بات کردار کی ہوتی ہے

بات کردار کی ہوتی ہے

کردار ایک ایساعمل ہے جو آپ کو آسمان کی بلندیوں پر بھی لے جا سکتا ہے اور زمین کی پستیاں بھی دکھاسکتا ہے آپ ایک باکردار اور باشعورشخصیت کے حامل ہیں تو یقینا کامیابیاںآپکے قدم چھومیںگی اور اگر آپ باصلا حیت ہونے کے باوجود بھی باکردار نہیں تو پستیاں و ناکامیاں آپ کا مقدر بن جائیں گے ،بطور طالب علم صحافی میں نے یہ ہمیشہ محسوس کیاکہ ہم باصلاحیت تو ہیں مگرشاید باکردار نہیں تبھی تو ہم ہر وقت ذرا سی اختلاف رائے پر دوسروں کی کردار کشی کرناشروع کردیتے ہیں اور ذاتیات پر اتر کر اخلاقیات کا جنازہ نکال دیتے ہیں آپ سوشل میڈیا کی کوئی بھی ویب سائٹ کھول کر دیکھ لیں کسی بھی سیاسی لیڈر یا صحافی کی ماں بہن کو آپ اس پر محفوظ نہیں پائینگے نام نہاد جمہوریت پسند، فیس بکی دانشور اور سیاسی کارکن تو دور حتیٰ کہ کچھ خود ساختہ سیاستدان بھی اپنے ذاتی اکائونٹس سے ان صحافیوں کو گالیاںدینے کی ہدایت دیتے نظر آئینگے جو ان سے اختلاف کی گستاخی کرتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتاکہ صحافی پاک صاف ہیں اور سیاستدان ہی تمام برائیوں کی جڑہیں ایسا قطعاً نہیں ہاں اتنا ضرور ہے کہ صحافت ضرور مقدس پیشہ ہے مگرہر صحافی مقدس نہیں اسی طرح سیاست کو آئین عبادت سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ خدمت خلق ہے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں ماسوائے چند ایک کے ہر سیاستدان عبادت گزار نہیں یعنی عملاً خدمت گار نہیں۔کسی سے اختلاف رائے کرنا آپ کا آئینی حق ہے لیکن کسی پر بھی اختلاف رائے کی بنیاد پر تہمت لگانے کیساتھ ساتھ گالم گلوچ کرنا ہر گز قابل قبول نہیں ۔ حصول علم کا مطلب صرف روزی روٹی کمانا نہیں بلکہ علم شعور کے حصول کیلئے کرناچاہئے علم اس لئے بھی حاصل کرنا چاہئے تاکہ ہم باشعور ، باادب اورباضمیر بن جائیں اچھے اور برے کی تمیز کھوٹے اور کھرے کی پہچان کرسکیں اور اپنے دوست و دشمن میں فرق جان سکیں ۔ دوسری طرف ستم ظریفی یہ ہوگئی کہ تعلیمی اداروں میں بھی سیاسی تنظیمیں متعارف کراکے نوجوانوں کا رخ عمل سے ہٹا کر سیاسی مفاد کی طرف موڑ دیا گیا۔بجائے جڑنے کے دوریاںپیدا ہوگئیں سیاسی جماعتیں اپنے ذاتی مفاد کی خاطر طالب علموں کواستعمال کر رہی ہیں ،اگر اس منفی سیاست کو نہ روکا گیا تو کچھ بھی بہتر نہ ہوگابلکہ مصیبتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔ کیونکہ ہمارے نامور سیاسی رہنماء عدم برداشت کا شکار ہیں جب ہمارے لیڈر ہی سیاست کو ذاتیات بنا لیں گے تو ان کے چاہنے والوں نے تو ان کی ہی پیروکاری کرنی ہے ، جیسا رویہ رہنمائوں کا ہوگا بالکل ویسا طرزعمل کارکنوں کا بھی نظر آئے گا ۔ جیسا طرزعمل دانشوروں کا ہوگا ویسا رویہ آپ کو ان کے پڑھنے والوں میں بھی دیکھائی دے گا ۔ جیسا کردار والدین کا ہوگا بالکل ہی ویسا شعور ان کے بچوں میں پایا جائیگا۔ جتنی کرپشن یا خرابی عوام میں پائے جائے گی ہوبہو اس سے بھی دوگنی کرپشن و بددیانتی انکے حکمرانوں میں پائی جائیگی ۔ لیکن کچھ لوگ ساری غلط کاریوں کا ذمہ دار حکام بالا کو قرار دے دیتے ہیں فرض کرلیں کہ صرف حکمرانوں کو ہی تمام تر خرابیوں کی جڑ سمجھ لیاجائے تو کیا عوام دودھ کے دھلے ہیں ؟ کیا ان کو ہم خود ووٹ دیکر حکمرانی کاحق نہیں دیتے؟ آئیں ہم سب مل کر اپنے آپ سے یہ عہد کریں کہ آئندہ بجلی چوری نہیں کرینگے اور کبھی بھی کوئی غلط کام نہیں کرینگے۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ہم سازشی جن سے تاحال چھٹکارا نہیں پا سکے شاید ہمارا اپنا کردار ہی مشکوک ہے ،روہینگیا مسلمانوں، کشمیر اور فلسطین پر ہوتے بے جا مظالم کو دیکھ کرخون کھول اٹھتا ہے۔ کچھ ہی دن پہلے ایک مذہبی جماعت کی طرف سے روہینگیامسلمانوں کے حق میں ریلی نکالی گئی مگر انکے بینر پرلکھے الفاظ بڑے غور طلب تھے اور وہ یہ تھے کہ برما میں روہنگیاں مسلمانوںکے خلاف یہ سب کچھ اسرائیل اور ایران کی مدد سے ہورہاہے چلو یہ تو سمجھ میں آگیاکہ اسرائیل یہودی ملک ہے لیکن ایران تو مسلمان ملک ہے وہ ایسا کیوں کریگا؟ خیر ان لوگوںنے ایران کو بے نقاب کردیالیکن پھر اسی بینر پر OIC نامی ایک تنظیم جس کا ایران بھی ممبر ہے سے روہینگیا معاملے پر مدد کی درخواست کی تھی اس پر بس اتنا ہی کہوں گاکہ خود ہی ذرا اپنی ادائوں پہ غور کیجئے پھر اگرہم نے کچھ کہاتو شکایت ہوگی۔ جب تک ہمار ے ذاتی کردار میں کوئی بہتری نہیں آتی تب تک کچھ بھی بہتر نہیں ہوسکتا۔ بقول افتخار عارف 

بات کردار کی ہوتی ہے وگرنہ عارف
قد میں تو انسان سے سایہ بھی بڑا ہوتا

متعلقہ خبریں