آج کا نوجوان

آج کا نوجوان

upwork.com کے لئے کام کرتے ہوئے کی بورڈ پر میری تھرکتی انگلیاں فریاد کرنے لگتی ہیں تو تھوڑی دیر کے لئے کمپیوٹر کی کرسی پر نیم دراز ہو کر جب میں اوپر دیکھتا ہوں تو تہہ خانے میں میرے کمرے کی چھت کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ تہہ خانے میں بیٹھا آسمان کی وسعتوں کا کھوجی میں آج کا نوجوان ہوں۔ دیکھتا ہوں تو خود کو ایک ڈبے اور ڈربے میں بند پاتا ہوں۔ مگر میری سوچ اور کھوج کی وسعتیں مجھے پشاور میں اپنے گھر بیٹھے امریکہ میں ویب سائٹ پر کام کرکے ڈالر کمانے پر اکساتی رہتی ہیں۔ میں انگریزی لسان و ادب کاطالب علم ہوں۔ مجھے اپنے G.P.A کی بھی فکر ہوتی ہے۔ ہر نتیجے کے دن کلاس کی وہ نقاب پوش پیاری سی لڑکی اپنا نتیجہ بنانے کی بجائے جب Adil congrats you have got 3.43 CGPA کہہ رہی ہوتی ہے تو مجھے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی چند پوائنٹس کی برتری جاری ہے اور میں اس فاصلے کو مٹانا نہیں چاہتا کہ ان کے ساتھ میرے احترام کا رشتہ جو ہے۔

گوکہ میرے بابا جان اتنا کماتے ہیں کہ ہم اہل خانہ آسودہ حال زندگی گزار سکتے ہیں۔ لیکن کمانے کی جو سہولت مجھے اپنے کمرے سے باہر نکلے بغیر میسر ہے میں ارتکاب کفران نعمت کروں؟ ہر گز نہیں میں انگریزی لسان و ادب کا طالب علم ہوں کمپیوٹر اور میں دیرینہ ساتھی ہیں اور ڈی سی ایل میری لائف لائن۔ میں وکی پیڈیا سرٹیفائیڈ ہوں اور اپ ورک مجھے موقع دیتی ہے۔ گھر بیٹھے کمانے کا موقع ہے تو ضائع کرنے کو جی نہیں کرتا بلکہ اندر کوئی بیٹھا ہے جو بار بار مجھے ٹہوکے دے کر ابھارتا ہے جو بڑھ کر تھام لے میں اسی کا۔
اختتام ہفتہ جب بنک اکائونٹ میں غیر ملکی کرنسی کا چیک جمع ہوتا ہے تو ایک گونہ اطمینان ہوتا ہے کہ میں نے اپنے ملک کے لئے زر مبادلہ کمایا' فیس اور پاکٹ منی کے لئے رقم آگئی۔ میرے بابا جان خاموش طبع انسان ہیں بس ایک امتنان سے بھرپور نظر سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہتے ہیں۔ بیٹا شاباش! میری ماں کو تو میرے کیرئیر کی نہیں میری صحت کی پڑی ہوتی ہے۔ انگریزی لسان و ادب پڑھ پڑھ کے اور عالمی ویب سائٹس پر بولی لگا کر کام حاصل کرتے کرتے میری کھانے کی عادات اور اوقات بھی بدل گئے ہیں۔ پاکستان میں جب رات کو لوگ گہری نیند سو رہے ہوتے ہیں تو اہل یورپ جاگ رہے ہوتے ہیں۔ میں رات کے آخری پہر بھی کمپیوٹر کی سکرین پر آنکھ ٹکائے کسی آن لائن روزی روٹی کا منتظر ہوتا ہوں۔ کیونکہ انگریزوں کی کتاب میں بروقت کا بہت مول ہے بے وقت کا کوئی مول نہیں۔ مگر میری سادہ سی ماں کو یہ سمجھ نہیں آتی اس کو شکوہ رہتا ہے کہ اس کا بیٹا رات بھر الوئوں کی طرح کیوں جاگتا ہے۔ کھانا ٹھیک سے کیوں نہیں کھاتا۔ اس کی کھانے کی عادتیں اس کے دوسرے صاحبزادے کی طرح کیوں نہیں۔ جسے وہ ہر وقت کچن میں منڈلاتا ہوا دیکھتی ہیں پھر سوچ کا زاویہ بدلنے کے لئے میں تھوڑی دیر موبائل کے ٹچ سکرین سے چھیڑ خانی کرتا ہوں تو مجھے معلوم ہوتا ہے کہ جنریشن گیپ کس قدر بڑھ چکا ہے۔ ایک نوجوان نے اپنے دادا سے پوچھا' دادا جان ! پہلے لوگ کیسے رہتے تھے نہ کوئی ٹیکنالوجی تھی نہ کوئی جہاز نہ ٹرین نہ انٹرنیٹ' نہ کمپیوٹر' نہ ڈرامہ' نہ ٹی وی نہ اے سی' نہ گاڑیاں اور نہ ہی موبائل…؟دادا نے جواب دیا جیسے تم لوگ اب رہتے ہو' نہ نماز' نہ قرآن' نہ روزہ' نہ زکواة' نہ شفقت نہ محبت' نہ آداب نہ اخلاق' نہ شرم اور نہ حیا…
دادا جان نے تو مجھ پر پہاڑ گرا دیا اس پر مزید میں کیا کہوں۔ آپ بھی سوچئے کہ ہماری سمت کس طرف ہوگئی ہے۔ ہمیں جدیدیت کو اپنانے میں پیچھے نہیں رہنا چاہئے لیکن اپنے دین' اپنے مذہب اور اپنی اقدار کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا ہی ترقی اور جدیدیت ہوگی ورنہ کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی چال بھی بھول گیا۔ یہ انٹرنیٹ' یہ ٹویٹر اور یہ واٹس ایپ بری چیزیں نہیں ان کا استعمال برا نہیں ہونا چاہئے۔
ٹوئیٹر پر جائیں تو نئی سے نئی اور ایک سے ایک دلچسپ معلوماتی اور فکر انگیز بات سامنے آتی ہے۔ اردو دان دوستوں کے علم میں اضافہ کے لئے ایک واٹس ایپ شیئر کر رہا ہوں اس تبصرے کے ساتھ کہ اس طرح حقیقی ترجمہ کا مزہ خوب آیا۔آپ بھی یہ پڑھ کر کوشش کریں کہ اس طرح کے لطیف مزید ترجموں کی کی کتنی گنجائش ہے۔ بہر حال آج ہم انگریزی کے کچھ غیر ضروری استعمال میں آنے والے الفاظ کا ذکر کریں گے جن کے متبادل اردو کے خوبصورت الفاظ موجود ہیں۔
ہوائی حسینہ۔Air Hostess
دوائی حسینہ۔Nurse
پڑھائی حسینہ۔Lady Teacher
صفائی حسینہ۔Maid
اور سب سے اہم
لڑائی حسینہ۔Wife
دوستوں کی اس محفل میں گپ شپ رہے گی۔ نوجوانوں میں آج کل کیا ٹرینڈ چل رہا ہے۔ کیرئیر بنانے اور روز گار کمانے کے مواقع کا روایات سے ہٹ کر کیا امکانات ہیں۔ فری لانسنگ کے لئے کیاکیا جائے۔ ویب سائٹ بنانے کے لئے کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ کھیل اور فلموں کی بات کئے بغیر تو نوجوانوں کو متوجہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔ اپنا بہت خیال رکھئے' والدین کا احترام کریں' دوستوں سے خلوص برتیں اور پڑھائی پر بھرپور توجہ دیں۔حصول علم نوجوانوں کا سب سے بڑا منفعت ہونا چاہیئے ۔

متعلقہ خبریں