محکمہ تعلیم میں جعلی احکامات پر تقرریاں

محکمہ تعلیم میں جعلی احکامات پر تقرریاں

محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا میں بعض افسران اور عملے کی ملی بھگت سے جعلی احکامات کے ذریعے خواتین اساتذہ کی تقرری صرف اس کے مرتکب عناصر ہی کیلئے مسئلہ نہیں بلکہ اس سے صوبائی حکومت کی جانب سے محکمہ تعلیم کو چار چاند لگانے اور میرٹ پر شفاف بھرتیوں کا عقدہ بھی پوری طرح کھل چکا ۔ محکمہ تعلیم میں این ٹی سی میں گھپلوں اور بولی لگا کر استانیوں کی تقرری کے حوالے سے وقتاً فوقتاًاڑنے والی افواہوں کو افواہ اور الزام تراشی ہی سمجھا جا تا رہا حکومت اور محکمہ اس کی تردید کرتے رہے لیکن جعلی احکامات پر بھرتیوں کے سکینڈل کی بلی تھیلے سے باہر آنے کے بعد سب کچھ طشت ازبام ہو چکا ہے۔ نجانے کتنے افراد خلاف میرٹ اور کتنوں کو جعلی اسناد پر بھرتی کیا گیا ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے چراغ تلے اندھیرا نوعیت کے واقعات ان محکموں اور اداروں میں سامنے آتے ہیں جہاں حقائق کو حقائق کی نظر سے دیکھنے کا رواج نہ ہو ۔ معلوم نہیں فراڈکے اس عمل میں مزید کتنے پارسا شریک جرم ہوں اس کا علم توتحقیقات کی تکمیل کے بعد ہی ہوگا ۔ ہمارے تئیں اس جعلسازی پر افسران کے خلاف محض مقدمات کا اندراج کافی نہیں ان کو باقاعدہ طور پر گرفتار کیا جائے۔ اگر ایسا قانونی طور پر ممکن نہیں تو پھر ان کے خلاف جلد سے جلد مقدمات چلا کر ان کو سخت سزا دینے کی سنجیدہ سعی کی جائے ۔ محکمہ تعلیم کا دعویٰ تھا کہ اتنے لاکھ طلبہ نجی سکول چھوڑ کر سرکاری اداروں میں آگئے ۔بہرحال ایک سنگین نوعیت کا معاملہ ہے ۔ جس میں حکومت جتنا جلدی سخت قانونی اقدامات یقینی بنانے پر توجہ دے گی اتنا ہی بہتر ہوگا ۔ وزیرا علیٰ خیبر پختونخوا کو بھی محکمہ تعلیم میں اس اندھیر نگری کا نہ صرف نوٹس لینا چاہیئے بلکہ صوبے کے تمام محکموں میں بھرتیوں کی از سر نو چھان بین کروائی جائے ۔ محولہ واقعہ کے تمام کرداروں اور ان کے طریقہ کار کو بے نقاب کر کے عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ عوام اس امر سے آگاہ ہوسکیں کہ کس طرح سے ان کو دھوکہ دینے کا امکان ہے تاکہ وہ اس سے محتاط رہیں ۔
الیکشن کمیشن اور ضلعی انتظامیہ کا احسن اقدام
الیکشن کمیشن نے این اے فو ر میں ضمنی انتخابات کی مناسبت سے سرکاری ملازمین کے تبادلوں اور تحریک انصاف کے قائد عمران خان کے رنگ روڈ پر شمولیتی جلسے پر پابندی لگا کر اپنا فرض پورا کیا ہے سیاسی جماعتوں کو از خود قوانین کی پابندی کا خیال رکھنا چاہیئے دوسری جانب جے یو آئی کو شہر کے مرکزی حصے میں جلسہ کرنے کی اجازت نہ دینے کا اقدام بھی عوامی مفاد میں سنجید ہ سعی ہے جس کا احترام کرنے کی بجائے جے یو آئی کی طرف سے ہر حال میں جلسہ کرنے کی ٹھان لینے کا اعلان قانون کو چیلنج کرنے اور قانون کوہاتھ میں لینے کے زمرے میں آتا ہے ۔ اولاً پی ٹی آئی کو رنگ روڈ جیسی مصروف سڑک پر اورجے یو آئی کو شہر کے اندر سٹیڈیم میں جلسہ کرنے کا از خود اعلان نہیں کرنا چاہیئے۔ کیا ان کو معلوم نہیں کہ اس طرح کے جلسوں سے عوام کو ٹریفک بلاک اور سڑکوں کی بندش کے باعث کس عذاب سے گزرنا پڑتا ہے خصوصاً ایسے وقت میں جبکہ پوری یونیورسٹی روڈ پر تعمیر اتی کام جاری ہے جس کے باعث ٹریفک کا نظام پہلے ہی سے بہت متاثر ہے۔ یو نیورسٹی روڈ کی اس صورتحال کے باعث کافی سے زیادہ ٹریفک رنگ روڈ اور باڑہ منتقل ہوچکی ہے ۔جبکہ شہر کے مرکزی مقام پر جلسے سے پورا شہر بری طرح سے متاثر ہوتا ہے۔ ان مشکلات کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ کا اقدام برحق اور قابل ستائش ہے جس کی خلاف ورزی کے اعلان کی بجائے اس کو تسلیم کرنا ہی بہتر رویہ ہوگا ۔ ہمارے تئیں سیاسی جماعتوں کو اصولی طور پر اب طے کر لینا چاہیئے کہ وہ کسی بھی مرکزی مقام پر سیاسی اجتماع کا انعقاد نہیں کر یں گے ۔ لوگوں اور انتظامیہ کی مشکلات کا خیال رکھا جائے گا ۔ توقع کی جانی چاہیئے سیاسی جماعتیں اپنے طرز عمل کا از سرنو جائزہ لیں گی اور عوام کیلئے زحمت کا سبب بننے والے حالات پیدا کرنے سے گریز کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں