مینہ قربانی غواڑی BRT

مینہ قربانی غواڑی BRT

دوستوں کی مہربانی کہہ لیجئے، عمرکی کارستانیاں سمجھ لیں یا اعمال کہہ لیں کہ آج کل طبیعت کے سُرکچھ بکھرے بکھرے سے ہیں جنہیں دوبارہ جوڑنے کی کوشش میں طبیبوں کے درشن لینے عام دنوں سے زیادہ گھومنا پڑ رہا ہے۔ ڈرائیونگ خود کر نہیں پارہے سو ڈرائیور تنخواہ کے ساتھ دعائیں بھی وصول کرتا ہے۔ شہر پشاور میں ایک سے ایک بڑا ڈاکٹر موجود ہے لیکن کسی کو بھی ''دل دھڑکنے کا سبب'' معلوم نہیں ہو پا رہا۔ موضوع بہرحال اپنا حال دل بیان کرنا مقصود نہیں نہ ہی ہمیں ذاتی مصیبتیں شیئر کرنے کی عادت ہے۔ بات بس اتنی سی ہے کہ شہر میں گھومتے ہوئے چند دنوں سے احساس ہورہا ہے کہ پشاور شہر آج کل کچھ زیادہ رش والا شہر بن گیا ہے اور آنے والے دنوں میں اس رش میں مزید بڑھنے کے امکانات دکھائی دے رہے ہیں۔کل سہ پہر ہم اپنی ناسازی طبع کو بھول کر عزیز افتخار شاہ کی طبیعت کا پوچھنے گل بہار چلے گئے، موصوف کا کچھ روز قبل آنکھ کا آپریشن ہوا تھا جیسے تیسے گل بہار پہنچ تو گئے لیکن واپسی پر گل بہار سے نکلنا اور جی ٹی روڈ سے ہو کر گھر پہنچنا پل صراط سے گزرنے سے کیا کم تھا۔ وجہ بہرحالBRT کی تعمیر ہی تھی۔ چمکنی سے حیات آباد تک مختلف مقامات کی کھدائیاں شروع ہوچکی ہیں، جہاں جہاں کھدائیاں ہو رہی ہیں وہاں وہاں سے ٹریفک کو متبادل راستوں پر نکالا جا رہا ہے۔ ایسی صورت میں رش کا بڑھ جانا فطری بات ہے۔ کل پہلی بار رش میں پھنس کر بھی مجھے برا نہیں لگا، نہ ہی غصہ آیا، اگرچہ طبیعت بھی چنداں درست نہ تھی۔ اس کی وجہ ایک تو یہ تھی کہ اس رش سے آنے والے چند دنوں تک خوب شناسائی رہے گی سو آج سے ہی اس سے دوستی کر لینی چاہئے۔ دوسری بات یہ کہ رش اور یہ فٹیگ مستقل نہیں عبوری ہے چند ماہ بعد صورتحال تبدیل ہوگی اور تیسری اور آخری بات کہ اس صبر کا میوہ بڑا میٹھا آنے والا ہے۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک کا دعویٰ ہے کہ یہ منصوبہ چھ ماہ میں مکمل ہوگا۔ یقین کیجئے ہمیں بھی آپ کی طرح یقین نہیں آتا لیکن یقین کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں۔ یقین نہ آنے کی ایک وجہ پشاور کا بے ہنگم ٹریفک، ہمارا قومی مزاج اور سرکاری امورات کی پیچیدگیا ں ہیں۔ اپنے انہی شکوک وشبہات کا ذکر ایک محفل میں پی ٹی آئی کے پی کے تھری کے ممکنہ اور مناسب اُمیدوار اور پی ٹی آئی کے دیرینہ ورکر اشرف علی خٹک سے کیا تو انہوں نے بڑا عجیب جواب دیا کہ میرا حوصلہ بڑھ گیا۔ کہتے ہیں کہ یہی سوال انہوں نے سی ایم سے کیا تھا کہ چھ ماہ میں یہ منصوبہ کیسے مکمل ہوگا تو پرویز خٹک صاحب نے جواب دیا کہ اشرف علی! مجھے پتہ ہے کہ یہ کام میں نے چھ مہینوں میں کیسے کروانا ہے لیکن یہ منصوبہ چھ ماہ ہی میں مکمل ہوگا۔ اس بات پر مجھے حیرت اس لئے ہے کہ ہم نے ایک گھر تعمیر کرنا ہے جو پشاور سے تیمرگرہ ٹرانسفر کے بعد ہم نے معطل کر رکھا ہے۔ اس سلسلے میں ایک ٹھیکیدار سے ہم نے بات کی تو اس نے کہا کہ آپ کا گھر ایک برس میں مکمل ہوگا۔ اب دس مرلے کا چار بیڈ روم کا گھر ایک سال میں بنتا ہے کہ جس میں کوئی انڈر پاس نہیں کوئی پل نہیں، چمکنی سے حیات آباد تک کوئی جنگلہ نہیں پھر بھی ایک سال۔ جس انداز سے کھدائیاں شروع ہوئی ہیں اس سے اندازہ ہو رہا ہے کہ پشاور کی تقدیر چند ماہ میں تبدیل ہونے والی ہے کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ BRT کا یہ جدید ٹرانسپورٹ سسٹم جی ٹی ایس بس سروس کے انتقال کے بعد حکومت کی پہلی اور بھر پور سنجیدہ کاوش ہوگی۔ اگرچہ حکومت پر اس منصوبے پر اتنا بڑا خرچہ کرنے پر تنقید بھی ہو رہی ہے جسے میں بلا جواز اس لئے سمجھتا ہوں کہ پشاور کی ترقی پورے صوبے کی ترقی ہے۔ اس مقام پر ایک بات جو بڑی اہم ہے وہ پشاور کے شہریوں کا تعاون ہے۔ یہ منصوبہ پشاور کی ترقی کے لئے اور اس کے مسائل کے حل کے لئے شروع کیا گیا ہے تو اسBRT کی تعمیر میں عوام کو بھی اپنا بھر پور تعاون پیش کرنا چاہئے۔ پشاور جہاں میٹرو پولیٹن شہر ہے وہیں یہ ایک کاروباری حب بھی ہے۔ یہاں دوسرے شہروں سے لوگوں کا کاروبار اور دیگر امور کے لئے آنا بھی ہوگا۔ مال بردار گاڑیاں بھی شہر میں داخل ہوں گی۔ ٹریفک کے سسٹم کو چلانے کے لئے ٹریفک پولیس کی جانب سے ایک روٹ پلان مرتب کیا گیا جسے دیکھنا ضروری ہے اور اس پر عمل ازحد ضروری ہے۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ رش کے اوقات میں مقامی لوگ غیر ضروری موومنٹ سے اجتناب کریں، جیسے ہم نے فیصلہ کر لیا کہ ناگزیر صورتوں میں ہی گاڑی نکالیں گے ٹریفک کا لوڈ شہر پر کم ہو، مریض، کاروباری حضرات یا دیگر مہمان جو شہر میں ضروری کام سے آئے انہیں موومنٹ میں آسانی ہو اورBRT کے اس تعمیراتی کام میں آسانیاں پیدا ہوں۔ یہ شہر ہمارا اپنا ہے۔ اس کی تعمیر میں ہم سب کو فائدہ ہے۔ پشاور ہماری محبت ہے اور محبت قربانی کا نام ہے۔ اسی لئے تو ہم نے آج کے کالم کا نام ''مینہ قربانی غواڑی'' سو پشاور کے باسیو! اس قربانی کے لئے تیار رہو کہ اسBRT سے ہمارے بچے، ہم خود، ہمارے مہمان اس بس سے آرام دہ اور محفوظ سفر کریں گے۔ باقی اللہ کی منشاء سب سے لازم چیز ہے وہی ذات ہم پر رحم فرمائے اور ہمارے لئے آسانیاں پیدا کرے۔ آخر میں قارئین سے اپنی صحت اور پشاور واپس ٹرانسفر کے لئے دعا کی درخواست ہے۔

متعلقہ خبریں