مشرقیات

مشرقیات


حضرت با یز ید بسطا می جب بچپن میں یتیم ہو گئے ماں نے ان کو مد رسے میں دا خل کروا د یا قار ی صاحب سے کہا کہ بچے کو ا پنے پا س ر کھنا ز یا دہ گھر آ نے کی عا دت نہ پڑ ے ا یسا نہ ہو کہ یہ علم سے محروم ہو جا ئے چنا نچہ کئی دن قار ی صا حب کے پاس ر ہے ایک دن اداس ہو ئے دل چا ہا کہ ماں سے مل آئوںقا ر ی صا حب سے اجا زت ما نگی ،ا نہو ں نے شرط لگا دی کہ تم ا تنا سبق یا د کر کے سنا ئو تب ا جا زت ملے گی سبق بھی بہت ز یا دہ بتا دیامگر بچہ ذ ہین تھا اس نے جلدی سے وہ سبق یا د کر کے سنا د یا ا جا زت مل گئی یہ ا پنے گھر وا پس آئے۔ دروازے پر د ستک دی ، ماں و ضو کر رہی تھی وہ پہچا ن گئی میر ے بیٹے کی د ستک معلوم ہو تی ہے چنا نچہ دروازے کے قر یب آ کر پوچھا ''کس نے دروازہ کھٹکھٹایا '' جواب د یا با یز ید ہو ں ،تو ما ں کہتی ہے ایک میرا بھی با یز ید تھا میں نے تو اسے اللہ کے لیے و قف کر د یا ،مدر سے میں ڈال دیا تو کون با یز ید ہے جو کھڑا میرا دروا زہ کھٹکھٹا رہا ہے ؟تو جب ا نہو ں نے یہ ا لفا ظ سنے تو سمجھ گئے ماں چاہتی ہیں کہ میرا دروازہ نہ کھٹکھٹا ئے ،اب با یز ید مدر سے میں اللہ کا دروازہ کھٹکھٹا ئے اور اسی سے تعلق ا ستوار کر ے چنا نچہ وا پس آئے مدر سے میں ر ہے اور ا سو قت نکلے جب عا لم با عمل بن چکے تھے ۔اور اللہ نے انکو با یز ید بنا د یا تھا ایک کا میا ب شخصیت کے پیچھے آپکو ایک عورت کا کردار ایک ما ں کی شکل میں نظر آ ئے گا۔حضرت خنسہ ر ضی اللہ عنہا کے با رے میں آ تا ہے کہ ان کے چا ر بیٹے تھے وہ جب کھا نے پر بیٹھتیں تو بچو ں کو کہتیں میر ے بیٹو !تم اس ما ں کے بیٹے ہو جس نے نہ ما مو ں کو ر سوا کیا نہ تمہا رے با پ کے سا تھ خیا نت کی جب بار بار یہ کہتیں تو ایک با ر بچو ں نے کہا کہ امی آ خر اسکا کیا مطلب ہے ؟تو فر ما تیں میر ے بیٹو !جب میں کنواری تھی تو مجھ سے کو ئی ا یسی غلطی نہ ہو ئی جس سے تمہا رے ما مو ں کی رسوا ئی ہو تی اور جب شا دی ہو ئی تو میں نے تمہا رے با پ کے سا تھ خیا نت نہ کی ۔
میں ا تنی غیر ت اور با حیا ز ند گی گزارنے وا لی عورت ہو ں بچے پو چھتے ا می آپ کیا چا ہتی ہیں ؟ تو ما ں کہتی بیٹو!جب تم جوان ہو جا و تو تم سب ا للہ کے را ستے میں جہا د کر نا اور میر ے بیٹو! تم شہید ہو جا نا اور میں آ کر تمہیں د یکھو ں گی ا گر تمہارے سینو ں پر تلوار کے زخم ہو ں گے تو میں تم سے را ضی ہو جائو ں گی اور ا گر تمہا ری پشت پر ز خم ہو نگے تو میں تمہیں کبھی معا ف نہ کرو ں گی ۔بیٹے پو چھتے امی ! آپ کیو ں کہتی ہیں شہید ہو جا نا شہید ہو جا نا ؟ تب ما ں سمجھا تیں کہ میرے بیٹو !اس لئے کہ جب قیا مت کے دن عدل قائم ہو گا اور اللہ تعا لیٰ پو چھیں گے شہیدو ں کی ما ئیں کہا ں ہیں ؟میر ے بیٹو !اسو قت میرے پرور د گار کے سا منے مجھے سر خرو ئی نصیب ہو گی کہ میں بھی چا ر شہیدو ں کی ما ں ہو ں ۔سو چنے کی با ت ہے کہ ا یسے شہداء کے پیچھے آپکو ایک عورت کا کردار ما ں کی شکل میں نظر آ ئے گا۔

متعلقہ خبریں