امریکہ کو خواجہ آصف کی پیش کش

امریکہ کو خواجہ آصف کی پیش کش

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوبی ایشیاء کے بارے میں نئی امریکی پالیسی کے اعلان کے بعد پاک امریکہ تعلقات پر جس بے یقینی کی کیفیت طاری ہے اسے بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف حال ہی میں امریکہ کے دورے پر گئے تھے۔ وہ واپس آ چکے ہیں لیکن انہوں نے اپنے دورے کے بارے میں پارلیمنٹ میں کوئی بیان نہیں دیا حالانکہ پاک امریکہ تعلقات کے بارے میں ذہنوں میں جو سوال پیدا ہو رہے ہیں ان کے پیشِ نظر یہ ضروری سمجھا جانا چاہیے تھا۔خوا جہ آصف نے (بجائے پارلیمنٹ کے) ایک ٹی وی چینل کے ساتھ انٹرویو میں پاک امریکہ تعلقات پر بات کرتے ہوئے کم و بیش وہی بات کی جو وزیر اعظم عباسی نے کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ جو چار آنے دیتا ہے نہ دے ہم اس کے بغیر گزارہ کر لیں گے۔ لیکن انہوں نے اور بھی باتیں کیں۔ ایک تو ایک بار پھر اپنے گھر کی صفائی والے بیان پر ڈٹ گئے۔ یہ بیان انہوں نے متذکرہ بالا دورہ ٔ امریکہ سے قبل جب وہ امریکہ گئے تھے اس وقت جاری کیا تھا جب ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان پر دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کا الزام عائد کررہے تھے۔ ان دنوں خواجہ آصف نے کہا تھا کہ پاکستان کواپنے گھر کی صفائی کرنی چاہیے۔ اس بیان کو خواجہ صاحب کی طرف سے ڈونلڈ ٹرمپ کی تائید سمجھا گیا اور اس پر بہت لے دے ہوئی۔ متذکرہ بالا ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگر گھر کی صفائی مقصود نہ ہوتی تو نیشنل ایکشن پلان کیوں بنایا جاتا۔ خواجہ آصف کو معلوم ہے کہ نیشنل ایکشن پلان دہشت گرد تنظیموں کے پاکستان بھر میں قتل و غارت گردی اور روز روز کے بم دھماکوں ، ٹارگٹ کلنگ ' اغواء برائے تاوان ' بھتہ خوری ' بینک ڈکیتیوں کی وجہ سے بنایا گیا تھا۔ یہ امریکہ کا مطالبہ نہیں پاکستان کی اپنی جنگ تھی اور ہے۔ جب خواجہ صاحب نیشنل ایکشن پلان کی بات کرتے ہیں تو یہ بھول جاتے ہیں کہ اس پر عملدرآمد کے حوالے سے سویلین حکومت کے جو کام تھے انہیں انجام دینے میں ان کی ن لیگ ناکام رہی اور اب تک ناکام ہے۔ جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیاء پالیسی چند ہفتے پہلے جاری کی گئی ہے جس میں آپریشن ضرب عضب ' آپریشن خیبر اور آپریشن ردالفساد کی کامیابیوں کے باوجود پاکستان پر الزام لگایاجا رہا ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کر رہا ہے خواجہ صاحب جب ڈونلڈٹرمپ کی پالیسی کے اعلان کے بعد اپنے گھر کی صفائی کی بات کرتے ہیں تو پاکستان کے اس مؤقف کی نفی کرتے ہیں کہ پاک فوج کی دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی کے بعد اب پاکستان میں دہشت گردوں کے کوئی نیٹ ورک یا منظم ٹھکانے نہیں ہیں۔ اگر خواجہ صاحب یہ سمجھتے ہیں کہ ریاست پاکستان کا یہ دعویٰ کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے کوئی ٹھکانے نہیں ہیں، غلط ہے تو انہیں وزارت سے مستعفی ہو کر اپنی معلومات کے مطابق ایسے ٹھکانوں کی نشاندہی کرنی چاہیے اور مطالبہ کرنا چاہیے کہ اس دعویٰ کو سچ ثابت کرنے کے لیے ان ٹھکانوں پر کارروائی کی جائے تاکہ اپنا گھر صاف ہو سکے۔ اگر خواجہ آصف پاکستان کے اس موقف سے متفق ہیں کہ پاکستان میں اب دہشت گردوں کے ٹھکانے نہیں ہیں اور پاکستان بقول امریکہ کے ''ڈبل گیم'' نہیں کھیل رہا تو انہوں نے امریکہ کو یہ پیش کش کیوں کی کہ حقانی نیٹ ورک کا خاتمہ کرنے کے لیے مشترکہ آپریشن کر لیا جائے؟ انہوں نے کہا کہ ''ہمارے ساتھ ہیلی کاپٹر میں بیٹھیں اور بتائیں کہ کہاں حقانی نیٹ ورک کے ٹھکانے ہیں تاکہ ان پر بمباری کی جائے۔'' پیش کش اسی صورت میں کی جا سکتی تھی جب امریکہ کا یہ شک یا یقین تسلیم کر لیا جائے کہ پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کے ٹھکانے ہیں۔ یہ پیش کش پاکستان کے اس اعلیٰ الاعلان مؤقف کی بھی نفی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نشاندہی کرے پاکستان خود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کرے گا۔ یہ پیش کش غیر ملکی فوج کو پاکستان میں کارروائی کرنے کی اجازت کی پیش کش ہے۔ اس سے پہلے پاکستان نے کبھی غیر ملکی فوج کے پاکستان کے اندر کارروائی کرنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی تھی۔ یہ پیش کش پاکستان کے اس بار بار دہرائے جانے والے موقف کے بھی منافی ہے کہ پاکستان کسی کی جنگ نہیں لڑے گا ۔ افغانستان کی جنگ پاکستان میں داخل نہیں ہونے دی جائے گی۔ وزیر خارجہ نے بجائے کابینہ کو اعتماد میں لینے کے اور بذریعہ پارلیمنٹ عوام کو اعتماد میں لینے کے ایک ٹی وی انٹرویو میں پاکستان کی پالیسی بیان کی ہے جس میں انہوں نے پاکستان کی سرزمین میں غیر ملکی فوج کی شراکت میں مشترکہ کارروائی کی پیش کش کی ہے۔خو اجہ صاحب کے دورۂ امریکہ سے واپس پہنچنے سے چند گھنٹے پہلے ہی (جب غالباً وہ سفر میں ہوں گے) امریکہ کے وزیر دفاع جیمز میٹس نے سینیٹ کی آرمڈ فورسز کمیٹی میں ایک بیان دیا جس میں انہوں نے کہا کہ امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے مطابق اقدامات کرنے سے پہلے پاکستان کو امریکہ کے ساتھ مل کر افغانستان میں کام کرنے کے لیے ایک موقع دینا چاہتا ہے۔ اگر یہ حکمت عملی ناکام ہو جاتی ہے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ وہ تمام اقدامات روبہ عمل لانے کے لیے تیار ہیں جنہیں وہ ضروری سمجھتے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے ایک اور بیان میں کہا ہے کہ وہ خود اور امریکی وزیر خارجہ آئندہ چند روز میں پاکستان آئیں گے اور پاکستانی حکام سے مذاکرات کریں گے۔ خواجہ صاحب بطور وزیر خارجہ ان ملاقاتوں کے ایجنڈے پر روشنی ڈال سکتے ہیں۔ ان کے یبان کی غیر موجودگی میں چند سوالات ضرور ابھرتے ہیں کہ آیا امریکی وزراء اس ''مہلت'' کی مدت اور اس کے دوران ''پاکستان سے توقعات'' کے بارے میں بات کریں گے؟ کیا یہ طے ہے کہ ان موضوعات پر پاکستانی حکام امریکی وزراء سے کیا مذاکرات کریں گے؟ کیا خواجہ صاحب نے ٹیلی وژن انٹرویو میں پاکستان کی نئی خارجہ پالیسی کے خدوخال بیان کرنے کی کوشش کی ہے؟ ۔

متعلقہ خبریں