یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا

یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا

وقت ریت کے زروں کی طرح انسان کی مٹھی سے پھسلتا رہتا ہے ہم آہستہ آہستہ اپنے انجام کی طرف بڑھتے رہتے ہیں ساری زندگی نشیب و فراز کا سفر جاری رہتا ہے ہم جس صورتحال سے آج دوچار ہیں وہ یقینا حوصلہ شکن ہے سب جانتے ہیں سب کو معلوم ہے آپس کی ریشہ دوانیوں نے ہمیں کہیں کا نہیں رکھا۔ لوڈ شیڈنگ، بدامنی روزبروز بڑھتی ہوئی مہنگائی سے کچلے ہوئے عوام کل بھی پریشان تھے اور آج بھی پریشان ہیںیہ جب سیاسی شعبدہ بازوں کی قلابازیاں دیکھتے ہیں تو سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹاہے۔ ایک دوسرے پر چوٹیں کی جارہی ہیں اپنے مخالفین کے کمزور پہلو عوام کے سامنے طشت ازبام کیے جارہے ہیں کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وطن عزیز کی فکر کسی کو بھی نہیں ہے سب اپنے اپنے مفادات کے حصول کی تگ و دو میں مصروف ہیںسب کو اقتدار سے پیار ہے عوام تو صرف اور صرف لٹنے کے لیے ہیں انہیں ہر دور میں لوٹا جاتارہا ہے بقول میر تقی میر : دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا! ہم نے اس مایوس کن صورتحال کے حوالے سے ایک دکاندار سے پوچھا تو وہ بڑی معصومیت سے ہماری طرف دیکھنے لگا، کہا بھی تو صرف اتنا کہا کہ جی ہمیں تو ان باتوں کا نہیں پتہ بس ہم تو پاکستان کی خیر چاہتے ہیں اس سرزمین میں ہمارے بزرگوں کی ہڈیاں دفن ہیںہمیں ان کا ساتھ دینا چاہیے جو قوم کے ساتھ مخلص ہیں جو وطن عزیز کی بھلائی چاہتے ہیں !ہمارا دل چاہتا تھا کہ ہم اس مخلص اور سچے پاکستانی پر ہزار جان سے فدا ہو جائیں جس کا دل صرف اور صرف اپنے پیارے وطن کے لیے دھڑکتا ہے جو ایک چھوٹا سا دکاندار ہے بڑی مشکل سے دن بھر کی محنت و مشقت کے بعد اپنے بچوں کے لیے رزق حلال کماتا ہے ۔کئی کئی گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ نے اس کی زندگی میں زہر گھول رکھا ہے اسے ہر مہینے اپنی حیثیت سے زیادہ بجلی کے بلوں کی ادائیگی کرنا پڑتی ہے یہ جب فریاد کرنے واپڈا کے دفتر جاتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ اس مہینے یہ بل جمع کروادو اگلے مہینے کچھ یونٹس کم کر دیے جائیں گے یہ بیچارا مجبور ہے اسے بل جمع کروانا ہے کیونکہ واپڈا والے میٹر اتار کر لے جاتے ہیں یہ قرض لے کر اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر بجلی اور گیس کے بل جمع کروانے پر مجبور ہے اشیائے خوردنی کی روزبروز بڑھتی قیمتوں نے اس کی زندگی میں کانٹے بو دیے ہیں لیکن کیا کرے پیٹ تو مانگتا ہے اسے بچوں کے لیے دودھ بھی چاہیے گوشت بھی اور سبزی بھی !گوشت کھائے ہوئے اسے عرصہ ہو چکا ہے بس دال سبزی پر ہی گزارا ہے۔جو دودھ یہ گھر لے کر جاتا ہے وہ مختلف قسم کے کیمیکلز سے تیار شدہ ہے شیر فروشوں نے اپنی دکانوں میں بڑے بڑے ٹینک رکھے ہوئے ہیں جن میں سے ایک پائپ کی مدد سے دودھ آرہا ہے یہ سب پائوڈر اور کیمیکلز ملا دودھ ہے جو مختلف قسم کی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے بیمار ہو جائو تو جعلی دوائیوں اور قیمتی ڈاکٹروں سے واسطہ پڑتا ہے۔ ڈاکٹر کی فیس تو ایک طرف کئی قسم کے ٹیسٹ بھی تو کروانے پڑتے ہیں دکھ اور افسوس تو اس وقت ہوتا ہے جب ڈاکٹروں کے کارندے غریب اور ان پڑھ مریضوں کو پلازے میں موجود اپنی مرضی کی لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے لے جاتے ہیں لیبارٹری والا مجبور ہے کیونکہ اب اسے ڈاکٹر کے کارندے کو بھی کمیشن کے طور پر کچھ پیسے دینے ہیں جو وہ اپنی جیب سے ادا نہیں کرسکتا ان پیسوں کا بوجھ بھی غریب اور دکھی مریض پر ڈالنا پڑتا ہے مریض بے خبر ہے لیکن رب کائنات تو دانا و بینا ہے جسے کبھی اونگھ نہیں آتی جو کائنات کی تخلیق کے بعد اپنے بندوںکے حال سے بے خبر نہیں ہے جس نے اپنے پاک کلام میں اپنے بندوں سے وعدہ کررکھا ہے کہ ذرے ذرے کا حساب ہو گا جو ذرہ برابر نیکی کسی نے کی ہوگی وہ اسے بھی دیکھ لے گا اوراپنی کی ہوئی زرہ برابر برائی بھی دیکھے گا اس کی لاٹھی بے آواز ہے اس کے ہاں دیر تو ہے لیکن اندھیر ہر گز نہیں ہے وہ دیر سے پکڑتا ہے لیکن اس کی پکڑ بڑی سخت ہوتی ہے۔ رزق کا وعدہ تو اس نے کر رکھا ہے پھر یہ سب کچھ کیوںکیا جارہا ہے؟ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے اللہ پاک کی ذات پر ایمان کی کمی کا نتیجہ ہے کہ ہم اس کے فرمان کو بھول گئے ہم نے رزاق کو پس پشت ڈال کر چوری چکاری اور دھوکہ بازی کو اپنا رزاق سمجھ لیا جس کا خمیازہ یقیناہمیں بھگتنا ہوگا! بات ہو رہی تھی عام آدمی کی، غریب کے مسائل کی، غریب کے دکھوں کی، غریب کے ساتھ وطن عزیز میں اب تک جو کھیل کھیلے گئے ہیں انہیں سوچ کر دل خون کے آنسو روتا ہے اب تک ہر آنے والی حکومت نے یہ ثابت کردیا ہے کہ کسی کے دل میں غریب کے لیے کوئی ہمدردی نہیں ہے آج کے حالات ہم سب سے گہرے سیاسی شعورکا تقاضا کرتے ہیں۔ 2018 انتخابات کا سال ہے یہ سیاستدان ایک مرتبہ پھر عوام کے سامنے جھولی پھیلا کر ووٹ کا سوال کرنے والے ہیں ! یہ ساری باتیں تو اپنی جگہ لیکن جب غریب آدمی اتنے سارے مصائب جھیلنے کے بعد بھی پاکستان کی خیر مانگتا ہے تو ذہن میں یہ سوال ضرور ہلچل مچاتا ہے کہ ہمارا صاحب اقتدار طبقہ کب سدھرے گا اس کے دل میں وطن عزیز کی محبت کب بیدار ہوگی ؟۔

متعلقہ خبریں