تم جھوٹ کہہ رہے تھے مجھے اعتبار تھا

تم جھوٹ کہہ رہے تھے مجھے اعتبار تھا

خدا کرے کہ جس ''جنت'' کی بشارت عمران خان دے رہے ہیں وہ واقعی حقیقت کا روپ دھار لے۔ اگرچہ غالب نے اس قسم کی سخن گسترانہ بات کو مقطع میں آپڑنے کی بات کی تھی اور کہا تھا
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
بات نئی نہیں ہے خود ہم اس موضوع پر مدتوں سے قلم گھسیٹ کر ''جمہوریت پسند'' سیاستدانوں کی توجہ بار بار دلانے کی کوشش کرنے میں مکمل طور پر ناکامی سے دو چار ہوچکے ہیں مگر کسی کے کان پر جوں تک رینگنے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ اس لئے اب جو عمران خان نے گزشتہ روز چترال میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے یہی بات بڑے واضح طور پرکہہ دی ہے تو اسے ہم نے '' خیالی جنت'' کی بشارت قرار دے تودیا ہے مگر یقین کرنے کو جی اس لئے نہیں کرتا کہ انتخابی نعرے اور وعدے ہوتے ہی بھول جانے کے لئے ہیں۔ اور اگر لیڈران کرام اپنے وعدے یاد رکھتے بھی ہیں تو ان کے گرد یہ جو حواری اکٹھے ہوتے ہیں وہی ان وعدوں کی راہ میں سنگین روڑے اٹکا کر صرف اپنے مفادات کے حصول پر ہی کمر بستہ رہتے ہوئے لیڈران کو ان کے وعدے وفا کرنے نہیں دیتے۔ اسی لئے تو سیانے کہہ گئے ہیں کہ وہ وعدہ ہی کیا جووفا ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اگر عمران خان سے عرض کریں کہ جب وہ یہ تازہ وعدہ کر رہے تھے تو آواز ان کی ''اپنی'' ہی تھی یا وہ ویسے ہی عوام کادل خوش کرنے کی کوشش فرما رہے تھے؟ اور کہیں بعد میں ہم پھر حضرت بیخود دہلوی کا یہ شعر گنگنانے نہ لگ پڑیں کہ
جادو ہے یا طلسم تمہاری زبان میں
تم جھوٹ کہہ رہے تھے مجھے اعتبار تھا
چترال میں جلسے سے خطاب میں عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ تحریک انصاف الیکشن جیت کر جب وفاق میں آئے گی تو ڈویلپمنٹ کے نام پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کو کوئی فنڈز نہیں دے گی اور اگر کوئی ترقیاتی فنڈز کی وجہ سے تحریک انصاف میں شامل ہونے جا رہا ہے تو اس کو میں ابھی سے تحریک انصاف میں آنے سے انکار کرتا ہوں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شاہد خاقان عباسی نے مسلم لیگ(ن) کے ایم این ایز کو حلقوں کی ترقی کے لئے 94 ارب روپے کا خطیر فنڈ دیا ہے تاکہ وہ الیکشن جیت کر دوبارہ ایوانوں میں آئیں اور کرپشن کریں۔ عوام کا پیسہ الیکشن جیتنے کے لئے لگایا جا رہا ہے اس کرپشن کی بنیاد 1985ء میں ضیاء الحق نے رکھی تھی جس کی وجہ سے آج کنٹریکٹرز اور دوسرے بزنس مین سیاست میں آکر کرپشن کرتے ہیں۔ عمران خان کی بات بالکل سچ ہے۔ ملکی سیاست میں یہ قباحت ضیاء الحق نے صرف اور صرف اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے متعارف کرائی تھی۔ جب سیاسی جماعتوں کو انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی کے بعد انہوں نے غیر جماعتی اسمبلی تخلیق کی تو اسی اسمبلی کے اندر سے جھرلو کے ذریعے ایک مسلم لیگ کو نکالا اور غیر سیاسی پس منظر رکھنے والے اراکین کو اپنا تابع فرمان رکھنے کے لئے ہر ممبر کو اس دور میں غالباً پچاس لاکھ کے صوابدیدی فنڈز دئیے تاکہ وہ ''سیاسی غلام'' بن کر سر جھکاتے ہوئے ان کے اشاروں پر ناچتے رہیں۔ اس صورتحال نے اسمبلی میں قانون سازی کے عمل کو بری طرح مجروح کیا اور اس صوابدیدی فنڈ کی ''ہڈی'' کو چبانے کے لئے ممبران اسمبلی گلیوں' نالیوں کی مرمت کے کام میں جت گئے۔ یوں قانون ساز کہلانے والے میونسپل کمیٹیوں کے اراکین کی سطح تک نیچے آگرے۔ اس صوابدیدی فنڈ کا ایک مخصوص حصہ( شاید 15فیصد) تو ممبران کا کمیشن قرار دیاگیا جو بغیر کسی حیل و حجت کے ان کی جیبوں میں چلا جاتا تھا جبکہ جو لوگ زیادہ سمجھدار تھے انہوں نے اپنے قریبی عزیز وہ رشتہ داروں کے نام پر متعلقہ کاموں کے ٹھیکے حاصل کرکے منافع میں لگ بھگ 50فیصد کا حصہ کھرا کیا۔ اگرچہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں یہ صوابدیدی فنڈز بند کردئیے گئے مگر جن کے منہ کو ایک بار '' خون'' لگ جائے وہ بھلا کیسے صبر کرسکتے ہیں۔ یوں حکومت پر دبائو بڑھا کر صوابدیدی فنڈز بحال کرائے گئے۔ ساتھ ہی ملازمتوں میں کوٹہ بھی مقرر کردیاگیا اور یا تو ان ملازمتوں پر نہایت قریبی رشتہ دار قبضہ جماتے رہے یا پھر ان کی خرید و فروخت کا بازار گرم کر دیا گیا۔ یہ صورتحال ایک کینسر کی صورت ہماری سیاسی زندگی میں پھیلتا چلا گیا اور اب یہ ناسور اس قدر پھیل چکا ہے کہ ایک بہت بڑے آپریشن کے بغیر اس سے سیاست کو پاک کرنا نا ممکن ہو چکا ہے۔ اس لئے جب عمران خان نے اقتدار میں آکر اس غیر آئینی' غیر قانونی اور غیر اخلاقی فنڈز کے اجراء کو بند کردینے کا اعلان کیا تواس کا خیر مقدم کرنا ضروری ہے مگر اسے ''خیالی جنت'' سے تشبیہہ دینے پر ہم اس لئے مجبور ہوئے کہ ایک تو جو لوگ کروڑوں روپے خرچ کرکے اسمبلیوں میں پہنچیں گے وہ ان فنڈز کی بندش کو ٹھنڈے پیٹوں کیسے برداشت کریں گے اور جس طرح محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں یہ فنڈز ختم کرنے کے بعد دوبارہ جاری کرنے پر حکومت کو مجبور کیاگیا تو کیا عمران خان اقتدار میں آکر اراکین اسمبلی کے دبائو کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھ سکیں گے؟ خصوصاً جس طرح تحریک میں دوسری جماعتوں سے آنے والوں پر ابھی سے انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں تو اگر اسی طرح دیگر بھی شامل ہوگئے تاکہ اقتدار( کرپشن' لوٹ کھسوٹ؟) میںاپنا حصہ محفوظ کرسکیں تب یہ وعدہ عمران خان کو یاد رہے گا یا پھر وہی کہ وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوجائے! بقول شاعر
دنیا نے مجھ کو مال غنیمت سمجھ لیا
جتنا میں جس کے ہاتھ لگا لے اڑا مجھے

متعلقہ خبریں