ذکر ایک انتخابی حلقے کا

ذکر ایک انتخابی حلقے کا

آج کل لاہور کے حلقہ 120 میں ضمنی انتخاب کا ہنگامہ برپا ہے۔ یہ نشست محترم نواز شریف کی نا اہلی کی وجہ سے خالی قرار دی گئی ہے۔ اس نشست پر پی ٹی آئی' ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان مقابلہ ہوگا لیکن ہمارے دوست امیر بہادر خان بھی اے این پی کی جانب سے اس الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ ظاہر ہے اصل مقابلہ ن لیگ اور پی ٹی آئی کے درمیان ہوگا۔ دیگر امیدواروں کو ہم صرف خانہ پری ہی سمجھتے ہیں۔ گزشتہ عام انتخابات میں پی ٹی آئی کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد نے میاں نواز شریف کے 75ہزار ووٹوں کے مقابلے میں 50ہزار ووٹ لئے تھے اور اس طرح ن لیگ کے اس روایتی انتخابی حلقے میں اپنی موجودگی کا نقش قائم کیا تھا۔ شنید ہے کہ وہ اس کے بعد بھی اس حلقے کے مسائل میں دلچسپی لیتی رہی ہیں۔ اس بار یہ مقابلہ مزید سخت معلوم ہوتا ہے۔ بالیقین پی ٹی آئی کی امیدوار ن والوں کو ٹف ٹائم دیں گی۔ پرائیویٹ ٹی وی چینلز پر جو بقراطی تجزئیے پیش کئے جا رہے ہیں ان کے مطابق جیسے کہ عرض کیا گیا۔ یہ نون لیگ کا روایتی حلقہ ہے جس پر اس کے امیدوار مسلسل کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ چنانچہ اس بار بھی ان کے امیدوار کی کامیابی کو رد نہیں کیاجاسکتا۔ جبکہ سرکار کی تمام توانائیاں اس حلقے پر مرکوز ہوچکی ہیں جس کا ایک حالیہ ثبوت یہ سامنے آیا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ نے پی ٹی آئی کے جیل روڈ والے جلسے کے بارے میں بیان جاری کیا کہ اس میں آدھی کرسیاں خالی پڑی تھیں۔ گویا وزارت داخلہ بھی آج کل انتخابی مہم میں اپوزیشن کے جلسوں میں نشستیں شمار کرنے کے کام میں مصروف ہوگئی ہے۔ اس حلقے میں ن لیگ نے کیا ترقیاتی کام کئے اس کا ہمیں کچھ زیادہ علم نہیں البتہ اس علاقے کا جو نقشہ ٹی وی رپورٹوں میں پیش کیاجاتا ہے اس میں تو ہمیں ٹوٹے پھوٹے راستے اور گلیوں کے ابلتے گٹر ہی نظر آتے ہیں۔ پی ٹی آئی کی امیدوار آلودہ پانی کی بوتل ہاتھ میں لئے لوگوں کو بتاتی پھر رہی ہیں کہ اگر تم شفاف پانی پینا چاہتے ہوں تو ہمیں ووٹ دو۔ ہمیں معلوم نہیں کہ کامیابی کی صورت میں آئندہ آٹھ ماہ کے مختصر عرصے میں وہ کیا انقلاب برپا کر سکتی ہیں۔ پھر بھی اپنے طور پر ان کی ایک کوشش ضرور جاری ہے۔ ایک کوشش اے این پی کے امیدوار اور ہمارے دوست امیر بہادر خان کی بھی جاری ہے ۔ اس حلقے میں ہم پشتونوں کی آبادی کے بارے میں تو نہیں جانتے البتہ ہم امیر بہادر خان کو ذاتی طور پر جانتے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ لاہور میں مقیم پشتونوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کی ہے۔ ان کے مسائل حل کرنے میں پیش پیش رہے۔ کچھ ماہ پہلے لاہور میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہوئے وہاں محنت مزدوری کرنے والے پشتونوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہوئی' تجارت سے وابستہ بڑے کاروباری پشتونوں کے شناختی کارڈ بلاک کئے جانے لگے تو امیر بہادر خان نے پنجاب سرکار کی اس بلا جواز کارروائی کے خلاف آواز بلند کی۔ وہ گزشتہ 35سال سے لاہور میں مقیم ہیں۔ اس طویل عرصہ میں انہوں نے بقائے باہمی کی فضاء قائم کرنے کی کوشش کی ہے اس لئے لاہور کی انتظامیہ ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ وہ لاہور میں پشتونوں کے ایک غیر متعصب راہنماء کے طور پر جانے پہچانے جاتے ہیں۔ اسی بنیاد پر انہوں نے حلقہ این اے 120سے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ ہمیں ان کی کامیابی کے امکانات زیادہ نظر نہیں آتے لیکن ان کے حق میں پڑنے والے ووٹ بالیقین ان کی لاہور میں پشتونوں کے جائز مفادات کی حفاظت کا صلہ سمجھا جائے گا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج کے دور میں کسی ایک حلقے میں الیکشن کے اخراجات کا اندازہ اربوں روپے تک لگایا جاتا ہے۔ امیر بہادر خان جیسے عوامی حلقوں میں مقبول مگر مالی لحاظ سے کمزور امیدوار کے بس کی بات نہیں۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ لاہور کے حلقہ این اے 122موجودہ حکومت کے ابتدائی اڑھائی سالوں کے دوران دو بار انتخابی عمل سے گزرا جسے اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان کا مہنگا ترین الیکشن کہا گیا تھا۔ ہمیں لاہور کے حلقہ این اے 122 یا اب این اے 120 میں انتخابی مہم سے کیا لینا دینا کہ ہم یہاں وہ وہاں۔ مگر ایک عام پاکستانی کی حیثیت سے افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ ایک ضمنی انتخاب کے لئے اربوں روپے کے اخراجات ایک ایسے غریب ملک میں اٹھائے جاتے ہیں جہاں کی نصف آبادی کو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا۔ عید کے پر مسرت موقع پر بعض مفلس والدین اپنے بچوں کی معصوم خواہشات پوری نہ کرنے کی صورت میں موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔ غذائی قلت کے باعث مرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمارے پاس ڈینگی وائرس پر قابو پانے کے لئے وسائل میسر نہیں۔ ہم ایک غالب آبادی کو پینے کا صاف پانی فراہم نہیں کرسکتے وہاں ضمنی الیکشن میں اربوں روپے کے اخراجات موجودہ غیر منصفانہ غیر مساوی سیاسی' سماجی' معاشی نظام کے منہ پر ایک بھرپور تھپڑ ہے۔ مگر کوئی سوچے تو؟ ہم عوام بھی تو کھلونوں سے بہلتے اور ڈگڈگی پر اچھلنے والے تماشائیوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے اور ہم کو انتخابی نعروں سے بہت آسانی کے ساتھ بے وقوف بنایا جاسکتا ہے۔ بہر حال دیکھتے ہیں حلقہ این اے 120 کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔

متعلقہ خبریں