پاک ، ایران و افغان تعلقات

پاک ، ایران و افغان تعلقات

یہ تین پڑوسی ملک مذہب ، ثقافت اور زبان وغیرہ کے حوالے سے جس طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور جغرافیہ و تاریخ اور ادب و فنون کے حوالے سے جتنی مشترکات کے حامل ہیں ، شاید ہی دنیا کے کسی دوسرے خطے میںایسے ممالک ہوں ۔ کسی زمانے میںان ہی اسباب و مشترکات کی بنیاد پر ان تینوں ممالک کے درمیان بڑے خوشگوار تعلقات قائم تھے۔ 1965ء اور 1971ء کی پاک ، بھارت جنگوں میں دونوں پڑوسی ملکوں نے پاکستان کی دامے درمے سخنے مددبھی کی تھی اور افغانستان کی مساجد میں پاکستان کی حفاظت اورفتح کے لئے دعائیں مانگی جاتی تھیں ۔ اور پھر افغانستان پر روسی حملہ کے بعد تو بیسویں صدی کا معجزہ بر پا ہو گیا کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام تو یک جان دو قلب ہوگئے ۔اس کے علاوہ ایران و افغانستان کے ساتھ قانونی وغیرقانونی تجارت کا سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور عوام کے درمیان تجارتی اور علمی تعلقات ہمیشہ بحال رہے ہیں ۔ ان تینوں ممالک کے اکثر مشاہیر ، اور تاریخی شخصیات بھی آج تک مشترک ہیں۔ شیخ سعدی شیرازی ، حافظ شیرازی ، ملا نصیر الدین دوپیازہ ، جمال الدین افغانی ، شہاب الدین غوری ، احمد شاہ ابدالی ، محمو د غزنوی ۔ الغرض ، کس کس کانام گنوائیں یہاں تک کہ پاکستان کے میزائلوں کے نام بھی غوری ، ابدالی ہیں ایران کی ہوزری اور پھل خاص کر سیب اور پستہ تو پاکستان میں خاص اہمیت رکھتے ہیں ۔ اسی طرح افغانستان کے خشک میوہ جات ا ور پھل پشاور میں اس طرح کھائے اور پسند کئے جاتے ہیں جس طرح افغانستان کے طول و عرض میں کئے جاتے ہیں ۔ 1980ء تک یہ تعلقات تینوں ملکوں کے درمیان اسی طرح رہے جس طرح مسلمان پڑوسیوں کے درمیان ہوتے ہیں ۔ ۔۔ لیکن اصل بلاتب نازل ہوئی جب روس افغانستان میںلاکھوں افواج کے ساتھ داخل ہوا اور پھر شکست کھا کر واپس ہوا۔ امریکہ اور روس نے افغانستان کو بطور میدان جنگ استعمال کرکے اس خطے کو عدم استحکام اور پڑوسیوں کے درمیان شکوک و شبہات اور عدم اعتماد سے دو چار کردیا۔ افغانستان میں روس کے خلاف جہاد میں شرکت کے لئے عرب ممالک سے جو لوگ آئے ان میں انتہا پسند اور بعض سخت گیر عقائد کے حامل جذباتی نوجوانوں کی شرکت کے سبب ایران اور افغانستان کے بعض مخصوص خطے کے افراد کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہوئیں جس کے نتائج تینوں ممالک کے لئے بہتر ثابت نہ ہوئے لیکن سب سے زیادہ اثرات پاکستان پر مرتب ہوئے۔اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان اختلافات کی خلیج اسی زمانے میں گہری ہوئی۔ انقلاب ایران اور روس کے خلاف جہاد افغانستان کے مثبت اثرات بھی تھے لیکن خارجی عوامل اور سیاست نے اس خطے کی داخلی سیاست اور مفادات کے ساتھ مل کر کچھ ایسے نا خوشگوار اثرات مرتب کئے جس سے فرقہ واریت گہری سے گہری ہوتی چلی گئی۔ اسی زمانے میں فتاویٰ تکفیر عام ہوئے جس نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔اسلام اور مسلمانوں کی روز اول سے کوشش رہی ہے کہ امت مسلمہ کے اتحاد کو شیعہ سنی روزن میں سے نقب لگا کر پارہ پارہ کیا جائے۔آج اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ شیعہ سنی مسائل سے اوپر اٹھ کر امت کی سطح پر سو چا جائے کیونکہ ایران' پاکستان اور افغانستان کے خطے میں اس وقت امریکہ' یورپ' چین اور روس جیسی سپر طاقتوں کے مفادات در آئے ہیں۔ بھارت جو پاکستان کا ازلی دشمن ہے ایران اور افغانستان ہی کے راستے سے پاکستان کے خلاف ہر حربہ آزمانے کی کوشش کر رہا ہے۔آرمی چیف نے بروقت ایران کا دورہ کرکے دونوں ملکوں کی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کروا کر بہت اچھا کام کیا ہے۔ اس وقت اس کی اشد ضرورت ہے کہ ان دو پڑوسی ملکوں کے درمیان برادرانہ تعلقات مضبوط سے مضبوط تر ہوں۔ اس میں افغانستان کو بھی شامل کرنا ضروری ہے۔یہی وقت ہے کہ اہل ایران یہ طے کرلیں کہ پاکستان کے بغیر ایران کی مشکلات میں اضافہ ہی ہوسکتا ہے۔ یہی حال پاکستان کا بھی ہوگا۔
افغانستان کا انحصار بھی پاکستان پر ہے۔ بھارت بہت دور پڑتا ہے اور صرف اپنے مفادات اور پاکستان کو زچ کرنے کے لئے افغانستان میں پیسے خرچ کر وا رہا ہے ورنہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ہندو بنیا کسی مسلمان کی فلاح و بہبود پر خرچ کرے۔ افغانیوں کو بھارت کے اندر مسلمانوں کے حال سے سبق سیکھنا چاہئے کہ وہاں گائے ذبح کرنے پر مسلمانوں کا خون بہایا جاتا ہے۔اہل ایران بالخصوص مذہبی طبقات کو اب عوام کو یہ سبق دینا لازمی ہے کہ تیرہ چودہ سو برس کی تاریخ کے بعض واقعات کو آج عوام الناس میں دہرانے سے نقصانات زیادہ ہوتے ہیں' فوائد کم۔ خلفائے راشدین اور صحابہ کرام سب بزرگ ترین ہستیاں اور واجب الاحترام ہیں اور اگر کسی کے دل و دماغ میں اس کے علاوہ کوئی بات ہے تو وہ اس کے دل ہی میں رہنی چاہئے۔ عوام الناس کے سامنے تقریر و تحریر میں اس قسم کی باتیں کرنے سے اتحاد امت کو نقصان ہی پہنچ سکتا ہے جس سے مخالفین اور دشمنان اسلام ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ تینوں برادر اسلامی ملک ایک دوسرے کی سا لمیت' مفادات اور عزت و احترام کا خیال رکھنے کے معاہدے کریں اور اس پر سختی کے ساتھ کار بند رہیں تاکہ یہ خطہ ترقی کرے اور امن و سلامتی کا گہوارہ بنے۔

متعلقہ خبریں