آتشزدگی کے واقعات میں حساس دستاویزات کی تلفی کا سلسلہ

آتشزدگی کے واقعات میں حساس دستاویزات کی تلفی کا سلسلہ

وطن عزیز میں ریکارڈ کی سوختگی کر کے معاملات پر پردہ ڈالنے کے الزامات پرانے نہیں بلکہ اسے کلین چٹ کی وصولی یا خود کو محفوظ کرنے کار اگر طریقہ گردانا جاتا ہے ضروری نہیں کہ عوام میں راسخ یہ افواہ نما خیال سچ اور درست ہو لیکن بہر حال اہم دستاویزات پر مبنی عمارتوں میںآتشزدگی اور ریکارڈ کا ضیا ع نہ کوئی الزام ہے اور نہ ہی حقائق اس کی نفی کرتے ہیں وفاقی ٹیکس محتسب کاا ہم ریکارڈ جل جانا اگر اتفاقی حادثہ بھی ہے تب بھی اس پر شکوک وشبہات کے اظہار کی گنجائش موجود ہے ۔ اس امر کی تحقیقات ہونی چاہیئے کہ اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع عوامی مرکز میں آگ کیسے لگی اور اس پر بروقت قابو کیوں نہ پا یا جا سکا ۔ اس نوعیت کے اہم اور حساس دفاتر میں آگ سے خبردار کرنے والے آلات نصب تھے یا نہیں اگر نصب تھے تو آگ کی بروقت اطلاع کیوں نہ مل سکی اور بروقت اقدامات کے ذریعے نقصان کو کم سے کم کرنے کی سعی کیوں نہ کی جا سکی اور اگر سرے سے آلات ہی نصب نہ تھے تو اسے المیہ ہی گردانا جائے گا ۔ بار بار کے اس طرح کے واقعات کے اعادے کے بعد بالخصوص اور علاوہ ازیں بالعموم اس امر پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے کہ اہم اور حساس دستاویزات کے حامل دفاتر اور گوداموں کی خاص طور پر حفاظت کی ضرورت ہے۔ ان مقامات کی انسانی اور مشینی دونوں نوعیت کی فول پروف سیکورٹی کا معقول بندوبست ہونا چاہیئے۔ اولاًآتشزدگی کے خطرات کے حامل عوامل ہی کو معدوم کرنے اور ہر ممکن طور پر حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے اور اگر خدانخواستہ کہیں دھواں نکلنے اور آگ لگنے کی نوبت آجائے تو اس کو فوری طور پر بجھا نے او رہنگامی اقدامات اختیار کئے جانے میں وقت کا ضیاع نہ ہو ۔ حساس عمارتوں پر چوکس عملہ نگرانی کیلئے دن رات مامورکر کے ان کی وقتاً فوقتاً نگرانی کی ضرورت ہے عملے کو چیک کرنے کا باقاعدہ نظام ہونا چاہیئے۔ انٹر نیٹ سے منسلک سی سی ٹی وی کیمروں سے ان کی نگرانی اب زیادہ مشکل بات نہیں رہی جدید سہولیات کی موجودگی کے باوجود ان کے عدم یا غلط استعمال کے باعث آگ کی بروقت اطلاع نہ ملنا اور آگ بجھا کر حساس دستاویزات کو بچانے میں ناکامی لمحہ فکریہ ہے ۔ اگر اسلام آباد ریڈ زون میں واقع کسی اہم عمارت میں آتشزدگی کے بعد کی صورتحال یہ ہے تو باقی عام عمارتوں اور جگہوں پر آتشزدگی کی کسی صورت میں کیا عالم ہوگا ؟ ۔
چالان چالان ہوتا ہے جس کسی کا بھی ہو
کبھی کبھار ٹریفک او رموٹر وے پولیس کی جانب سے چالان کرنے پر اسے غیر معمولی واقعہ قرار دینا اور اسے خبر کے طور پر پیش یا شائع کرنا یا اسے متعلقہ پولیس کی فرض شناسی پر محمول کرنا لغو امر تو ہے ہی اس سے اس امر کا تاثر ملتا ہے کہ یہ لوگ گویا قانون سے بالاتر ہیں اور اگر کوئی پولیس اہلکار ان کے خلاف کارروائی کرتا ہے تو یہ جرأت کا مظاہرہ ہے۔ ایسا ہر گز نہیں قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور سب کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک ہونا چاہیئے اور ایسا سلوک کسی فرض شناسی کے زمرے میں نہیں آتا بلکہ معمول کی بالکل اس طرح کی کارروائی ہے جیسا کہ عام ڈرائیوروں کا چالان کیا جاتا ہے۔ پولیس کے اعلیٰ حکام اور اس طرح کی کارکردگی کا میڈیا سے اشتراک کرنے والے اہلکاروں سے پوچھ گچھ کرنے کی ضرورت ہے اور اس کی ممانعت ہونی چاہیئے۔ قانون کی نظر میں جب وزیر اعظم اور عام شہری میں کوئی امتیاز نہیں تو کسی بڑی شخصیت کی گاڑی کا چالان چہ معنی دارد میڈیا کیلئے بھی اس طرح کی خبروں کی طرف رغبت سے اجتناب کرنا بہتر ہوگا ۔
افسوسناک واقعہ
خوازہ خیلہ میں ختم القرآن کی تقریب کے دوران مدرسہ کی چھت گرنے سے بائیس افراد کے زخمی ہونے کا واقعہ رنج دہ ہے۔ اس طرح کے واقعات قبل ازیں بھی رونما ہوچکے ہیں جس کی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ مدارس کی عمارتیں خستہ حال اور کمزور ہونے کے باوجود ان کی از سر نو تعمیر و مرمت کی طرف توجہ نہ دے کر طالب علموں کی زندگیوں کو خطرات میں ڈال دیاجاتا ہے۔ مدرسہ میں ختم القرآن کی تقریب میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کے پیش نظر اگر علمائے کرام اس طرح کے بابرکت محافل کا انتظام کسی مناسب جگہ پر مناسب انتظامات کے ساتھ کریں تو اس طرح کے حادثات کی روک تھام ممکن ہوسکے گی۔ توقع کی جانی چاہئے کہ علمائے کرام اور منتظمین مدارس دینیہ اس طرح کے بار بار کے واقعات کے پیش نظر آئندہ احتیاط کا مظاہرہ کریں گے۔مقامی انتظامیہ کو بھی اس ضمن میں اپنی ذمہ داری پوری کرنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ کسی غفلت کے ارتکاب کی گنجائش کو کم سے کم کیا جائے اور اس طرح کے افسوسناک واقعات کی ممکنہ روک تھام میں کردار ادا کیا جا سکے ۔

متعلقہ خبریں