امن و امان کی صورتحال کا ایک مرتبہ پھر جائزہ لینے کی ضرورت

امن و امان کی صورتحال کا ایک مرتبہ پھر جائزہ لینے کی ضرورت


گزشتہ روز لوئر دیر کے علاقہ تیمر گرہ میں دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کے خلاف کامیاب کارروائی کے بعد ایک ہی دن کے اندر باجوڑ ایجنسی میں گاڑی کو نشانہ بنانا ڈی آئی خان میں ٹارگٹ کلنگ میں دو پولیس اہلکاروں کی شہادت 'کراچی میں دہشت گردوں کی فائرنگ میں ڈی ایس پی اور ڈرائیور کو دوران ڈیوٹی شہید کردینے کے واقعات سے کسی طور اس امر کا احساس نہیں ہوتا کہ وطن عزیز میں دہشت گرد عناصر کے نیٹ ورک کی بیخ کنی کرلی گئی ہے۔ ان واقعات سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ ایک پر اسرار خاموشی طاری رہتی ہے جہاں بھی امن قائم کرنے والے اداروں کی طرف سے کوئی کارروائی ہوتی ہے ۔ اس کا فوری رد عمل سامنے آجاتا ہے۔ لوئر دیر تیمر گرہ کے واقعے کے بعد باجوڑ' ڈیرہ اسماعیل خان اور کراچی میں سامنے آنے والا رد عمل قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے کھلا چیلنج ہے۔ یہ درست ہے کہ ملک میں دہشت گردی کی بڑی وارداتوں کا تدارک کرلیاگیا ہے ۔ اب پہلے کی طرح دھماکے نہیں ہوتے مگر ابھی تطہیر کا عمل پوری طرح سے باقی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایک مربوط نیٹ ورک کی موجودگی ہی میں ملک کے مختلف حصوں میں ایک ہی دن اسی طرح کے واقعات ممکن ہوسکتے ہیں۔ ممکن ہے یہ اتفاق ہو اور یہ کسی ایک گروہ کی جوابی کارروائی نہ ہو۔ اگر ایسا ہی ہے تب بھی ملک کے مختلف حصوں میں ایسے عناصر کی موجودگی ظاہر ہے جن کا پوری کوشش کے باوجود صفایا نہیں ہوسکا۔ اس ضمن میں کئی پہلوئوں پر غور کرنے اور ان اسباب و علل کو مد نظر رکھنے کی ضرورت ہے جو اس طرح کی صورتحال کا باعث بن رہا ہے۔ باجوڑ میں جس گاڑی کو نشانہ بنایا گیا اس کے حوالے سے تفصیلات دستیاب نہیں۔ البتہ سرکاری قلعے میں نماز جنازہ کی ادائیگی سے اس امر کا اندازہ ہوتا ہے کہ شاید جاں بحق افراد کا تعلق کسی سرکاری محکمے سے تھا۔ ڈیرہ اسماعیل خان اور کراچی میں پولیس افسر اور پولیس اہلکار ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے جبکہ پشاور اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں بالخصوص اور صوبہ بھر میں بالعموم اس کے ساتھ ساتھ قبائلی علاقوں میں غیر دفتری اوقات میں سرکاری شعبوں میں خدمات انجام دینے والے افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا تواتر سے نشانہ بنا یا جاتا رہا ہے۔ اس ساری صورتحال کے جائزے سے اس نتیجے پر پہنچنا غلط نہ ہوگا کہ دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوا ہے اور نہ ہی دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ صرف ان کی حکمت عملی اور طریقہ کار میں تبدیلی آئی ہے جس کے بعد عوامی مقامات اور عام افراد کو درپیش خطرات میں کمی ضرور آئی ہے مگر سرکاری اہلکار بدستور ان عناصر کے نشانے پر ہیں۔ سیکورٹی فورسز میں خدمات انجام دینے والے ہمارے ہی بیٹے اور بھائی اور اس دھرتی کے فرزند ہیں۔ ان کا دہشت گردوں سے مقابلہ اور دہشت گردوں کے ظاہری اور واضح ٹھکانوں اور یہاں تک کہ ان کی کمین گاہوں کا صفایا جب تک نہ ہو قوم کو اطمینان نصیب نہیں ہوگا۔ ہمارے تئیں جاری صورتحال میں اولاً ہمیں اس امر کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا کہ آپریشن ردالفساد کو مزید موثر کیسے بنایا جائے۔ اس کو کہاں تک وسعت دی جائے کہ دہشت گردی کے امکانات کو بھی معدوم کیاجاسکے۔ اس ضمن میں عوام اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کردار و عمل بنیادی عامل ہے جس پر توجہ کی ضرورت ہے۔ اس طرح سے ہی معاشرے میں ان کی نشاندہی اور ان کے خلاف موثر کارروائی ہوسکے گی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو عوام سے رابطے بڑھانے اور ان کے اعتماد میں اضافے کرکے حصول معلومات کے نظام کو موثر بنانا ہوگا۔ گلی محلہ کی سطح پر اس انتظام کو پھیلائے بغیر سہولت کار عناصر کی نشاندہی و بیخ کنی آسان کام نہیں۔ بہتر ہوگا کہ ہماری سول و عسکری قیادت اس معاملے میں ایک مرتبہ پھر مشاورتی اجلاس میں ان اقدامات کا جائزہ لے جو جاری صورتحال کے لئے ضروری ہوں۔جاری صورتحال سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ وطن عزیز میں قیام امن اور استحکام امن کو یقینی بنانے کے لئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔اس امر کا جائزہ لیاجاناچاہئے کہ بار بار کی کوششوں اور آپریشنوں کے باوجود اس طرح کے عناصر کیسے نظروں سے اوجھل ہوپاتے ہیں یا پھر اگر ایسا نہیں تو یہ لوگ کہاں سے ' کس طرح سے اور کن کی وساطت سے اپنے مطلوبہ مقامات پر پہنچتے ہیں اور موقع ملتے ہی کارروائی کرنے میںکامیاب ہو جاتے ہیں۔کہیں اس کی وجہ یہ تو نہیں کہ ہمارے اداروں اور خاص طور پر حساس معلومات اکٹھی کرنے والے اداروں کے درمیان معلومات کے فوری اور بروقت تبادلے کا معقول طریقہ کار موجود نہیں اور اگر موجود ہے تو اس پر عملدرآمد موثر طور پر نہیں ہورہا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان حالات سے نبرد آزما ہونے کے لئے طریقہ کار میں تبدیلی لانے اور حکمت عملی کو مزید مربوط اور بہتر بنانے کی ضرورت ہے جس کے تحت خفیہ اطلاعات کے حصول اور کارروائی کو اس حد تک یقینی بنایا جائے جس کے نتیجے میں دہشت گرد عناصر کو کارروائی کاموقع دئیے بغیر کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے۔

متعلقہ خبریں