جنوبی ایشاء میںامریکی بے چینی

جنوبی ایشاء میںامریکی بے چینی

دنیا پر بالادستی کا خواب دیکھنے والا امریکا ایک طرف ان دنوں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر محتاط روئیے اور غیر ذمہ دارانہ بیان بازی کی وجہ سے شدید عالمی رد عمل کا شکار ہے تو دوسری جانب امریکی سینیٹ، امریکی محکمہ خارجہ ، پینٹا گون اور امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسیوں اور بیانات میں واضح فرق اور اختلاف دیکھنے میں آرہا ہے۔ شمالی کوریا نے صدر ٹرمپ کی طرف سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دی جانے والی دھمکی کے جواب میں ہائیڈروجن بم کو امریکا کے خلاف استعمال کرنے کے تجربات شروع کر دئیے تو امریکی محکمہ خارجہ کو یہ وضاحت جاری کرنا پڑی کہ '' امریکا ، شمالی کوریا کے خلاف کسی بڑی فوجی کارروائی کے متعلق نہیں سوچ رہا ۔''محکمہ خارجہ کی یہ وضاحت صدر ٹرمپ کی دھمکی کو گیدڑ بھبکی ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔مزید برآں!امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے ری پبلکن چیئرمین باب کروکرنے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کا ایٹمی ممالک کو للکارنا خطرناک ثابت ہوگا، ٹرمپ نے امریکا کو عالمی جنگ کی راہ پر ڈال دیا ہے۔'' باب کروکر کا مزید کہنا تھا کہ '' صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے شمالی کوریا کو دھمکی دینا ، امریکا کو ایک نئی آزمائش سے دو چار کر سکتا ہے۔ اگر صدر نے یہ طرز عمل تبدیل نہ کیا تو امریکا کو کسی بڑے حادثے سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔'' شمالی کوریا کو ٹرمپ کی طرف سے دی جانے والی دھمکی کے اثرات کم کرنے کے لیے امریکی وزیر خارجہ' ریکس ٹیلر سن'نے شمالی کوریا کو مذاکرات کی دعوت بھی دی تاکہ امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان قائم ہونے والے کشیدہ ماحول میں کچھ کمی آسکے لیکن امریکی وزیر خارجہ کے اس اقدام پر صدر ٹرمپ نے اپنے ہی وزیر خارجہ کو بے وقوف قرار دیتے ہوئے کہا کہ '' شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات بے سود ہیں ، اسے فوجی کارروائی سے ہی سبق سکھایا جائے گا۔ ''اس صورتحال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکا کے اندر بھی اداروں کے درمیان ٹکرائوکی کیفیت موجود ہے جو کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ اپنے ہی وزیر خا رجہ کو بے وقوف کہنے والا صدر ٹرمپ ، شمالی کوریا کے سربراہ 'کم جونگ ان'کو پاگل شخص قرار دیتاہے جبکہ شمالی اتحاد کا سربراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبطی اور پاگل کہتا ہے۔ دنیا پریشان ہے کہ ان دونوں میںسے صحیح کون کہہ رہا ہے؟ راقم الحروف کے خیال میں دونوں ہی بالکل درست کہہ رہے ہیں اور دنیا کو ان دونوں کی باتوں کو درست تسلیم کرنا چاہئے۔ 

جس طرح کا دھمکی آمیز رویہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے خلاف استعمال کیا ، ایسا ہی طرزِ عمل صدر ٹرمپ نے چند روز قبل پاکستان کے متعلق بھی اختیارکرتے کیا تھا اس دھمکی کے جواب میں شمالی کوریا کی طرح پاکستان کی حکومت ، اسٹیبلشمنٹ اور سول سوسائٹی نے بھی شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کی دھمکی کو مسترد کر دیا ۔اس سے قبل امریکانے بھارت کی خوشنودی کے لیے مقبوضہ کشمیر میں بر سر پیکار کشمیری حریت پسندوں کی سب سے بڑی تنظیم حزب المجاہدین کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے ساتھ متحدہ جہاد کونسل کے سپریم ہیڈسید صلاح الدین کو بھی عالمی دہشت قرار دیا تھا ، جس کو پاکستان کی وفاقی حکومت نے یکسر مسترد کرتے ہوئے امریکا کے اس اقدام کی مذمت کی تھی ۔ علاوہ ازیں ! امریکا کی طرف سے اندر خانہ شکیل آفریدی کو امریکا کے حوالے کرنے کا دبائو بھی موجود ہے، جس پر پاکستان کی طرف سے مسلسل انکار کیا جا رہا ہے۔ اس انکار پر امریکا بری طرح سیخ پا ہے۔ اس طرح کے متعدد امریکی اقدامات ، الزامات ، دھمکیاں اور مطالبات ہیں ، جس کی وجہ سے گزشتہ کچھ ماہ سے پاک امریکا تعلقات انتہائی کشید گی کا شکار ہیں ۔حکومت پاکستان نے امریکا کے ناروا روئیے کی وجہ سے امریکا کے ساتھ سخت ترین سفارتی پالیسی اختیار کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت حکومت پاکستان کی طرف سے 3 آپشنز پر بتدریج عمل در آمد کیا جائے گا ۔ ان آپشنز میں امریکا کے ساتھ سفارتی تعلقات کو محدود کرنا اور افغانستان کے لیے امریکی حکمت عملی میں عدم تعاون شامل ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پاکستان کو دھمکی دینے اور بے جا الزامات عاید کرنے کے برعکس امریکی محکمہ خارجہ اور محکمہ دفاع پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو تسلیم کرتا ہے اور پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت کو بھی اچھی طرح سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ اور محکمہ دفاع کی طرف سے پاکستان کے خلاف ٹرمپ کے بیانات اور سخت رویہ کی مخالفت کی جارہی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشورہ دیا ہے کہ ''افغانستان کے معاملے میں پاکستان کو ساتھ لے کر چلیں ۔'' اس کیساتھ صدر ٹرمپ کو یہ بھی باور کر ایا گیا ہے کہ ''پاکستان کی طرف سے عدم تعاون سے امریکا کو افغانستان میں ہی نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیاء کے خطے میں نقصان ہوگا۔'' امریکی محکمہ دفاع نے صدر ٹرمپ کو یہ بھی انتباہ کیا ہے کہ ''اگر پاکستان نے صرف نیٹو سپلائی لائن منقطع کر دی تو افغانستان میں جاری آپریشن بری طرح متاثر ہو جائے گا۔'' یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ امریکا کے روئیے میں پاکستان کے خلاف پیدا ہونے والی تمام تر سختی اور بے چینی کے پیچھے اگر کوئی بڑی وجہ ہے تو وہ 'سی پیک' اور 'ون روڈ ون بیلٹ ' منصوبہ ہی ہے۔ اس کا اظہار امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی میں ان الفاظ کے ساتھ کر چکے ہیںکہ ''امریکا سی پیک اور ون روڈ ون بیلٹ منصوبے کا مخالف ہے کیونکہ اس منصوبے کا ایک حصہ پاکستان میں متنازعہ علاقہ سے ہو کر گزرتا ہے۔ ہمیں ایک مربوط حکمت عملی کے تحت امریکہ کا مقابلہ کرنا ہے'' یہ وہ اصل دکھ اور درد ہے جس کی وجہ سے امریکا، چین اور پاکستان پر بار بار مختلف الزامات کے تحت دبائو بڑھا رہا ہے۔ امریکا کے تھنک ٹینکس روس کے زوال کے بعد اس نکتہ پر متفق ہو چکے تھے کہ جب تک چین کو روس کی طرز پر دفاعی اورمعاشی اعتبار سے کمزور نہیں کر دیا جا تا ، اس وقت تک پوری دنیا پر بالا دستی کا امریکی خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا، بھارت اور افغانستان کیساتھ ملکر کسی بھی قیمت پر سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کوسبو تاژکرنا چاہتا ہے۔ امریکا اچھی طرح جانتا ہے کہ اگر یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ گیا تو امریکا کی دنیا پر اجارہ داری ختم ہوجائے گی اور نہ صرف چین دنیاکی نئی نمبر ون سپر پاور بن جائے گا بلکہ پاکستان بھی معاشی اور دفاعی اعتبار سے اپنے قدموں پر کھڑا ہو کر امریکا کی ''محتاجی'' سے ہمیشہ کے لیے باہر نکل جائے گا۔

متعلقہ خبریں