اپنی درخواست مسترد ہونے اور نظر ثانی درخواست کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد عدلیہ کے بارے میں جو گفتگو کی ہے اُس پر ردِ عمل دیتے ہوئے آصف زرداری بھی چیخ اُٹھے ہیں کہ نواز شریف ملکی سا لمیت داؤ پر لگا رہے ہیں ۔ یہ وہ آصف زرداری ہے جنہوں نے 5سال جسٹس افتخار محمد چوہدری کے سخت ترین جوڈیشل ایکٹوازم کا سامنا کیا مگر وہ زبان نہیں بولی جو آج نواز شریف بول رہے ہیں۔ جب آپ نرگسیت کا شکار ہو کر اپنی ذات کو ہر شے سے مقدم جان لیتے ہیں تو آپ کا طرزِعمل اور آپ کی ترجیح غلط ہو جاتی ہے۔ دوسروں کی حب الوطنی چیلنج کرنے والوں نے اپنا طرز عمل اور گفتگو سے آج اپنی حب الوطنی کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ جناب جسٹس ثاقب نثار کو کہنا پڑا ہے کہ آئین و عدالت کو نشانہ بنانا کہاں کی حب الوطنی ہے؟ آفرین ہے موجودہ عدلیہ کی برداشت پر جس نے صبر سے تنقید کے نشتر سہے اور کوئی جواب نہ دیا۔ اگر یہ جسٹس افتخار محمد چوہدری کی عدالت ہوتی تو نواز شریف اور ان کی پوری ٹیم توہین عدالت کے مقدمات بھگت رہی ہوتی۔ ایک عرصے سے مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف ہیں۔ وہ تین مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں لیکن اقتدار کی ہوس ابھی بھی جانے کا نام نہیں لے رہی۔ اس ہوس کا نتیجہ دن بدن ہولناک ہوتا جا رہا ہے' خدشہ ہے کہ کوئی حادثہ نہ ہو جائے۔ خدانخواستہ اگر کوئی حادثہ ہو جاتا ہے تو کیا اُسے کسی ریاستی ادارے کی مہم جوئی تصور کیا جائے گا؟ یہی پاکستان کی تاریخ ہے ۔ یہاں حادثے ہوئے اور ان کی بڑی وجہ اہل سیاست کی ناعاقبت اندیشی اور ہوس اقتدار تھی۔ 1958ئ' 1977ء اور 1999ء میں فوجی اوور ٹیک جن حالات میں ہوا کیا وہ حالات اہلِ سیاست کے خود پیدا کردہ نہیں تھے؟ 1977ء اور 1999ء کے حالات ہماری یادوں میں تازہ ہیں انہیں ہی یاد کر لیجئے۔
1999ء میں نواز شریف کے خلاف گرینڈ الائنس قائم تھا اور تمام جماعتیں یک نکاتی ایجنڈے پر متفق تھیں ''نواز ہٹاؤ ملک بچاؤ'' جنرل مشرف سے ملاقات کرنے والوں کی فہرست بھی تاریخ کا حصہ ہے اور ان ملاقاتوں میں جنرل پرویز مشرف سے اپنا کردار ادا کرنے کی استدعا بھی کی جاتی تھی۔ جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء کو بھی خوش آمدید کہا گیا اور مٹھائیاں بانٹی گئیں۔ آج سب لوگ جمہوریت نواز بن گئے ہیں حالانکہ پاور پالیٹکس کی ڈرٹی گیم میں سب نے حصہ لیا اور اپنے حریف کو چت کرنے کے لیے فوج کو مداخلت پر مجبور کیا۔آج کے حالات قدرے مختلف ہیں ۔آج اپوزیشن نہیں چاہتی کہ فوج مداخلت کرے لیکن حکومتی پارٹی کے لچھن دیکھ کر لوگ رائے قائم کر رہے ہیں کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نواز شریف کو این آر او دلوانے کے لیے فوج کی مداخلت کا راستہ ہموار کر رہی ہے ۔مشرف کے بعد جنرل کیانی ' جنرل راحیل اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے یکے بعد دیگرے فوج کی کمان سنبھالی ہے اور ان تین جرنیلوں نے حتی الامکان کوشش کی ہے کہ جمہوری حکومتوں کو کام کرنے کا پورا موقع دیا جائے ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بعض مواقع پر حکومت اور فوج کے درمیان پیدا ہونے والے ایشوز کو اس طرح ہینڈل کیا کہ فوج دبتی ہوئی محسوس ہوئی اور اُسے تنقید کا نشانہ بننا پڑا۔ ڈان لیکس کے مسئلے کو جس طرح سمیٹا گیا وہ کمزور حکومتی مؤقف کے سامنے واقعتا سرنڈر کرنے کے مترادف تھا مگر جنرل باجوہ نے حکومت کو سپیس مہیا کی۔ آج اس جنرل باجوہ کے ہوتے ہوئے بھی فوج کو بحیثیت ادارہ لتاڑا جا رہا ہے اور خوا مخواہ جمہوریت بمقابلہ آمریت کی صف بندی کی جارہی ہے۔ یہ کام آج زیادہ قوت سے ہو رہا ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ جنرل باجوہ سے پہلے والے جنرل صاحب سے میاں نواز شریف کی گاڑھی چھنتی تھی اس وقت بھی پاک فوج کے خلاف اس عالمی مقدمے کا حصہ بننے کے لیے مہم چلائی جاتی رہی جو پاک فوج اور پاکستان کی دشمن قوتوں کا قائم کردہ ہے۔ ڈان لیکس اُس مہم کا شاخسانہ تھا اور یہ جنرل راحیل شریف کے دور میں ہوا۔ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پاکستان کی نظریاتی اساس کمزور کرنے کی کوششیں ہوئی ہیں اور بحیثیت ادارہ فوج کو بدنام اور کمزور کرنے کا ایجنڈا اپنایا گیا ہے۔ اس اعتبار سے کہا جا سکتا ہے کہ اس بار نواز شریف نے 90کی دہائی سے زیادہ ڈرٹی پالیٹکس کی ہے۔ تفصیل میں جائے بغیر یہ سمجھ لیجئے کہ علامہ اقبال کے یوم پیدائش پر چھٹی ختم کرنا بھی نظریاتی اساس کو کمزور کرنے کا ایک اقدام ہے جس کی مرتکب 2015ء میں نواز حکومت ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں