صوفی شاعر ، شاہ حسین

صوفی شاعر ، شاہ حسین

ہم شاہ حسین کی خانقاہ پر حاضر ہوئے ۔ شاہ حسین ، آزاد منش صوفی ، اُجلے زمین زادے ، انسانیت پرست تعصبات سے محفوظ ، محبت ہی محبت ، تقسیم کے جذبہ سے مالامال ، ان کا کلام صدیوں کا سفر کر کے زندہ وتابندہ ہے ۔ کسی بزرگ کی خانقاہ مجھے اور فقیر راحموں کو محفوظ پناگاہ محسوس ہوتی ہے ۔ شاہ حسین تو ان بزرگوں میں سے ہیں جو عمر بھر مظلوموں ، مجبوروں ، محکوموں کی ڈھال اور زبان بنے ۔ ہمار ا دکھ یہ ہے کہ ہمارا نصاب تعلیم رحمن بابا ، شاہ لطیف ، خواجہ فرید ، بلھے شاہ، شاہ حسین ، سرمد، جیسے دانا ئوں کے ذکر سے خالی ہے ۔ پتہ نہیں کب ہمیں اپنے اصول کے ساتھ فکر ی استقامت سے ڈٹ کرکھڑا ہونے کی توفیق ہوگی ۔ حملہ آوروں اور لشکریوں کی محبت میں ایک دوسرے پر چاند ماری کرتی مخلوق کو کون سمجھائے کہ اپنے اصل پر شرمسار ہونے کی ضرورت نہیں ۔ تاریخ مذہب کی طرح تبدیل نہیں ہوتی ۔ جب کبھی حبس زدہ ماحول سے فرار کوجی چاہتا ہے تو ہم دونوں کسی صوفی کی خانقاہ میں جا پناہ لیتے ہیں ، شاہ حسین اپنی مثال آپ ہیں ۔ اکبر اعظم کے عہد میں اندرون لاہور کے ایک محلہ میں پیدا ہوئے ۔ ان کا خاندان ملتان کے علاقے سے ہجرت کر کے لاہور آن آباد ہوا تھا ۔ اضلاع کی نئی حد بندیوں کی وجہ سے اب ہم شاہ کے آبائی ضلع کے طور پر وہاڑی کا نام لے سکتے ہیں خاندان کپڑا بننے کا کام کرتا تھا ۔ حافظ ابو بکر سے قرآن حفظ کیا ۔ مروجہ تعلیم کی چند ابتدائی کتابیں بھی پڑھیں پھر من کے بتلائے راستے کے مسافر ہوئے ۔ ان کے والد کی خواہش تھی کہ وہ مولوی بن جائیں مگر شاہ حسین کو شاہ حسین بننا تھا ۔ پنجابی زبان کے اس عظیم المر تبت صوفی شاعر کا سال ولادت 1538ء (945ہجری ) ہے ۔ 63سال کی عمر میں دنیائے سرائے سے کوچ کیا ۔ وفات سے کچھ عرصہ قبل احباب اور عقیدت مندوں کو وصیت کی کہ مجھے دریائے راوی کے کنارے شاہدرہ میں دفن کیا جائے ۔ پھر جب سیلاب سے سب کچھ تہ وبالا ہو جائے تو بابو پورہ ( اب باغبا نپورہ ) میں لیجا کر دفن کیا جائے ۔ شاہ کی رحلت کے 13برس بعد دریائے راوی میں اونچے درجہ کا سیلاب آیا جس کی موجوں نے لاہور کی فصیل پر دستک دی ۔ سیلاب اتر ا تو ان کی وصیت پر عمل ہوا ۔ 

شاعر شاہ حسین ، ملامتی صوفی کے طور پر معروف ہوئے ۔ عربی ، فارسی اور اس وقت کی مروجہ مقامی زبان پر گہری دسترس رکھتے تھے ۔ وحدت الو جودی تھے ، کہتے ہیں ۔ ''میرے اندر باہر کی دنیا میں فقط تو ہی جلوہ نما ہے ۔ شاہ حسین تو ایک عاجزو بے بس فقیر ہے ۔ میری ہستی میں اگر تو نہ ہو تو اس کی بالکل کوئی حیثیت نہیں ۔ میرے مالک تیرے سوا کون ہے جو میرے حال کا محرم ہو''۔ کب کسی کو کچھ کہایا کسی کا کچھ بگاڑا ہے نجانے زمانہ کیوں میرے پیچھے پڑا ہوا ہے ۔ اس عاجزکو تو ذکر یار سے کبھی فرصت ہی نہیں ملتی ۔ بندہ وہی ہے جو ہردم اپنے رب کا ذکر کرتا رہے ۔ '' اے بندے وقت ہاتھ سے نکلتا جارہا ہے اُسے ضائع نہ کر بلکہ اس سے کچھ نہ کچھ حاصل کر لے ، یہ دنیا مستقل قیام کی جاہ نہیں ۔ یہ تو اپنے دام میں آنے والوں کوکہیں کا نہیں چھوڑتی ۔ عارضی کھیل سے جی بہلانے کی بجائے خدمت کر یہی تخلیق کا حق ہے ''۔ '' رات اندھیری ہے اور بادل جم کر برس رہے ہیں ۔ ایسے کڑے وقت میں وہی تو ہے جس کے ہاتھ میری ڈور ہے ''۔ شاہ حسین کہتے ہیں ۔ عشق و محبت کا فلسفہ وہی جانتے ہیں جن کی ہڈیوں میں عشق رچ بس گیا ہو ، کلر تھور والی زمین میں کنواں کھود نے اور ریت میں بیج ڈالنے کا کیا فائدہ ۔ بندے میں تجھ پر حیران ہوتا ہوں کہ تو بس اپنے بارے میں سوچتا ہے حالانکہ حق بندگی یہ ہے کہ دوسروں کے بارے میں سو چا جائے ۔ میرے مالک ! میں تجھ پر قربان ، تیری راہ میں قربان ہوتا ہوا دنیا سے کوچ کر جائوں ۔ لوگ مجھے طعنے دیتے ہیں یہ کیا سمجھیں گے عشق کی رمزوں کو ۔ روٹی کے ٹکڑوں کے لئے ایک دوسرے کو دھکے دیتے ہیں پھر بھی ترستے رہتے ہیں ۔ شاہ حسین تو تیرے در کا فقیر ہے ۔ تیرے فضل میں میری کامیابی پوشیدہ ہے ۔ '' بندے بھی عجیب ہیں۔ دن فضول کاموں میں اور رات سونے میں گزار دیتے ہیں ، دنیا کی محبت مالک سے دور کر دیتی ہے ۔ دنیا سے نہیں دنیا میں بسنے والوں کی محبت سے مالک ملتا ہے ۔ '' اے میری ماں ! خدا کے بعد سب سے زیادہ محبت اور تکریم کے لائق تو ہی ہے ۔ تیری دعائیں میری تقدیر بدل سکتی ہیں ''۔ پتہ نہیں لوگ کس بات پر اکڑتے ہیں ۔ مٹی سے بنے اور مٹی میں مل جانا ہے ۔ گھمنڈ کس بات کا طمع کے گھاٹ پر زندگی رولنے کی بجائے اُسے پانے کی جستجو کرتے رہنا چاہیئے ۔ اے میری ماں ! میرے دل کاحال میرے محبوب حقیقی کی بار گاہ میں کھول کر بیان کردے کہ وہ مائوں کی فریاد جلدی سنتا ہے ۔ میرا جسم ہجر کے کانٹوں سے چھلنی ہو چکا ہے ۔ اس کی ظاہری حالت محبوب کی محبت کے رشتے کی وجہ سے ہے ۔ ورنہ میں تو کب کا بکھر چکا ہو ں ۔ بندہ بھی کیا چیز ہے ۔ ایسا فریب کھا یا کہ ہنسوں کے دھو کے میں آکر بگلے کا انتخاب کر لیا ظاہر وبا طن کی پہچان کے بغیر کھرے اور کھوٹے کی تمیز کہا ں ہو پاتی ہے ۔ دنیا عجیب جگہ ہے یہاں لوگ برائی ، چغلی ، بخیلی اور غم و جبر کے درپے رہتے ہیں ۔ ہائے کوئی تو دیکھے کنول کی پتی پر شبنم کا قطرہ ۔ لوگو!جو خود کو نہ پہچان پائے وہ اپنے رب کو کیسے پہچان پائیں گے ۔ محبوب بنا راتیں کیسے کٹ پاتی ہیں ۔ ہجر و فراق میںبھی جل جل کر میرا تن من سو کھ کر بنجر ہو چکا ۔ لوگ مجھے دیوانہ کہتے ہیں ۔ کہتے رہیں شاہ حسین تو اس کا عاشق ہے جسکا محبوب ۖمدینے میں رہتا ہے ۔ جس نے تیرا دامن تھام لیا وہ اوروں کی طرف کیوں دیکھے ۔ جو تیرا ہوگیا وہ دوسرے کے دروازے پر کیوں جا پڑے ۔ اے میرے مالک ! تو شاہ حسین کو قبول کر لے کہ شاہ نے تیر ے سواکسی کے آگے سر نہیں جھکا یا ۔ سب کو موت نے چن لیا ہماری باری بھی آئے گی یہاں کون ہمیشہ رہتا ہے ۔ شاہ تو تیرے درکا منگتا ہے سب تیرے درکا ۔

متعلقہ خبریں