ریٹائرڈ افسروں کا شغل میلہ؟

ریٹائرڈ افسروں کا شغل میلہ؟

برطانیہ کے لندن سکول آف اکنامکس میں منعقدہ عوامی مباحثے سے بھارتی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دُلت اور پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل احسان الحق نے پُرزور معانقوں اور پُرجوش مسکراہٹوں کے تبادلے کے بعدکہا ہے کہ دونوں ملک دیرینہ تنازعات کے حل کے لئے سفارتی مذاکرات کاراستہ اپنائیں اور کرکٹ کھیل کر باہمی روابط بڑھائیں۔ دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کوئی آپشن نہیں۔ دونوں نے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انٹیلی جنس پس منظر پر روشنی ڈالی اور ایک دوسرے کو لطیفے سنائے۔ جنرل احسان الحق کا کہنا تھا دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں تعطل کے باوجود خفیہ رابطے جاری رہنے چاہئیں اور ان تعلقات کو نیچے سیاسی سطح تک آنا چاہئے۔ مسٹر دلت کا کہنا تھا کہ خفیہ معلومات کا تبادلہ ہونا چاہئے تاہم جنرل احسان الحق نے کہا پاکستان اور بھارت کے درمیان اصل تنازعہ کشمیر پر بھارت کا قبضہ ہے اور پاکستان کے لئے یہی سب سے اہم مسئلہ ہے۔ پاکستان کشمیریوں کی حمایت کرتا ہے جس کی سزا بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کروا کے دے رہا ہے، کلبھوشن یادیو کے اعترافات اس کا ثبوت ہیں۔ مجموعی طور پر جنرل احسان الحق کی گفتگو موثر اور دلائل سے بھرپور تھی۔ انہوں نے اپنے ملک اور کشمیر کا کیس بہت مہارت اور اعتماد کے ساتھ پیش کیا ۔اس کے جواب میں اے ایس دلت نے کہا کہ بھارت کشمیر پر بات چیت نہیں کررہا کیونکہ وہ اسے اپنا لازمی حصہ تصور کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ سرد جنگ کے زمانے میں سی آئی اے اور کے جی بی ایک دوسرے سے بات چیت کرتی تھیں اس سے دنیا ایک عظیم جنگ سے بچ گئی مگر یہ بات ناقابل فہم ہے کہ پاکستان اور بھارت کی ایجنسیاں آپس میں بات چیت نہیں کرتیں، اچھے اوربرے دنوں میں اس سے مطلوبہ نتائج حاصل ہوتے ہیں، دو روایتی اور دیرینہ حریف انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سابق سربراہوں کااس بات پر اتفاق تھا کہ بات چیت جاری رہنی چاہئے۔ لندن میں را اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہوں کا ایک چھت تلے جمع ہونا کوئی انوکھا واقعہ نہیں ۔سرد جنگ کے بعد جب امریکہ نے پاکستان اور بھارت کو قریب لانے کی کوشش کی تو اس کیلئے ٹریک ٹو ڈپلومیسی کا سہار ا لیا ۔ دنیا بھر کے سیاحتی مقامات اور مہنگے ہوٹلوں میں دونوں ملکوں کے غیر سرکاری نمائندوں کو جمع کرکے دوستی اور پیار ومحبت کی باتیں ہوتی رہیں۔ اس عرصے میں ایک طرف دونوں ملکوں کی فوجیں کنٹرول لائن اور بین الاقوامی سرحد پر لڑائی کر رہی ہوتیں کشمیر میں قتل عام ہو رہا ہوتا تو دوسری طرف غیر سرکاری نمائندے کسی این جی او کی دعوت اور کسی پراجیکٹ کے تحت ٹھنڈے ہالوں میں بیٹھ کر تقریروں سے پیار محبت کے ''تارِعنکبوت ''بُنتے رہے۔ بیس بائیس سال کی کوچہ نوردی کے بعد یہ سب کچھ واقعی مکڑی کا جالا ثابت ہو ا اور کشیدگی کی ہوا کا ایک جھونکا سب کچھ بھک سے اُڑا کر لے گیا یہاں تک کہ آج دونوں ملکوں میں بات چیت کے سرکاری اور غیر سرکاری دونوں چینل بند پڑے ہیں۔غیر سفارتی اور غیر سرکاری چینل اس ماحول میں کیسے محبتوں کے گیتوں سے گونج سکتے ہیں جب سفارتی اور سرکاری چینل شعلے اُگل رہے ہوں۔ اقوام متحدہ کے ایوانوں میں ایک دوسرے کو ''ٹیررستان'' اور ''دہشت گردوں کی ماں'' جیسے القابات سے نوازا جا رہا ہو تاہم بند پڑے سفارتی چینلوں اور بے رونق مذاکرات گاہوں اور دھول سے اٹی دوستی کی فائلوں کے اس ماحول اور ایک طویل وقفے کے بعد پہلی بار لندن کی خزاں گزیدہ شاموں میں دریائے ٹیمز کے کنارے دو حریف ملکوں کی حریف خفیہ ایجنسیوں کے دو اعلیٰ ریٹائرڈ افسر مسکراہٹیں بکھیرتے ، معانقے کرتے، لطیفے سناتے پائے گئے تو اسے ان کا شغل میلہ اور اس طرح کی محفل کو ''گپ شپ پارٹی '' کے سوا کیا نام دیا جا سکتا ہے ۔اب ان ریٹائرڈ افسروں کی حیثیت دہلی گیٹ پر کھڑے کسی پان فروش اور اسلام آباد میں کسی چائے والے سے زیادہ نہیں کیونکہ وقت کے اقتدار اور اختیار کی باگیں ان کے ہاتھوں میں اور رکابیں ان کے پیروں میں باقی نہیں رہیں۔ حالات تو اب حکمرانوں، حاضر سول سروس افسروں اور وردی پوشوںکے کنٹرول میں نہیں رہے تو بے چارے ریٹائرڈ افسر کس کھیت کی مولی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں سابق افسر آخرمیں اس اتفاق رائے سے پاک بھارت تعلقات کے عارضے کے لئے صرف یہ نسخۂ شفا پیش کر سکے کہ دونوں ملکوں کو کرکٹ کھیلتے رہنا چاہئے۔ جیسے کرکٹ کوئی چھومنتر ہوجس کے پڑھتے ہی تاریخ اور حالات کا دھارا اُلٹے رخ چل پڑے۔ کشیدگی کی حالیہ لہرکے پیچھے موہالی سے بنگلورکے میدانوں تک کرکٹ کے کئی دوستانہ میچ اور دانستہ ہار جیت کے کئی ادوار ہیں ۔ گزرے ہوئے بیس پچیس برس کتنے ہی چوکوں اور چھکوں سے بھرے پڑے ہیں معاملہ '' علاج بالکرکٹ '' اور کھیل کا ہوتا تو شاید کبھی کا حل ہو چکا ہوتا مگر مسئلہ بڑے کھیل اورپوشیدہ مفادات کاہے، دو ملکوں کے درمیان پراکسی کا مقامی کھیل اب بہت واضح انداز میں گریٹ گیم میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس کھیل کو ختم کرنے کے لئے سب فریقوں کو بڑے فیصلوں اور بڑے دل کا مظاہرہ کرنا ہوگا جس کا سرِ دست کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

متعلقہ خبریں