امریکہ میں تباہی سے سبق سیکھنے کی ضرورت

امریکہ میں تباہی سے سبق سیکھنے کی ضرورت

ریاستہائے متحدہ امریکہ جسے اپنے سپر پاور اور ترقیافتہ ممالک میں سرفہرست ہونے پر ناز رہاہے اور اس کا اپنی ترقی پر نازاں ہونا بنتا بھی ہے لیکن قدرت کے ایک تھپیڑے نے جس طرح امریکی ریاستوں کو تاراج کرکے رکھ دیا اور ساری حکومتی مشینری دیکھتی رہ گئی اس میں عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ بطور مسلمان یہ ہمارا ایمان ہے کہ انسان بے بس اور مالک حقیقی ہی چارہ دست اور ہرقسم کی قدرت و طاقت رکھتاہے۔ سمندری طوفان سے امریکی ریاستوں کی تباہی و بربادی کے مناظر اور تفصیلات وقتاً فوقتاً آتی رہی ہیں۔ تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ سمندری طوفان ارما امریکی ریاست فلوریڈا سے ٹکرا چکا ہے جس کے نتیجے میں بتیس لاکھ سے زائد مکانات بجلی سے محروم ہیں۔ ماہرین کے مطابق طوفانی ہوائیں 120 سے 209 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے جب بڑھیں گی تو ارد گرد کے جزیروں میں طوفانی لہروں کی بلندی پندرہ فٹ تک ہوسکتی ہے۔ دنیا میں اکثر و بیشتر ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جس کے نتیجے میں دنیا تباہی کا شکار ہوئی اور بے بس انسانوں نے ایک مرتبہ پھر غاروں سے زندگی کا آغاز کیا۔ عالمی تھا نیدار اور دنیا کو محکوم بنادینے والے ملک امریکہ کی حکومت کی بے بسی کا یہ عالم تھا کہ سخت وقت آنے پر حکومت نے ہاتھ کھڑے کردئیے اور اپنی بے بسی کا اظہار کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رعونت و تفاخر اور انسانوں کے بارے میں اس کے خیالات و اقدامات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ان کی د انست میں تو وہ ایک ایسے ملک کے صدر ہیں جس کی طاقت ہر مسئلے کا حل اور ہر قوت کو زیر کرسکتی ہے۔ مگر حالات نے ان کو اس امر کا اعتراف کرنے پر مجبور کرکے سرنگوں کردیا کہ اب ٹرمپ امریکی اداروں کی ناکامی کے باعث یہ تجویز دے رہے ہیں کہ لوگ چرچوں میں رقم جمع کرائیں اور لوگوں کی مدد کا بہترین طریقہ چیریٹی ہے۔ انسان کو اپنی قوت وطاقت کا کتنا گھمنڈ ہوتا ہے اور اس کی خود اعتمادی اور اسباب پر بھروسہ کس قدر ہوتا ہے مگر وقت آنے پر سب ہیچ ثابت ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ قدرت کو امریکہ کا دنیا سے رویہ اور ٹرمپ کی پابندیوں کو ہوا اور پانی سے اڑانا اور بہادینا مطلوب تھا جس سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ جس طرح وقت گزرنے پر ہمارے یہاں اداروں کے ناکام ہونے اور سارے کا سارا انتظام و انصرام دھرے کا دھرا رہ جانا معمول ہونے کے باعث تنقید کی زد میں رہتا ہے۔ امریکہ میں بھی اسی طرح کے حالات حیرت کا باعث ہیں لیکن اگر ہم مختلف میدانوں میں امریکی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ اس کی ناکامیوں کی طرف بھی دیکھیں تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ امریکہ کی ناکامیاں بھی کچھ کم نہیں۔ امریکہ ویت نام میں ناکام و نامراد ہوا، افغانستان میں اس کی مٹی پلید ہوئی اور پاکستان کے حوالے سے امریکہ اب جن پالیسیوں اور اقدامات کا عندیہ دے رہا ہے اس میں بھی اس کی ناکامی نوشتہ دیوار ہے۔ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کرکے دنیا کو محفوظ بنانے کا جو علم بلند کیا اس کے نتیجے میں دنیا ہی مزید غیر محفوظ نہیں ہوئی اور دہشت گردی کی جنگ پھیلی نہیں بلکہ خود امریکہ کو آج سب سے زیادہ خطرات کا سامنا ہے۔ دنیا میں کہیں بھی اس کے مفادات اور شہری محفوظ نہیں۔ کیا اس ساری صورتحال سے ہمیں سبق نہیں سیکھنا چاہئے۔ ہمارے ملک میں بھی خود کو عقل کل اور ہر شعبے اور ہر جگہ بالادست گرداننے والوں کی کمی نہیں جو چاہتے ہیں کہ ان کے تیور دیکھ کر چیزیں بدل جائیں۔ پاکستان کو ایک طرف جہاں اغیار سے مخاصمت کا سامنا ہے وہاں اندرونی طور پر بھی ایسے کردار موجود ہیں جن کی دانست ہی درست اور انا کی حکمت میں مصلحت ہوتی ہے۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے ملک و قوم کا کیا حال ہوتا ہے اس طرف توجہ اور سوچنے کا وتیرہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ناگزیریت کے معنی اب بدل چکے ہیں دنیا تبدیل ہوچکی ہے۔ کمزور و بالادست اور طاقتور میں تفاوت کتنا بھی ہو بعض اوقات بالادستیوں کی بالادستی ان کے لئے مشکل کا سبب بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دنوں کو پھیرنے پر قادر ہے۔ امریکہ میں تباہی صرف وہاں کی حکومت اور عوام کے لئے ہی قدرت کا پیغام نہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ یہ ہم سب کے لئے باعث عبرت اور آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے۔ اگر ہم عبرت حاصل کرنے والے بن جائیں تو اسی میں ہماری بقاء ہے۔ امریکہ جیسے ملک میں جہاں زندگی کی آسائشوں اور شہری معمولات میں تعطل آنے کی نہ تو گنجائش ہوتی ہے اور نہ کوئی وجہ باقی رہنے دی جاتی ہے۔ مگر اس وقت وہاں عالم یہ ہے کہ بتیس لاکھ سے زائد مکانات میں بجلی تک نہیں۔ معمولات زندگی درہم برہم ہوچکے ہیں۔ اس طرح کے حالات کی تیاری اور ان سے مقابلہ کرنا تو ممکن نہیں لیکن اس قسم کے حالات کی تیاری ضرور رکھنی چاہئے۔ حال ہی میں کراچی کے شہری جن حالات سے دو چار ہوئے وہاں بھی مکمل طور پر ناکامی اور عوام کو خدا کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی صورتحال تھی۔ کیا ہمیں اب بھی اپنی اصلاح کے لئے مزید نشانیوں کا انتظار کرنا چاہئے یا اپنے ارد گرد کے حالات سے سبق سیکھ کر خود کو بدلنے کی تیاری کرلینی چاہئے۔

متعلقہ خبریں