ترمیم در ترمیم

ترمیم در ترمیم

لاقانونیت کے جنگل میں ہر قسم کے خاردار درخت تناور بن چکے ہیں ،کچھ درخت کرپشن ،اقرباء پروری اور میرٹ کے قتل جیسے'' پھلوں'' سے اٹے ہوئے ہیں۔ان کی نگہداشت اور دیکھ بھال نہ ہو نے کے باعث یہ کافی حدتک بڑھ چکے ہیں اور ان کے ساتھ کانٹے بھی لگ چکے ہیں اس لیے اگر کوئی قانونی ہاتھ ان کی طرف بڑھے تو یہ خار اس کو زخمی کر نے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔ لاقانونیت کے ویران جنگل میں اندھیر نگری ہے ، جس کا جہاں ہاتھ لگتا ہے فوائد حاصل کرنے سے گریز نہیں کرتا۔اس کے لیے وہ خون خوار بھیڑیے سے بھی دو ہاتھ آگے نکل چکا ہے۔ذاتی مفاد کو اجتماعی مفاد پر ترجیح دی جاتی ہے۔وطن عزیز پاکستان میں بھی لا قانونیت کی آگ لگی ہوئی ہے جس میں معاشرے کے باصلاحیت ، غریب اور پسماندہ افراد جل رہے ہیں اور اشرافیہ اپنے مضبوط ہاتھوں کی وجہ سے مامون و محفوظ رہتی ہے ۔قانون کی عملداری اور پاسداری تو صرف غریبوں نے کرنی ہے، قانون کے شکنجے میں اگر کوئی کسا جاتا ہے تو صرف غریب۔اور اگر کہیں بڑی مرغیوں کو پھانسنے کے لیے کو ئی قانونی پھندہ ہے بھی تو یہ دن رات اشرافیہ کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے وہ شب وروز اس کے خاتمے کے لیے ترمیم کا راگ الاپتے نظر آتے ہیں۔ بالآخر اس قانون میں ترمیم کے ذریعے بڑے مجرموں کو آزادی ملتی ہے ۔ہمارا آئین اس طرح کی ترامیم سے اٹ چکا ہے ،کہیں سولہویں ترمیم کی بازگشت سنائی دیتی ہے تو کہیںسترہویں ،اٹھارہویں اور انیسویں کی، بہرحال یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اسی سلسلے میں پارلیمنٹ میں ایک ترمیم کے ذریعے صدارت سے متعلق ایک قانون پاس کیا گیا ،جس کے مطابق نااہل شخص پارٹی کی صدارت کرسکتا ہے۔ اسی طرح انتخابی اصلاحات کے نام سے پاس ہونے والے بل میں ختم نبوت کے قانون سے متعلق بھی ہیر پھیر کی گئی جسے عوامی طاقت کے ذریعے دوبارہ بحال کروایا گیا ۔آئین کی شق باسٹھ اور تریسٹھ بھی ان کی آنکھوں میں کھٹکتی ہے اس کے لیے کب ترمیم کی جاتی ہے انتظار کیجیے ۔ بنظرغائر اگر دیکھا جائے تو اس وقت دنیا میں دو ہی قسم کے قوانین عملًا موجود ہیں ۔ایک تو اسلامی قوانین ہیںاور دوسرے انگریز کے وضع کردہ ۔ثانی الذکر قوانین میں شاید کہیں لچک ہو امیر غریب کے لیے انصاف کے الگ الگ پیمانے رائج ہوں امیر کوتاہی کا مرتکب ہو تو اس کے لیے معذرت کو کافی سمجھا جائے اور اس کے لیے سزا کا تصور تک نہ ہو، جبکہ اس کے برعکس غریب اگر کبھی نادانستہ طور پر بھی خطا کی وادی میں چلا جائے توظلم کی بنیادوں پروضع کردہ قوانین اس کی طرف بھیانک شکل میں لپک رہے ہوتے ہیں اور امرِواقع میں بھی ایسا ہی ہے کہ یہ قوانین چوروں ،ڈاکووں کو تحفظ فراہم کرتے ہیںاور اگر کوئی قانونی شکنجہ ان کے گلے میں کسا جا سکتا ہوتو اس کے لیے بھی ''ترمیم ترمیم '' کی صدائے بازگشت سنائی دینے لگتی ہے۔ یوں کنڈے میں آئی ہوئی بھاری بھرکم مچھلیاں نکلنے میں کامیاب جاتی ہیں ۔ اب ان لو گوں کا منحوس وجود زمین برداشت نہیں کرسکتی لہٰذا ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے کیوں کہ حکومتیں کفرو شرک کے ساتھ تو قائم رہ سکتی ہیں ظلم کے ساتھ نہیں ۔حضرت علی کا دورخلافت ہے ۔قاضی القضاة قاضی شریح کی طرف سے امیر المومنین کو سمن جاری ہوتے ہیںکہ قاضی کی عدالت میں پیشگی ہے وقت کے حاکم کو ئی صدار تی یاوزارتی استثناء نہیں مانگتے بلکہ قانون کی عملداری کے لیے بذات خود کمرہ عدالت میں تشریف لے جاتے ہیں ۔ وہ مقدس اور پاکیزہ اسلامی تعلیمات جو ایک عام آدمی کو ا س قدر جری کرتی ہیں کہ وہ وقت کے حاکم سے بھی احتساب کرسکتا ہے ،امیر غریب کو ایک کٹہرے میںکھڑا کرتی ہیں ۔وطن عزیز میں پہلے تو قوانین ہے ہی نہیں اوراگر ہیں بھی تو ان پر عملدرآ مد نہیں اور اگر کہیں کسی قانون پر عملدرآمد کیا جاتا ہے تو وہ صرف غریب پر لاگو ہوتے ہیں ، صدر، وز یراعظم ، وزراء اور عوامی عہدیداران اس قسم کی مشقت میں نہیں پڑیں گے ان کو استثناء حاصل ہو گا ۔ان حالات میں تفریق کی ایک لکیر امیر اور غریب کو پاٹتی ہے ،احساس کمتری پیدا کرتی ہے ،غریب قوم سوچتی ہے آخر کب تلک قوانین کو موم سمجھ کر ان میں ترامیم کی جاتی رہیں گی ۔

متعلقہ خبریں