مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے

مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے

مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے یہ آواز سنتے ہی نہ جانے کتنے دلوں پر غم کے بادل چھا جاتے ہیں جیسے گھر میں ماتم بپا ہو گیا ہو۔سب پر سکتے کا عالم طاری ہو جاتا ہے ۔بچے کی پیدائش سے پہلے والدِ گرامی نے جو خواب دیکھے ہوئے تھے ان سب پر جیسے پانی پھر جاتا ہے ۔ان کو اپنا ہر سہانا سپنا چکنا چور دکھائی دینے لگتاہے۔جیسے کہ بیٹے کی پیدائش کے بعد بیٹا والدین کی کمائی کا ذریعہ بننے چلا ہو۔ اپنے ہی والدین اپنی ہی اولاد ایک بیٹی کو کمتر نظروں سے دیکھنے لگتے ہیں۔خدا خبریہ بیٹے اور بیٹی کا فرق کب ختم ہو گا۔کب تک ہمارے معاشرے میں عورت کو پاؤں تلے روندا جائے گا۔کب تک بیٹی کو کاغذ کا ایک فضول پرزہ سمجھا جائے گاکہ جس کو جب چاہے ٹشو کی طرح ہاتھ پونچھ کرپھینک دیا۔اگر اپنے گھر کی عزت کو ہم خود مرتبہ نہیں دیں گے تو باہر کے لوگوں سے کیا اچھے کی توقع رکھیں گے۔ہمارے معاشرے میں ایک بیٹی کا پیدا ہونا اب بھی باعثِ رحمت نہیں ۔حالانکہ مشکل وقت پڑنے پر اپنے خاندان میں گھر والوں اور ماں باپ کے کام آنے والی او رساتھ نبھانے والی بہن اور بیٹی ہی توہوتی ہے ۔جس بیٹی کو ہم پاؤں کی جوتی سمجھتے ہیں اصل میں وہی ہمارے سر کاتاج ہوتی ہے اور کبھی اپنے اور اپنے والدین کا سر فخر سے بلند کرتی ہے۔بڑے لوگوںکو عورت ہی نے تو جنا ہے۔اگر عورت کو اتنا کم تر سمجھا جاتاہے تو پھر اُس سے شادی کر کے گھر کیوں بسایا جاتا ہے۔اسی زن کے وجود سے تو کائنات میں رنگ بکھرے ہوئے ہیں۔خود خدا نے مرد کے ساتھ عورت کو ساتھی چنا ہے۔تاکہ وہ مرد ذات کے دل کے لئے ایک خوشی ثابت ہو۔اگر بیٹا پیدا ہو تا ہے تو اُس کی شادی کرنے کے لئے ایک لڑکی ہی کا انتخاب کیا جاتا ہے۔پھروہ لڑکی ایک بہن ایک بہو ایک بیٹی اور سب سے بڑھ کر ماں کے روپ میں سامنے آتی ہے۔پھر جب وہی بہو بیٹی خاندان کا وارث لڑکا پیدا کرکے دے تواُسی بہو کی واہ واہ ہو جاتی ہے۔یہ کیسی اندھیرنگری ہے۔ہم نے ابھی عورت ذات کو عزت اور مقام دینے کاارادہ کیا ہے فیصلہ نہیں کیا۔جب تک ہم فیصلہ کرنے میں کامیاب نہیںہوں گے نسواں اپنامقام کبھی حاصل نہیں کرسکے گی۔معاشرے میں ہر مقام پر عورت کو صرف نام کی عزت دی گئی ہے۔ لیکن مقام صرف مرد کے حصے میںآتا ہے ۔اگر مرد میں کسی قسم کی کمی بیشی ہو یا مالی حالات ڈانواڈول ہوں تو ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے لڑکی ذات ہی کو سامنے لایا جاتا ہے ۔ہر قسم کے دکھ غم رنج والم سہتے ہوئے بھی اگر عورت بدنام ہے تو پھر اس دنیا سے اس کا وجود ہمیشہ کے لئے مٹا کیوں نہیں دیتے۔ کربلا جیسے واقعہ کو لوگوں تک پہنچانے والی بی بی زینب ایک عورت ہی تو تھی جن کی وجہ سے آج ہم با ادب طریقہ سے یومِ عاشور کے ہر واقعہ سے واقف ہیں۔ مردکے شانہ بہ شانہ چلنے والی ہمارے قائد کی بہن محترمہ فاطمہ جناح بھی تو ایک عورت ہی تھیں۔جنہوں نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر پاکستان کی خدمت کی ۔ حضورۖ کی والدہ ماجد ہ کی وفات کے بعد آپ کو ماں کا پیار دینے والی مائی حلیمہ بھی تو ایک عورت ہی تھیں۔اپنے جسم پر گولیوں کے وار سہہ کر اپنی قوم کا نام سربلند رکھا وہ بے نظیر بھٹو بھی تو ایک بیٹی تھی۔اپنا سینہ گولیوں سے چھلنی ہونے کے باوجود اپنے ملک کے جھنڈے کو ہاتھ سے گرنے نہ دینے والی کئی بیٹیاں اس زمین پر موجود ہیں۔تو پھر آج بھی اس بہن بیٹی کی آواز سے کب تک نفرت کی جائے گی۔گھر کو سنبھالنا بچے پیدا کرنا شوہر کی خدمت کرنا گھر کا چولھا جلانے میں مردکے ساتھ ساتھ رہنااپنے شوہر کے ہر غم کو اپنے پلو سے باندھے رکھنا ۔غرض یہ کہ اپنے خاندان کے کسی فرد پہ مشکل وقت پڑنے پر ہر اذیت کے کانٹوں کا تاج عورت ہی سر پر سجاتی ہے ۔اگرآج دنیا میں ہرمرد کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے تو وہ ایک عورت ہی کی وجہ سے ہے۔ اگر عورت کے پاؤں میںگھنگرو بجتا ہے تواُس کی وجہ بھی مردہے ۔ایک مرد کا عشق اور محبت عورت ہی سے تو ہوتا ہے جس کو پا کر وہ اپنا گھر بسانا چاہتا ہے۔ایک گھر بنتا ہے تو عورت ہی کی وجہ سے ۔اگر عورت کا دنیا میں وجود نہ ہو تو یہ کائنات پھیکی ہوتی ہے۔یہ کائنات ایک گلشن ہے ۔بہن بیٹی بہو مختلف پھولوں کے نام ہیں۔اگرعورت کسی بھی وجہ سے اپنے خاندان کو وارث نہیں دے سکتی تو لعنت ملامت اُسی بیچاری پر کی جاتی ہے ۔اگر مرد کسی کم فہمی کا شکا ر بھی ہو تو اس پر کسی کوانگلی اُٹھانے کی جرأت تک نہیں ہوتی۔ حتی الامکان کو شش یہی ہوتی ہے کہ مرد کے حصے کا قصور عورت ہی کے سر لگایا جائے اور موردِ الزام عورت ہی کو ٹھہرایا جائے۔یوںتو حقوقِ نسواں کے بہت سے بل پاس ہوئے لیکن آج بھی حوا کی بیٹی جہاں ہزاروںسال پہلے کھڑی تھی وہیں کی وہیں ہے اور نہ جانے کب تک اپنے حق کے لئے لڑتی رہے گی۔جب بچہ جنم لیتا ہے تو اُس کا پیٹ باپ کی کمائی سے نہیں بلکہ ماں کے دودھ سے بھرتا ہے۔ وہ ماں بھی تو ایک عورت ہے، محبت کرنے پر مرد کے جرم میں جس کو ستی بنایا جاتا ہے اور مرد بری الذمہ رہتا ہے وہ بھی ایک عورت ہی تو ہے۔ بچے کی پہلی درس گا ہ ماں کی گود ہے باپ کے کندھے نہیں۔پھر آخرت میں بھی اولاد کو ماں کے ہی نام سے پکارا جائے گا جو ایک عورت ہی تو ہے۔

متعلقہ خبریں