دانشمند انہ ُتک

دانشمند انہ ُتک

پشاور کسی زمانے میں پھولوں اور پھلو ں کا شہر ہوا کر تا تھا ، آغا ز گرمی میں پشاور کے مشہور بازاروں خاص کر کا بلی دروازہ ، گھنٹہ گھر کے چوراہو ں پر پھلیا رے پھول اور غنچہ لٹکا ئے اورموتیا کے ہا ر آوازیں لگا کر بیچا کر تے تھے۔ پشاوری ثقافت کی اتنی دھوم تھی کہ ایک جہا ں میں سیر وتفریح اور خوش دلی کو دل پشاوری کا نا م دے دیا گیا تھا۔ اب وہ پشاور ماحولیاتی آلو دگی اور گندگی کے ڈلا ؤ میں سرفہر ست ہے علا وہ ازیں پشاور میں متعد د تاریخی یاد گار یں ہنو ز موجو د ہیں اگر پشاور کے تاریخی مقامات پر نظر دوڑائیں تو یہ بات کھل جاتی ہے کہ یہا ں نو ے فی صد یا د گا ریں یا تعمیر ات مسلمانو ں کے دور کی پائی جاتی ہیں اکا دکا یا دگار یں غیر مسلموںکی ہیں جن میں زیا دہ تر سکھ دور کی ہیں ، انہی تاریخی عمارت میں ایک مسجد طور قل بائے ہے ، جب کا بلی چوک سے لیڈی ریڈنگ اسپتال کے مشرقی دروازے سے داخل ہو ں تو بائیں ہا تھ یہ تاریخی مسجد ہے لیکن جیسے کمیشن خوروں اور اپنی کا رستانی کر نے والو ں کاشوق ہے تو اس مسجد کا بھی وہ حسن وجلا ل بگاڑ دیا ہے جو پر انی تعمیر میں عیا ں تھی۔ اب نئی عما رت بنا دی ہے ، اس مسجد میں دوقبریں بھی ہیں ایک طورقل بائے جنہو ں نے مسجد تعمیر کر ائی تھی اور دوسرے اس مسجد کے ممتاز اور بے بدل خطیب قاری عبدالسلا م کی ہے۔ ان کی آواز میں کیا اثر تھا کہ لوگ میلو ں دور ان کی قرات سننے ان کی امامت میں نما ز پڑھنے چلے آتے تھے ۔ اس تمہید کا مقصد یہ ہے کہ طورقل بائے اور قاری عبدالسلام دونو ں کا تعلق ترکستان سے تھا قاری عبدالسلام کا خاندان اب بھی پشاور میں آبا د ہے ۔ پشاور میں قیا م پاکستان سے قبل کئی تر ک خاندان آبا د تھے جو چین اور روس کے کمیونسٹ انقلا ب کی وجہ سے آکر پشاورآباد ہو گئے تھے ان میں سے کئی خاندان بعدا زاں نقل مکا نی کر کے افغانستان کے شمالی صوبو ں اور بعض ترکی منتقل ہوگئے تھے اور کچھ سوویت یو نین کا شیر ازہ بکھر جانے سے برسوں بعد اپنے وطن کو لو ٹ گئے ہیں۔یہ پشاورمیںبخاری کہلواتے ہیں ، ان میں وسطی ایشیا کی مسلم ریا ستو ں کے باشندو ں کے علا وہ وہ تر ک بھی ہیں جن کو چینی ترکستانی کہا جاتا ہے ۔ 

مد عا یہ ہے کہ جب سے برکس کا نفرنس کی دہشت گر دی کے بار ے میں قرار داد منظر عام پر آئی ہے تو پا کستان پرتبر ہ پڑ ھنے والوں کی دکا ند اری لگ گئی ہے اور انہو ں نے رٹا ہو ا راگ الا پنا شر وع کر دیا ہے کہ اس قرار د اد سے پاکستان کو دہشت گر د ملک قرار دیدیا ہے ،ٹاک شو کے ذریعے امریکی اور بھارتی مفادات کی وکالت کرنے والو ں کی دکا نداری لگ گئی ہے کہ پاکستان تنہا رہ گیا ہے ۔ پاکستان کی خاصی بدنا می ہو گئی ہے پاکستان کو دنیا میں دہشت گر د کے طورپر پیش کر دیا گیا ہے ۔ بھارت کی یہ بہت بڑی کا میا بی ہے وغیر ہ وغیرہ ، یہ اینکر پر سن جو خود کو پاکستان ہی نہیں بلکہ ایشیا کا سب سے عظیم دانشور تصور کر تے ہیں ان کے ایسے ہی دعوئوں سے قلعی کھل جا تی ہے کہ جغرافیہ اور تاریخ کا ایک ادنیٰ طالب علم بھی برکس کا نفرنس کے مضمو ن کے نفس کو جا نتا ہے ، قر ار داد میں مبینہ دہشت گر د تنظیمو ں کا نا م لیا گیا ہے کسی ملک کو براہ راست نہ تو ملو ث کیاگیا ہے اور نہ ہی اس کا نا م لیا گیا ہے اگر لشکر طیبہ اور جیش محمد کے نا م کے حوالو ں سے پاکستان کی جانب فکر جا تی ہے تو اس قر ار دا د میں ایسٹ تر کستان تحریک کانام بھی شامل ہے ، بھلا ان بے تکے دانشوروں کو کون سمجھا ئے کہ ایسٹ ترکستان کالعد م سوویت یونین کی ریاستو ں میں سے کسی ریا ست کا نام نہیں ہے اور نہ یہ کوئی الگ سے ملک ہے بلکہ ایسٹ ترکستان چین کا وہی صوبہ ہے جس کو اہل پشاور چینی ترکستان کا نا م دیتے ہیں اور اس صوبے کو سنکیانگ کے نا م سے بھی جانا جاتا ہے ، جغرافیہ کے حوالے سے ایسٹ ترکستان کہا جا تا ہے ۔ حیر ت کی بات یہ ہے کہ بعض اینکر پرسن نے تویہ تک کہہ دیا کہ ایسٹ تر کستان مو ومنٹ ترکی میں کا م کر رہی ہے۔یہ حال ہے پاکستان کے باخبر برقی میڈیا کا پاکستان تو برکس کا ممبر بھی نہیں ہے۔
بقول ان دانشوروں کے پاکستان کے خلا ف یہ قرا ر داد ہے تو اس تک بندی سے تو یہ چین کے خلاف بھی ہوئی جو نہ صرف برکس کانفر نس کا ممبر بھی ہے اور میزبان بھی تھا کیو ں کہ کانفرنس چین میں منعقد ہوئی تھی ۔جس تحریک کا قر ار دادا میں ذکر ہو ا ہے وہ چین کے صوبے سنکیا نگ میں سر گرم ہے جس کو ایسٹ ترکستان بھی کہا جاتا ہے ، سنکیانگ یا ایسٹ ترکستان سو فی صد مسلما ن آبادی کا حصہ تھا اور اس میں یغور نسل کے مسلما نو ں کی اکثریت تھی چین نے اس پر غلبہ حاصل کیا اور اس کی ہیئت بدلنے کی سعی بھی کی ۔ یغور نسل کے مسلما نو ں کے علا وہ یہا ں قازن نسل کے بھی مسلمان آبا دہیں جن کو وسطی ایشیا میں قازقستانی بھی کہا جا تا ہے ،جبکہ چینی نسل کے باشندوں کی آبا دی تھی جو ایک فی صد سے بھی کم تھی مگر چین نے جب سنکیانگ پر غلبہ پا یا اس کے بعد سے مسلم آبا دی کو اقلیت میں تبدیل کر نے کی غرض سے چینیو ں کو آبادکرناشروع کیا اور مسلمانو ں کو دور دراز علا قو ں میں منتقل کر نے کی سعی بھی کی تاہم اس وقت یغور مسلمانو ں کی آبادی چھیالیس فی صد رہ گئی ہے اور چینی آبادی بیالیس فی صد ہو گئی ہے تاہم چھ فی صد قازن نسل کے مسلما ن اب بھی آباد ہیں اس طرح اس علا قے میں آج بھی مسلمان اکثریت میں ہیں ، اس طرح دونو ں مسلما ن نسلو ں کی مل کر آبادی باون فیصد بنتی ہے ، ایسٹ ترکستان تحریک اس علاقے میں چین کے غلبہ سے نجا ت کے لیے تحریک چلا رہی ہے پہلے یہ لوگ چین سے بچنے کی غرض سے پاکستان بھی آجا یا کرتے تھے مگر حکومت پاکستان نے اس تحریک سے وابستہ افرا دکو پکڑ کر چین کے حوالے کیا جس کے بعد سے ان کی آمد تھم گئی ہے ،سنکیانگ کی آبادی اس وقت لگ بھگ اڑھائی کروڑ ہے تاہم اندازہ ہے کہ آئند ہ دس سالو ں میں میںچینیوں کی مسلسل آبادکاری سے جہا ں آبادی میں اضافہ ہو گا وہاںمسلمانوں کی آبادی اقلیت میں تبدیل ہو جا ئے گی ۔