نقدآور فصل کے مسائل زدہ لوگ

نقدآور فصل کے مسائل زدہ لوگ

کچھ عرصہ قبل خیبر پختون خوا اور با لخصوص صوابی مر دان اور دوسرے قریبی علاقوں میں تمباکو لینے والی کمپنیوں نے اس علاقے میں تمباکولینے سے انکار کیا تھا ۔ جس کے خلاف اس علاقے کے کا شتکا روں نے جہانگیرہ پشاور روڈ کو کئی گھنٹوں کے لئے بند کیا ۔ بعد میں مقامی انتظامیہ اور پولیس کی مدد سے بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کو حل کیا گیا اور تمباکو کے مقامی کاشتکاروں کو یقین دہانی کرائی گئی کہ ان سے تمبا کو خریدا جائے گا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ خیبر پختون خوا کے سات اضلاع میں 80 فی صد تمباکو پیدا ہوتا ہے۔ جس میں صوابی میں 38 فی صد،مردان میں 25 فی صد، چا ر سدہ 15 فی صد، بونیر میں 6 فی صد، مانسہرہ میں 3 فی صد اور باقی دوسرے اضلاع میں 11فی صد تمباکو کی پیداوار ہے۔ خیبر پختون خوامیں تمباکو کی فی ایکڑ پیداوار دنیا کے دیگرممالک کی نسبت 14 فی صد اور وطن عزیز کے کئی علاقوں سے 22فی صد زیادہ ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ خیبر پختون خوا میںتمباکو کی صنعت سے ایکسائز ڈیوٹی کی شکل میں 115 ارب روپے اور صوبائی سطح پر 77 ملین روپے محصول وصول کرتی ہے۔وفاقی وزیر غلام دستگیر کا بھی کہنا ہے کہ ملک میں تمباکو کی صنعت سے پاکستان کی معیشت کو 100ارب روپے کا سہارا ہے۔یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ خیبر پختون خوا میںتمباکو کی صنعت سے 50 ہزار لوگوں کو براہ راست اور لاکھوں لوگوں کو بلواسطہ روز گار ملا ہوا ہے۔ خیبر پختون خوا میں تقریباً 98لاکھ ایکڑ زمین پر تمباکو کاشت کیا جاتا ہے۔ جس سے اعلیٰ قسم کا 95ہزار ٹن تمباکو پیدا ہوتا ہے۔خیبر پختون خوا کا ورجینا اور سفید پتے کا تمباکو پو ری دنیا میں مشہور ہے جو پاکستان کے علاوہ دنیا کے کسی خطے میں پیدا نہیں ہو تا۔یہاں یہ بات بھی سُننے میں آئی ہے کہ خیبر پختون خوا حکومت تمباکو خرید نے والے سنٹر جس میں 19 پی ٹی سی کے ہیں بند کر نے کا سوچ رہی ہے۔ایک ضروری بات یہ بھی ہے کہ پاکستان ٹوبیکو کمپنی خیبر پختون خوا کا 38 فی صد تمباکو خریدتی ہے جو تقریباً 35 ہزار ٹن بنتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ پچھلے سال صرف پاکستان ٹوبیکو کمپنی یعنی پی ٹی سی نے ٹیکس کی شکل میں حکومت کے خزانے میں 45 ارب روپے اورصوبائی حکومت کو تمباکو کے محصول کی شکل میں 77 ملین روپے جمع کرائے۔ اس میں کسی کو کوئی شک و شُبہ نہیں کہ تمباکو اوراس کی مصنوعات انتہائی مہلک اور مضر صحت ہے اور اس سے کئی پیچیدہ بیماریاں جس میں کینسر بھی شامل ہے پیدا ہوتی ہیں۔ مگر یہاں یہ بات بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ اس فصل سے زیادہ لوگوں کو روز گار ملا ہوا ہے اور اسکوکیش کراپ یعنی نقدآور فصل کہا جاتا ہے اور ہمارے کسان بھائی سال بھر اس فصل سے آمدن کی امید لگائے ہوتے ہیں اور اس فصل کی کما ئی سے اپنے بچے بچیوں کی شادیاں کرتے ہیں ۔ مختلف پیچیدہ بیماریوں کا علاج کرتے ہیں اپنے بچے بچیوں کے سکول اور کالج کی فیسیں ادا کرتے ہیں علاوہ ازیں تمباکو کی کمائی پر حج کے لئے جاتے ہیں۔ صوبائی اسمبلی میں قانون سازی سے پہلے حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ ان کسانوں اور کا شتکاروں کے لئے روز گارکے لیے بھی کوئی قانون سازی کرتے جو پہلے سے اس شعبے سے وابستہ ہیں ۔ کیونکہ جو لوگ اس شعبے سے وابستہ ہیں وہ تمباکو پر پابندی کے بعد کیا کریں گے ان کا ذریعہ آمدن کیا ہوگا۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ یا تو یہاں پر اُن کاشتکاروں کو قرضے فراہم کئے جائیںتاکہ تمباکو سے کمائی کا متبادل تلاش کر سکیں۔ اور یا ان اضلاع میںبڑی بڑی صنعتی قائم کرنے چاہئیں تاکہ لوگ ان میں اپنے لئے روزگار تلاش کر سکیں۔ ماضی میں صوابی گدون اما زئی میں پوست کاشت کی جاتی تھی۔ حکومت نے اس فصل کو تلف کرنے کے لئے کا رروائی کی ۔ فصل کو تو تلف کیا گیا۔ اور حکومتی وعدے کے مطابق یہاں پر گدون امازئی میں صنعتی علاقہ قائم کیا گیا۔ مگر کچھ عرصہ بعد مقامی ایڈمنسٹریشن کی ملی بھگت سے وہ صنعتی علاقے پھر پنجاب شفٹ کئے گئے اور مقامی لوگوں کے لئے روز گار کا جو اہتمام اور انتظام کیا گیا تھا وہ ان سے دوبارہ چھینا گیا۔ اور اب گدون امازئی کے پو ست کے کسان در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ اگر موجودہ صوبائی حکومت ان سات اضلاع میں جہاں پر تمباکو کی فصل کا شت کی جاتی ہے وہاں کوئی انڈسٹری لگانا چاہتی ہے تو وہ انڈسٹریاں اور صنعتیں کچھ عرصہ کے لئے نہ ہوں بلکہ وہ صنعتیں ہمیشہ کے لئے ہوں اور مقامی تمباکو کے کاشتکاروں کے ساتھ حکومت کا معاہدہ ہونا چاہئے کہ وہ کسی صورت ان صنعتوں اور سہولیات کو ان علاقوں سے واپس نہیں لیں گی۔ ابھی حکومت اور ٹوبیکو کے کسانوں اور کاشت کاروں کے درمیان ایک بد اعتمادی کی فضا ہے جسکو اعتمادکی فضا میں تبدیل کرنا ہوگا۔ بہر حال اس کالم کے تو سط سے میری صوبائی حکومت سے گزارش ہے کہ وہ کسانوں کے لئے ان علاقوں میں متبادل روزگار کا بندوبست کرے اگر واقعی موجودہ حکومت نے اس فصل کو اس علاقے سے ختم کرنا ہے۔تمباکو کسان کے خلاف اس ظلم کو ہر قیمت پر بند ہونا چاہئے۔

متعلقہ خبریں